خیبرپختونخوا کمیشن برائے وقار نسواں نے کمیشن کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی

خیبرپختونخوا کمیشن برائے وقار نسواں نے کمیشن کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی

پشاور( سٹی رپورٹر)خیبرپختونخوا کمیشن برائے وقار نسواں نے کمیشن کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کمیشن نے خیبرپختونخوا میں خواتین کی حقوق کو یقینی بنانے کیلئے متعدداقدامات کئے جس میں خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی پر عملدارآمد کرنا، حالیہ انتخابات میں خواتین کی شرکت، صوبائی کابینہ سے گھریلوی تشدد کی روک تھام کے حوالے سے بل کی منظوری ،صوبے کے 23اضلاع میں کمیشن کے زیرنگرانی کمیٹی بنانے سمیت دیگراقدامات شامل ہیں۔یہ رپورٹ گزشتہ روزکمیشن کی پروگرام ڈائریکٹرآمنہ توحید نے پشاور پریس کلب میں میڈیا کے سامنے پیش کردی اس موقع پران کے ہمراہ روبینہ ، ایمل خان اور کمیشن کے دیگر عہداران بھی موجود تھے ۔آمنہ توحید نے سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کمیشن برائے وقار نسواں بننے کے بعدصوبے میں خواتین کی حقوق کو بالادستی اور ان کیلئے بنائے گئے قوانین پر عمل دارآمد کیلئے کوششیں کررہے ہیں جس کی نتیجے میں بہت کم عرصہ میں کمیشن نے بڑی کامیابی حاصل کی کمیشن نے صوبے کے خواتین اور لڑکیوں کی حقوق کو یقینی بنانے اور ان کو بااختیار بنانے کی پراجیکٹ میں عوام ، سول سوسائٹی، عوامی نمائندوں اور مختلف مکتبہ فکر کے لوگ کو آگاہی دی گئی جس کا مقصد معاشرے میں صنفی تشدد پر بہتر تریقے سے قابو پاسکے انہوں نے کہا کہ ہزاروں افراد جس میں بچے ، جوان اور خواتین کو آگاہی مہم میں اڈیو اور ویڈیو پروگرامز کے ذریعے خواتین کے حقوق اور گھریلوی تشدد کی روک تھام کے حوالے سے آگاہ کر چکے ہیں جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر گھریلوی تشدد پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی ہے انہوں نے کہاکہ کمیشن خواتین کے حوالے سے ایک سالانہ رپورٹ تیار کریگی جو حکومتی نمائندوں کو پیش کیا جائے گا اور اس کے مطابق پالیسی مرتب کی جائے گی انہوں نے کہا کہ کمیشن نے حالیہ انتخابات میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے کام کیا جس میں انہوں نے آن لائین سسٹم بنائی تھی اور جہاں پر بھی خواتین کو مشکلات تھے وہ بروقت حل کی ہیں جس میں اٹھارہ شکایات موصل ہوئے تھے جس کو بروقت حل کئے تھے اسی طرح شانگلہ میں خواتین ووٹ کی شرح دس فیصد سے کام تھی جس پر کمیشن نے آواز اٹھائی اور وہاں پر دوبارہ الیکشن کرانے کی کوشش کرکے اس میں کامیابی حاسل کی انہوں نے کہا ک کمیشن نے جولائی 2018سے دسمبر تک میڈیا مانیٹرنگ کا ایک پروجیکٹ کیا ہے جس کے مطابق صوبے میں جتنے خواتین پر تشدد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ان کا ایک جامع رپورٹ تیار کیا گیا ہے جس کے مطابق صوبہ بھر میں جنسی تشدد کے 5 کیسز جبکہ گنگ ریپ کے 4 کیسز رپورٹ ہوے ہیں اسی طرح قتل و اقدام قتل 51 کیسز اور غگ کے 2 کیسز ،ورک پلیس ہراسمنٹ کے 8 کیسز رپورٹ ہوے۔انہوں نے کہا کہ وومن کمیشن کی کوششوں سے خواتین پر گھریلوں تشدد کے حوالے سے بل پاس کرایاجوکہ بڑی کامیابی ہے ،وومن کمیشن نے وقار نسوا ں کیلئے 23 اضلاع میں کمیٹیاں بنائی ہے جو ضلعی سطح پر خواتین کے حقوق کیلئے کام کریگی انہوں نے کہا کہ تمام محکموں میں خواتین کیلئے الگ بیٹھنے ، کانے پینے، نماز کی جگہ کو فرہم کرنے سمیت دیگر سہولیات کو یقینی بنانے پر کام کیا جارہا ہے جو جلد مکمل ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ اقلیتی برادری کو قانونی حق دینے کیلئے بھی کمیشن کام کر رہاہے اور جلد اس میں کامیابی حاصل کرینگے۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...