اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 111

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 111

  

گرودیو سوامی کمار گری نے اس رات اپنے سب چیلوں کو ایک بڑا روح افروز درس دیا۔ اس درس میں انہوں نے گناہ اور ثواب اور عبادت کی اصلیت کی بڑے روح پرور اور بلیغ انداز میں تشریح کی اور ہم سب کو تلقین کی کہ ہمیں گناہ کے خیال کو اپنے دلوں میں جگہ نہیں دینی چاہیے۔ برے خیالات کا روح کی پوری طاقت سے مقابلہ کرکے انہیں شکست دینی چاہیے۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 110 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

درست ختم ہوا تو گرودیو کمار گری مجھے اپنی جھونپڑی میں لے گئے۔ اس رات چاند جنگل میں چمک رہا تھا۔ ہر طرف ایک نور برس رہا تھا۔ وہ چوکی پر بیٹھ گئے۔ ان کی دائیں جانب چراغ چل رہا تھا۔ اس قسم کا نور اس پاکباز انسان کے چہرے سے بھی پھوٹ رہا تھا۔ کچھ دیر انہوں نے توقف کیا۔ آنکھیں بند کئے خاموش بیٹھے رہے۔ پھر آنکھیں کھولیں مجھے گیری نظر سے دیکھا اور کہا

’’وشال دیو!! میرا من کہتا ہے کہ اس رقاصہ رامائینی کو ایشور کی بھگتی کاپیغام سناؤ۔ وہ گناہ کے راستے پر جارہی ہے۔ اسے سیدھے راستے پر لاؤ۔ میں کل اس کے محل میں اسے ایشور بھگتی اور جوگ کا درس دینے پھر جاؤں گا۔ کیا تم میرے ساتھ چلو گے؟‘‘

میں کیسے انکار کرسکتا تھا۔ یہ ایک نیک کام تھا۔ میں نے کہا ’’گرودیو! میں آپ کے ساتھ ضرور جاؤں گا۔ آپ کے اپدیش سن کر ہزاروں انسان جو اندھیروں میں بھٹک رہے تھے سیدھے راستے پر آگئے۔ کیا خبر رقاصہ رامائینی بھی اپنی گناہ آلود زندگی کو چھوڑ کر نیکی کی راہ پر آجائے۔‘‘ گرودیو مسکرائے۔

’’مجھے یقین ہے میرے اپدیش سے وہ ضرور سیدھی راہ پر آجائے گی۔ اس کا من صاف ہے مگر وہ بھٹک گئی ہے۔‘‘

دوسرے روز گرودیو کمار گری نے مجھے ساتھ لیا اور ہم رقاصہ رامائینی کے محل میں پہنچ گئے۔ مجھے خوشی ہے کہ اسی بہانے اس حسین عورت کے درشن ہوگئے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھے رامائینی کے محل کا خواب پرور ماحول بہت پسند تھا۔ رامائینی، گرودیو کو دیکھ کر پہلے تو کچھ متعجب ہوئی۔ پھر اس نے انہیں اپنے کمراہ خاص میں بلوایا اور ہمارے آگے پھل اور پھول رکھے۔ پھر وہ باتیں کرنے لگی کہ ہمارے آنے کی وجہ دریافت کی۔ اس نے دلکش انداز میں مسکراتے ہوئے پوچھا

’’مہاراج! کیا پھر کوئی چیلا آپ کا مٹھ چھوڑ کر میرے سورگ میں آگیا ہے؟‘‘

مہاراج نے مسکرا کر کہا ’’نہیں رامائینی! اس بار ہم خود اپنی مرضٰی سے اپنا مٹھ چھوڑ کر تمہارے پاس آئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم پر تمہاری طرف سے ایک فرض ہے۔ ہم وہ فرض پورا کرنے آئے ہیں۔‘‘

اس کے بعد گرودیو کمار گری نے اپنا درس بڑی دل نشین اپدیش کے انداز میں شروع کردیا۔ رامائینی ایک دل ربا بے نیازی کے ساتھ ان کا درس سنتی رہی۔ صاف لگتا تھا کہ شاہی رقاصہ پر مہاراج کی باتوں کا کچھ اثر نہیں ہورہا۔ جب گرودیو نے اپنا درس ختم کیا تو اس نے ایک ادائے بے نیازی کے ساتھ اٹھتے ہوئے کہا

’’مہاراج! کیا آپ میرا رقص دیکھیں گے۔ اس رقص میں۔۔۔ رادھا اپنے سوامی کی جدائی میں بھگوان سے پرارتھنا کرتی دکھائی دے گی۔‘‘

گرودیو اٹھ کھڑے ہوئے ’’رامائینی! تمہارا رقص ہمارے لئے دلچسپی کا باعث نہیں ہوسکتا۔ ہم اپنے من میں ہر وقت بھگوان کی بھگتی میں مصروف رہتے ہیں۔‘‘

گرودیو مجھے ساتھ لے کر واپس اپنے مٹھ میں آگئے۔

دوسرے روز وہ پھر رقاصہ رامائینی کے محل میں اسے نیک ہدایت دینے کی غرض سے گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ اس روز بھی محل رقاصہ رامائینی کے کمرہ خاص میں جمی۔ گرودیو نے اپنا اپدیش شروع کیا اور رقاصہ رامائینی تخت پر نیم دراز بیٹھی ایک شان بے نیازی سے گرودیو کے اپدیش سنتی رہی۔ جب درس ختم ہوا تو وہ بالکل پہلے کی طرح تھی۔ اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ اسنے ایک بار پھر گرودیو سے اپنا رقص پیش کرنے کی اجازت طلب کی۔ گرودیو نے رقص دیکھنے سے انکار کردیا اور ہم واپس آگئے۔

گرودیو کمارگری بڑی ثابت قدمی سے اپنا فرض سمجھ کر رقاصہ رامائینی کو راہ راست پر لانے کی جدوجہد کررہے تھے۔ وہ ہر روز مجھے اپنے ساتھ لے کر رامائینی کے محل میں جاتے۔ اسے نیکی کی تلقین کرتے۔ نیک زندگی بسر کرنے کو کہتے۔ وہ خاموشی سے ان کا درس سنتی۔ ان کی خدمت کرتی اور پھر اپنی خواب گاہ میں چلی جاتی۔ اسی طرح دو ہفتے گزرگئے۔ رقاصہ رامائینی پر گرودیو کے اپدیش کا اثر ہونا شروع ہوگیا تھا۔ اب وہ خود گرودیو کو چھوڑنے محل کی سیڑھیوں تک آنے لگی تھی لیکن اس نے اپنی زندگی کے بارے میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ وہ مہاراج کی باتیں بڑے غو رسے سنتی۔ اب وہ بڑے ادب سے ان کے سامنے قالین پر روانہ آکر بیٹھی رہتی تھی۔ اپدیش کے دوران اس کی وہ پہلے والی بے نیازی جاتی رہی تھی۔

رقاصہ رامائینی کے محل میں ایک ادھیر عمر مگر توانا کسرتی بدن والا ایک رئیس آیا کرتا تھا۔ اس ہندو رئیس کی شہر میں کتنی ہی حویلیاں تھیں اور اس کے چاولوں کے کھیت افق سے افق تک پھیلے ہوئے تھے۔ یہ رامائینی کا پریمی تھا اور اس کے محل کا سارا خرچ وہی اٹھاتا تھا۔ اگرچہ شہر کا ہر رئیس رقاصہ رامائینی پر اپنی دولت لٹانے پر تیار تھا مگر رامائینی نے اس خاص ہندو رئیس کو اپنے لئے پسند کرلیا تھا۔ اس ہندو رئیس جاگیردار کا نام باسودیوا تھا۔ باسودیوا، رامائینی سے بیاہ کرنے کا خواہشمند تھا مگر رامائینی نے اسے صاف کہہ دیا تھا کہ وہ کسی سے شادی نہیں کرے گی۔ جاگیر دار باسودیوا، اس پر ہی خوش تھا کہ رامائینی ایسی مشہور شاہی رقاصہ نے جو کسی سے بات نہیں کرتی اسے اپنے محل میں آنے اور اس کے اخراجات پورے کرنے کی اجازت دے رکھی ہے لیکن اسے گرودیو کمار گری کا آنا بالکل پسند نہیں تھا کیونکہ اس طرح سے خدشہ تھا کہ کہیں رامائینی محل کی عیش پرور زندگی ختم کرکے بھکشی نہ بن جائے۔ مگر وہ گرودیو کو وہاں آنے سے منع نہیں کرسکتا تھا۔ وہ خود بھی گرودیو کمارگری کی مذہبی شخصیت سے مرعوب تھا اور اسے معلوم تھا کہ خود راجہ بکراجیت گرودیو کا دوست ہے اور ان کا بے حد احترام کرتا ہے۔ جاگیر دار باسودیوا ن ے دبی زبان میں ایک بار رامائینی کو گرودیو کی باتیں سننے سے منع بھی کیا۔ شروع میں تو رامائینی نے چہک کر کہا’’باسو دیوا! تم کیوں گھبراتے ہو۔ گرودیو ایک زاہد خشک ہے اور ایک زاہد خشک مجھے متاثر نہیں کرسکتا۔‘‘

لیکن جب اس تبدیلی کو جاگیردار باسودیوا نے بھی محسوس کیا کہ رامائینی پر گرودیو کے اپدیشوں کا اثر ہونے لگا ہے اور وہ ان کا بے حد احترام کرنے لگی ہے اور انہیں چھوڑنے ندی تک جاتی ہے تو اس نے ایک بار پھر رامائینی کو سمجھانے کی کوشش کی۔ اس پر رامائینی نے کسی قدر برہم ہوکر باسودیوا کو ڈانٹ دیا کہ خبردار آئندہ میرے ذاتی معاملات میں دخل مت دینا۔ میں کسی سے ملنے یا نہ ملنے میں آزاد اور خودمختار ہوں۔ اگر تمہیں اپنی دولت پر گھمنڈ ہے تو اپنی سونے کی تھیلیاں لے کر میرے محل سے نکل جاؤ۔ باسودیوا خاموش ہوگیا مگر دل میں اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ جس طرح بھی ہوسکے گا گرودیو کے کاٹنے کو اپنے راستے سے صاف کرکے رہے گا۔

(جاری ہے )اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار