اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 76

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 76
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 76

  

ایک رات خلیفہ وقت نے ملک الموت کو خواب میں دیکھ کر پوچھا ’’اب میری زندگی کتنی رہ گئی ہے‘‘ تو حضرت عزرائیل ؑ نے پانچوں انگلیاں اٹھادیں اور جب تمام لوگ خلیفہ کو اس کی تعبیر بتانے سے قاصر رہے، تو خلیفہ نے حضرت ابو حنیفہؒ سے اپنے اس خواب کی تعمیرپوچھی۔ آپ نے فرمایا

’’پانچ انگلیوں سے ان پانچ چیزوں کی جانب سے اشارہ کیا گیا ہے جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں۔ اول قیامت کب آئے گی؟ دوم بارش کب ہوگی؟ سوم حاملہ کے پیٹ میں کیا ہے؟ چہارم کل انسان کیا کرے گا؟ پنجم موت کب اور کہاں آئے گی؟

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 75 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

***

روایت ہے کہ شیخ نجم الدین اصفہانیؒ مکہ معظمہ میں کسی بزرگ کے جنازے کے ساتھ گئے۔ جب لوگ دفن سے فارغ ہوچکے تو تلقین کرنے والا بیٹھ کر تلقین کرنے ۔گا شیخ نجم الدینؒ ہنسے، حالانکہ ان کی عادت ہنسنے کی نہیں تھی۔

کسی نے آپ سے ہنسنے کا سبب پوچھا، مگر آپ نے اسے ڈانٹ دیا۔ پھر کچھ دنوں کے بعد خود ہی اپنے ہنسنے کا سبب بیان کیا۔ فرمایا ’’مجھے اس روز اس بات پر ہنسی آئی تھی کہ جب تلقین کرنے والا بیٹھا تو صاحب قبر نے کہا ’’اے لوگو! تمہیں تعجب نہیں کہ مردہ زندوں کو تلقین کررہا ہے۔‘‘

***

ایک مرتبہ حضرت معروف کرخیؒ بازار سے گزررہے تھے کہ انہوں نے ایک بہشتی کو یہ کہتے ہوئے سنا ’’اے اللہ! جو میرا پانی پی لے تو اس کو بخش دے۔‘‘

چنانچہ آپ نے نفلی روزہ کے باوجود پانی پی لیا اور جب لوگوں نے کہا کہ آپ کا تو روزہ تھا۔ تو آپ نے فرمایا کہ مَیں نے بہشتی کی دعا پر پانی پی لیا پھر انتقال کے بعد کسی نے آپ کو خواب میں دیکھ کر پوچھا ’’کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا؟‘‘ آپ نے فرمایا کہ بہشتی کی دعا سے مغفرت کردی۔‘‘

***

حضرت حمدون قصادؒ ایک مرتبہ رات کے وقت اپنے کسی دوست کی نزعی حالت میں اس کے سرہانے تشریف فرماتھے۔ کچھ دیر کے بعد وہ مرگیا تو آپ نے فوراً چراغ گل کردیا اور اس کے ساتھ ہی فرمایا

’’مرنے والا چراغ کا مالک تھا لیکن اس کی موت کے بعد اب یہ چراغ اس کے ورثاء کی ملکیت ہے اس لئے ان کی مرضی کے بغیر چراغ کو جلائے رکھنا درست نہیں۔‘‘

***

میاں داؤدؒ مظفر گڑھ کے زمیندار تھے۔ ایک دفعہ حضرت مخدوم جہانیاںؒ سیر کرتے ہوئے آپ کے گاؤں سے گزرے۔ آپ نے فرمایا

’’یہاں کوئی ایسا شخص ہے جو دودھ پلائے اور بھینس مروائے‘‘

کسی نے حامی نہ بھری۔ میاں داؤد نے سنا تو لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کیا ’’حضور! مَیں آپ کی خدمت میں دودھ پیش کروں گا۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’سوچ لو، بھینس سے ہاتھ دھان پڑے گا۔‘‘

میاں داؤد بولے ’’جی ہاں! یہ تو ایک بھینس ہے۔ اگر خدا کے نام پر جان طلب کریں تو اس سے بھی انکار نہیں۔‘‘

حضرت مخدوم نے فرمایا ’’بہتر ہے، دودھ لے آؤ۔‘‘

میاں داؤدؒ فوراً گھر آئے اور صاف ستھرے گلاس میں بھینس کا دودھ لے کر روانہ ہوئے اور چلتے ہوئے اپنے گھر والوں سے کہہ دیا کہ اگر بھینس مرنے لگے تو فوراً ذبح کردینا۔‘‘

چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ادھر حضرت مخدومؒ نے دودھ کا گلاس منہ سے لگایا اُدھر بھینس کے گلے پر چھری پھر گئی۔

اس واقعہ کو پانچ سال گزرگئے۔ میاں داؤد کی بھینس ایک سیاہ رنگ کی کٹی چھوڑ گئی تھی۔ وہ اس کی پرورش کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ جوان ہوگئی۔‘‘

اچانک ایک دن کسی نے آکر حضرت داؤدؒ کو بتایا کہ حضرت مخدومؒ پھر آئے ہیں اور کہہ رہے ہیں، کوئی ہے۔ جو درویش کو دودھ پلائے اور بھینس مروائے۔

’’پھر لوگوں نے انہیں کیا جواب دیا‘‘ آپ کے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا

ہم نے انہیں عرض کیا ’’صاحب ! ہماری تو ایسی ہستی نہیں ۔ اپنے اس مرید کو تلاش کیجئے، جس سے پہلے پلایا تھا۔‘‘

اس پر حضرت داؤدؒ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو حسب سابق دودھ پیش کیا۔ دوسری بھینس کے گلے پر بھی چھری پھرگئی۔

اس واقعہ کو چند دن ہی گزرے تھے کہ حضرت مخدومؒ نے پھر دورہ فرمایا۔ آپ کی پرجلال آواز سے گاؤں گونج اُٹھے ’’کوئی ہے جو درویش کو دودھ پلائے اور بھینس مروائے۔‘‘ کسی طرح یہ آواز میاں داؤد کے کانوں پر پڑگئی۔ وہ ازخود دوڑے دوڑے آئے اور بولے ’’حضرت! مَیں دودھ پلاؤں گا۔‘‘

حضرت مخدومؒ نے کہا ’’پھر اپنی نئی بھینس مروانا چاہتے ہو۔‘‘

میاں داؤد بولے ’’حضور! بھینس مرے یا جئیے مگر آپ کو دودھ ضرور پلاؤں گا۔‘‘

ضرور پڑھیں: پولیس پر توجہ دیں

یہ کہہ کر میاں داؤد غائب ہوگئے اور چند منٹوں میں دودھ لیکر آگئے۔ ادھر حضرت نے دودھ کو منہ لگایا اُدھر بھینس کی گردن پر چھری پھرگئی۔

اب حضرت مخدومؒ رخصت نہیں ہوئے۔ آپ کھڑے بھینس اور میاں داؤدؒ کو دیکھ رہے تھے۔ پھر کچھ سوچ کر میاں داؤد سے فرمایا ’’میاں داؤد! میرے پیچھے آؤ۔‘‘

اس پر حضرت مخدومؒ میاں داؤدؒ کو لے کر دریا پر جاپہنچے۔ حضرت مخدوم نے دریا کے پانی سے وضو کرکے نماز پڑھی اور پھر میاں داؤد کو مخاطب کرکے فرمایا ’’میاں داؤدؒ ! تمہاری بھینس کا کیا نام تھا۔‘‘

میاں داؤد نے جواب دیا ’’حضور! میری بھینس کا نام سوہنی تھا۔‘‘

حضرت مخدوم نے فرمایا ’’بہتر۔ اب دریا کی روانی کے ساتھ ساتھ چلتے جاؤ اور سوہنی سوہنی پکارتے جاؤ۔ مگر پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا۔‘‘

میاں داؤدؒ نے ایسا ہی کیا۔ تھوڑی دور پہنچنے کے بعد اس نے محسوس کیا کہ بے شمار بھینسیں پیچھے چلی آرہی ہیں۔ میاں داؤد نے اپنے دل میں خیال کیا کہ وہ اتنی بھینسیں لے کر کیا کرے گا ۔ اس خیال کے ساتھ ہی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بھینسوں کا یک گلہ پیچھے بڑھا آتا تھا۔ حضرت مخدوم نے پکار کر فرمایا ’’میاں داؤد تم نے یہ کیا کیا؟ اگر تم اسی طرح پیچھے دیکھے بغیر چلتے رہتے تو ہر طرف بھینس ہی بھینس دکھائی دیتیں۔‘‘

یہ حضرت مخدومؒ جہانیاں جہاں گشت اوچی تھے۔ میاں داؤد آپ کے مرید تھے جو بعدازاں پیر داؤدؒ جہانیاں کے لقب سے مشہور ہوئے۔

(جاری ہے )اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے