میئر کے اختیارات سے متعلق کیس، سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے تحریری جواب طلب کر لیا

میئر کے اختیارات سے متعلق کیس، سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے تحریری جواب طلب ...
میئر کے اختیارات سے متعلق کیس، سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے تحریری جواب طلب کر لیا

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے میئر لاہور کے اختیارات سے متعلق کیس میں پنجاب حکومت سے تحریری طور پر جواب طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سر براہی میں بنچ نے میئر لاہور کے اختیارات سے متعلق کیس کی سماعت کی، میئر لاہور عدالت میں پیش ہوئے،عدالت کے رو برو انہوں نے موقف اختیارکیا کہ ٹاﺅنز کو زونز میں تبدیل کروانے میں 7 ماہ لگے ،لوگ مجھ سے سٹریٹ لائٹس اور گلیوں کا پوچھتے ہیں ،میئر لاہور کی جانب سے زبانی طور پرمتعدد نکات سے عدالت کو آگاہ کیا گیا ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فنڈز کے بغیر مقامی حکومتیں کیسے کام کریں گی ،اصل کام تو اب کولوکل باڈیز نے کرنا ہے لیکن اختیارات ہی نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ طیب اردوان نے کہا تھا 16 سال سے صدار وزیراعظم رہاہوں،انہوں نے کہا سب سے زیادہ بہتر عہدہ بطور میئر استنبول تھا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میئر کا بھی وہ ہی عہدہ ہے جو صدراور وزیراعظم کا ہے،اختیارات نہیں ہونگے تومقامی حکومتیں کیسے کام کریں گے ۔

اے اے جی پنجاب نے کہا کہ پنجاب حکومت سمجھتی ہے اختیارات واپس منتقل کریگی ،میئر لاہور نے کہا کہ مفلوج کر دیا گیا اور تمام اختیارات ایل ڈی اے کو دیئے گئے ہیں،دو سال سے اختیارات کیلئے جنگ لڑ رہا ہوں ،کمشنر، ڈپٹی کمشنر براہ راست میرے دفتر اور ملازمین پراثراندار ہو تے ہیں ،ہمارے دفتر کے ملازمین کا آئے روز تبادلہ کر دیا جاتا ہے ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میری سمجھ کے مطابق حکومت پنجاب تحریری جواب لینا ضروری ہے ،یہ چھوٹا مسئلہ نہیں ہے ابھی کوئی حکم دینا ممکن نہیں ہوگا،عدالت نے میئر لاہور کوتحریری طور پر معروضات پیش کرنے کا حکم دیدیا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بتادیں کہ میئر کے اختیارات کیا ہیں،عدالت نے میئر لاہور کو درخواست میں ترمیم کی اجازت دے دی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...