سندھ میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ اپوزیشن کو دی جائے، حکومت کیسے اپنے کرپشن کے کیسز کی تحقیقات کرے گی:فردوس شمیم نقوی

سندھ میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ اپوزیشن کو دی جائے، حکومت کیسے ...
سندھ میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ اپوزیشن کو دی جائے، حکومت کیسے اپنے کرپشن کے کیسز کی تحقیقات کرے گی:فردوس شمیم نقوی

  


کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی ہماری تجاویز کے بر عکس بنائی گئی ہے،اب تک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نہیں بنی،سندھ میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ اپوزیشن کو دی جائے، حکومت کیسے اپنے کرپشن کے کیسز کی تحقیقات کرے گی؟۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےفردوس شمیم نقوی نے کہاکہ صوبہ سندھ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیرکو آئی ٹی کا مطلب تک پتہ نہیں ہے،صوبائی وزیراپوزیشن کے سوالوں کے جواب دینے میں ناکامی پرذاتیات پر اتر آئے،سوال جواب کے سیشن میں آئی ٹی کے صوبائی وزیر کا جواب دینے کا طریقہ درست نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سیف سٹی منصوبے پر کروڑوں روپے خرچ کرچکی ہے لیکن اب تک شہر میں کیمروں  کی تنصیب نہیں ہوسکی، یہ حکومت اس ایوان کے تقدس کو پامال کررہی ہے۔پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہاڈپٹی سپیکر صاحبہ کی طرف سے ایوان میں سویلین ڈکٹیٹر شپ نظر آئی سوال کیا آئی ٹی کا مطلب کیا ہے وہ جے آئی ٹی سمجھ گئے ،چوروں کو پکڑنے کے لیے جے آئی ٹی سینٹر کھولے جائیں، آئی ٹی سینٹر ہم کھول لیں گے،بھتہ دیکر سسٹم کے تحت وزیر لگ گئے پتہ کچھ نہیں،سندھ کی عوام ان سے پوچھے گی،سندھ کی عوام کے مسائل پر اپوزیشن متحد ہے،یہ پھر زمینیں انور مجید کو دینا چاہ رہے ہیں ،شہرمیں ہونے والی توڑ پھوڑسے ہمارا کوئی تعلق نہیں. انہوں نے کہا کہ سید مراد علی شاہ پر کرپشن کے الزامات ہیں ایک دفعہ پھر استعفیٰ کا مطالبہ دہراتے ہیں. متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما کنور ندیم نے کہا سندھ حکومت اجلاس چلانے میں سنجیدہ نہیں، ڈپٹی سپیکر جانبدار بن چکی ہیں،حکومت کی کرپشن پر پردہ پوشی کررہی ہیں، ایوان قائدے سے نہیں چل رہا،ہمارے توجہ دلاؤ نوٹس ختم کردیے گئے، صوبائی حکومت کی توجہ صرف کرپشن پر ہی ہے،اِنہوں نے رویہ درست نہیں کیا تو احتجاج جاری رکھیں گے. جی ڈی اے رہنما حسنین مرزا نے کہا اس اسمبلی نے پاکستان کی قرارداد پاس کی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی قربانی پر انہیں حکومت ملی،مراد علی شاہ کو اپنے شہید لیڈر کے معاہدے پر کھڑا نہیں ہونا، ہم تنقید برائےاصلاح کررہے ہیں، تیسری بڑی جماعت کو بیٹھنے کے لیے کمرہ نہیں ملا،سن کوٹہ پر بھرتی کئے ہوئے لوگوں کو بھی کہیں کہ کچھ رولز پڑھ لیں،یہ جمہوری ایوان ہے ہم غریب عوام کا مینڈینٹ لیکر ایوان میں پہنچے ہیں۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی


loading...