40 سال تک ڈیم کیوں نہیں بنے؟ وزیر اعظم تحقیقات کراکے رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کو بے نقاب کریں: چیف جسٹس ثاقب نثار

40 سال تک ڈیم کیوں نہیں بنے؟ وزیر اعظم تحقیقات کراکے رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کو ...
40 سال تک ڈیم کیوں نہیں بنے؟ وزیر اعظم تحقیقات کراکے رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کو بے نقاب کریں: چیف جسٹس ثاقب نثار

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 40 سال تک ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان اس کی تحقیقات کرائیں اور ڈیم کی تعمیر کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو بے نقاب کریں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے پہلی بار ٹی وی انٹریو دیا جس میں انہوں نے ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایک کیس کی سماعت کے دوران انہیں بتایا گیا کہ لوگوں کو انتہائی مہنگے داموں ٹینکر کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ کوئٹہ میں کیس کی سماعت کے دوران پتا چلا کہ پاکستان میں زیر زمین پانی کی سطح بہت نیچے جاچکی ہے۔ ’ جب میں کوئٹہ سے واپس آیا تو اپنے کچھ دوستوں سے پانی کی کمی کے حوالے سے بات چیت کی ، سابق چیئرمین واپڈا شمس المک نے پانی کی کمی کے حوالے سے آگاہی دی اور بتایا کہ پاکستان اور اپنی آئندہ نسلوں کو بچانے کیلئے ڈیمز کی تعمیر کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ، اس کے بعد ہم نے ڈیم کے حوالے سے فیصلہ دیا‘۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہمیں پورا پانی نہیں مل رہا اور اگر اپنے حق کا پانی لینا ہے تو ڈیمز بنانے ہوں گے۔ ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے مجرمانہ طور پر غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں آبادی کے حوالے سے ہونے والے سیمینار میں وزیر اعظم عمران خان سے کہا کہ اس بارے میں تحقیقات کرائی جائیں کہ آخر 40 سال میں ڈیم کی تعمیر کیوں نہیں ہوسکی۔کالاباغ ڈیم متنازعہ ہوگیا لیکن بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی، ان کیلئے ہر سال بجٹ بھی مختص کیا جاتا رہا ہے، اس کے محرکات بے نقاب کرکے لوگوں کو بتانا ہوگا کہ کن لوگوں نے ڈیم نہیں بننے دیے۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد