نئے ضم شدہ اضلاع میں بھرتی کئے جانیوالے ڈاکٹروں کو خصوصی پیکیج دینگے ، محمود خان

نئے ضم شدہ اضلاع میں بھرتی کئے جانیوالے ڈاکٹروں کو خصوصی پیکیج دینگے ، ...

پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت سابق فاٹا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے ترقیاتی پروگرام پر اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ضم شدہ اضلاع میں تعلیم، صحت، کھیل، سیاحت ، بلدیات ، توانائی اور دیگر شعبوں میں ترقیاتی پلان پر غور وخوض کیا گیا اور تاحال پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ۔ ضم شدہ اضلاع کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنا کر اُنہیں فعال بنا نے اور ادویات کی فوری فراہمی کی ہدایت کی گئی۔ نئے اضلاع میں ڈاکٹرز کو پر کشش مراعات دینے کی بھی تجویز دی گئی ۔ہر محکمے کو اپنا پلان بناکر تیزی سے آگے بڑھنے کی ہدایت کی گئی اور سماجی خدمات کا ایک فعال خاکہ اور اُس پر فوری عمل درآمد کا روڈ میپ پیش کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ نئے اضلاع میں سکولوں ، ہسپتالوں اور دیگر سماجی اداروں کو جلد فعال کرنا ہے۔ انہوں نے ترقیاتی فلاحی پلان پر ٹائم لائن کے مطابق پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہاکہ 10 دنوں کے بعد پھر اجلاس ہو گا جس میں عملی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ ہم نے ضم شدہ اضلاع کے عوام کو ریلیف دینا ہے اور اُن کی تیز رفتار ترقی کا راستہ ہموار کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزراء محمد عاطف خان، شہرام خان ترکئی، تیمور سلیم جھگڑا، ہشام انعام اﷲ، اکبر ایوب، سلطان محمد خان ،وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے تعلیم ضیا ء اﷲ بنگش ، چیف سیکرٹری نوید کامران بلوچ ، انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین محسود، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا، انتظامی سیکرٹریز اور دیگر نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے سات نئے اضلاع میں آئین اور قانون کے مطابق مقامی حکومتوں کے نظام کیلئے بلدیاتی انتخابات کی تیاری کی ہدایت کی تاکہ مقامی سطح پر لوگوں کے مسائل حل ہوں ۔ میونسپل سروسز فعال ہوں ، حکومتی ادارے جنگ سے تباہ شدہ علاقے کے لوگوں کو جوابدہ ہوں اور سرکاری ملازمین مستعدی کے ساتھ اپنے کام انجام دے سکیں۔انہوں نے ضم شدہ اضلاع میں تعلیم اور صحت سمیت دیگر شعبوں میں خالی آسامیوں پر کنٹریکٹ پر فوری بھرتی کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ اس سلسلے میں خصوصی استشنیٰ دیں گے۔انہوں نے نئے اضلاع میں تمام محکموں اور خدمات کے شعبوں کا مکمل ڈیٹا جمع کرنے کی بھی ہدایت کی۔نئے ضم شدہ اضلاع کے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں ڈاکٹر ز اور عملہ کی پوسٹیں فور ی دے کر ایک مہینے میں فعال کرنے جبکہ ہسپتالوں میں میڈیسن کی فراہمی کیلئے وسائل فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔انہوں نے کہاکہ سات نئے ضم شدہ اضلاع میں میں بھرتی کئے جانے والے ڈاکٹروں کو خصوصی پیکج دیں گے۔تمام محکموں میں منظور شدہ پوسٹوں پر بھرتی شروع کی جائے اور اضافی پوسٹوں کی منظوری متعلقہ فورم پر فوری حاصل کرنی چاہیئے تاکہ اداروں کی فعالیت ان سات نئے اضلاع میں نظر آئے ۔ہر محکمہ اپنی ضروریات کا ایک مکمل پلان دے ، نئے اضلاع کے لوگوں کو ریلیف دیں گے ۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ ضم شدہ اضلاع کیلئے وسائل اور اس کا شفاف طریقہ کار استعمال کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعلیٰ نے نئے ضم شدہ سات اضلاع میں یونیورسٹیز ، کالجز خصوصاً میڈیکل کالجز اور سکولوں کے نیٹ ورک کا ایک جامع پلان دینے اور تعمیراتی حکمت عملی کا آغاز کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ ہم نئے اضلاع میں حکمرانی کا شفاف نظام دیں گے ، میرٹ پر فیصلہ سازی ہو گی۔اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ صحت اور تعلیم کے آزاد مانیٹرنگ یونٹ سسٹم کی نئے اضلاع تک توسیع ہو چکی ہے ۔ ٹیمیں نئے اضلاع میں موجود ہیں اور آئندہ دو ہفتوں میں سٹاف کی تعیناتی مکمل ہو جائے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سات نئے ضم شدہ اضلاع میں مقامی لوگ بھرتی ہوں گے اور وہاں کے نوجوانوں کو عمر اور تعلیمی استعداد میں رعایت دی جائے گی ۔ اجلاس میں نئے اضلاع میں سپورٹس، ٹوارزم کے پراجیکٹس جلد شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ 10 فروری 2019 سے سات نئے ضم شدہ اضلاع میں تمام کیٹگری کی سپورٹس سرگرمیاں شروع کر دی جائیں گی۔ علاوہ ازیں وہاں کلچر اور آرکیالوجی سرگرمیاں شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے اضلاع میں تحصیل کی سطح پر کھیلوں کے میدان یقینی بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ ضم شدہ اضلاع میں روزگار کی فراہمی کیلئے دستیاب وسائل کو استعمال میں لانے جبکہ انصاف روزگار سکیم کے تحت ایک ارب روپے کی خطیر رقم سے نوجوانوں کو بلاسود قرضے فراہم کرنے کا پلان پیش کیا گیا جس کے تحت پہلے سے قرضوں کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔ شعبہ تعلیم کے تحت 2500 آسامیاں مشتہر کی جا چکی ہیں ۔ ستوری دا پختونخوا سکالر شپ پروگرام متعارف کرایا جا رہا ہے جبکہ 21 ہائیر سیکنڈری سکولوں کی آئندہ چھ ماہ کے اندر شکل تبدیل کرنے اور سہولیات فراہم کرنے کی یقینی دہانی کرائی گئی ہے ۔ سات اضلاع کیلئے اکاونٹ فور بنا دیئے گئے ہیں۔ میونسپل خدمات کا بھر پور اور منظم انتظام کیلئے ٹینڈر ہو چکے ہیں، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مختلف شعبوں میں پراجیکٹس کی منظوری ٹائم لائن سے مشروط ہو گی۔ اجلاس میں نئے ضم شدہ سات اضلاع میں صحت کے اداروں ،300 مساجد کے ساتھ ساتھ اقلیتی عبادت گاہوں کی سولرائزیشن کی منظوری دی گئی اورجلد کام شروع کرکے مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔وزیراعلیٰ نے نئے ضم شدہ اضلاع کے ریمورٹ ایریاز میں موبائل ہیلتھ یونٹ متعارف کرانے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے ضم شد ہ اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کی فراہمی بہت جلد ممکن بنانے کی ہدایت کی ۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہر دس دن کے بعد ضم شدہ اضلاع میں کام پر پیشرفت کے حوالے سے مجھے آگاہ کیا جائے ۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ صوبے کے وسائل نئے اضلاع کی ترقی میں لگائے جا سکتے ہیں مگر نئے اضلاع کے فنڈز صوبے کے دیگر اضلاع میں خرچ نہیں ہوں گے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے ضم شدہ اضلاع میں 80 فیصد تباہ شدہ سکولوں کی بحالی مکمل ہو چکی ہے ۔ سکولوں میں طلباء کی تعداد کے مطابق تدریسی عملہ تعینات کیا جائے گا۔ مختلف شعبوں میں ابتدائی مرحلے میں تقریباًساڑھے 16 ہزار نئی آسامیاں تخلیق کرنے کی ضرورت ہے ۔ وزیراعلیٰ نے مذکورہ فیصلوں پر عمل درآمد فوری شروع کرنے اور تین مہینے میں مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ، آئی جی ، سیکرٹری فنانس اور دیگر کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔ کمیٹی پولیس اور دیگر اہلکاروں کی تعیناتی کیلئے طریقہ کار وضع کرے گی۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...