چینی قونصلیٹ پر حملہ کرنے والے دہشتگرد ماسٹر مائنڈ اسلم اچھو کے کیا لگتے تھے اور ان کے نام کیاتھے ؟ تہلکہ خیز انکشاف ہو گیا

چینی قونصلیٹ پر حملہ کرنے والے دہشتگرد ماسٹر مائنڈ اسلم اچھو کے کیا لگتے تھے ...
چینی قونصلیٹ پر حملہ کرنے والے دہشتگرد ماسٹر مائنڈ اسلم اچھو کے کیا لگتے تھے اور ان کے نام کیاتھے ؟ تہلکہ خیز انکشاف ہو گیا

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )پولیس نے چینی قونصلیٹ پر حملے میں ملوث پانچ دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا ہے اور تحقیقات بھی مکمل کر لی ہیں ۔ ایڈیشنل آئی جی کا کہناتھا کہ حملہ کرنے والے دہشتگردوں کی شناخت عبدالطیف ، حسین اور عارف عرف نادر کے نام سے ہوئی ہے ۔حملے کا ماسٹر مائنڈ اسلم اچھو کا واضح کردار سامنے آیا ہے جو کہ افغانستان میں مارا جا چکا ہے تاہم وہ مر چکا ہے یا نہیں یہ ایک الگ معاملہ ہے ، اسلم اچھو کی ٹیم میں قریبی رشتہ دار شامل تھے ۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ نے کراچی قونصلیٹ پر حملے پر پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ چینی قونصلیٹ پر حملے میں ملوث پانچ دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا ہے اور یہ حملہ سی پیک منصوبے میں دراڑیں ڈالنے کیلئے چینی قونصلیٹ پر کروایا گیا ، دہشتگرد عالمی سطح پر پیغام دینا چاہتے تھے کہ پاکستان محفوظ نہیں ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ تحقیقات میں بہت سے نام سامنے آئے ہیں جنہیں گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم ابھی ایک شخص کو گرفتار کرنا باقی ہے ، کالعدم بی ایل اے کراچی اور بلوچستان کے لوگ اس میں ملوث ہیں ، حملے کیلئے افغان سرززمین استعمال کی گئی ہے اور اس میں را بھی ملوث ہیں جبکہ حملے کا پلان افغانستان میں بنایا گیا ۔

ایڈیشنل آئی جی نے پروجیکٹر کے ذریعے دہشتگردوں کی تصاویر دکھائیں اور بتایا کہ رئیس نامی شخص کا کام ریکی کرنا تھا جس نے چینی قونصلیٹ کی ریکی کی ، چار دہشتگرد مختلف اوقات میں کراچی آتے رہے اور ریکی کرتے رہے ہیں ۔

حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ بلوچستان سے ٹرین کے ذریعے کر اچی پہنچایا گیا اور اسے بلدیہ میں رکھا گیا ، گھر حاصل کرنے کیلئے عارف کا نام استعمال کیا گیا اور حملے کے دن دہشتگرد عارف کے گھر سے ہی آئے تھے تاہم بروقت کارروائی کے دوران حملے کو ناکام بنا دیا گیا ۔

انہوں نے بتایا کہ گاڑی اوپن لیٹر پر تھی جس کی صورتحال سب سے سامنے ہے ،حملے کا ماسٹر مائنڈ اسلم اچھو کا واضح کردار سامنے آیا ہے جو کہ افغانستان میں مارا جا چکا ہے تاہم وہ مر چکا ہے یا نہیں یہ ایک الگ معاملہ ہے ، اسلم اچھو کی ٹیم میں قریبی رشتہ دار شامل تھے ۔

ان کا کہناتھا کہ دہشتگرد عملے کو یرغمال بنانا چاہتے تھے ، حملہ آوروں کی تصاویر ان کے موبائل فونز سے حاصل کی گئیں ہیں اور ہم ریلوے کو بھی اسلحہ کی روک تھام کیلئے خط لکھ رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ دہشتگردوں نے جعلی شناختی کارڈ بنوا رکھے تھے ، ان کے پاس دو دو شناختی کارڈ بنوا ئے ہوئے تھے ۔

اے آئی جی کا کہناتھا کہ اسلم اچھو نے اس سے قبل بھی اپنی موت کا ڈرامہ رچایا تھا تاہم اس وقت تک یقین نہیں کر سکتے جب تک اس کی لاش نہیں مل جاتی ۔ معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے قیادت بشیر زیب کو دیدی ہے ۔

مزید : اہم خبریں /قومی