’’مولوی صاحب دعا کرائیں کہ جس جس نے کرپشن کی اس کی نسل نیست و نابود ہو ‘‘نصرت سحر عباسی کے الفاظ نے سندھ اسمبلی میں آگ لگا دی

’’مولوی صاحب دعا کرائیں کہ جس جس نے کرپشن کی اس کی نسل نیست و نابود ہو ...
’’مولوی صاحب دعا کرائیں کہ جس جس نے کرپشن کی اس کی نسل نیست و نابود ہو ‘‘نصرت سحر عباسی کے الفاظ نے سندھ اسمبلی میں آگ لگا دی

  


کراچی (آن لائن) سندھ اسمبلی میں جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کے الفاظ پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی ،پیپلز پارٹی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان گرما گرمی,ایوان کا ماحول کشیدہ، اپوزیشن کا ڈپٹی سپیکر کے رویہ اور صوبائی وزیر تیمور تالپور کےریمارکس پر ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ ،ایوان میں کوئی بھی توجہ دلاؤ  نوٹس پیش نہ ہوسکا، جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی اور پی ٹی آئی کے شاہنواز جدون کی جانب سے کہا گیا کہ ایوان میں دعا کرائی جائے کہ جس جس نے کرپشن کی اسکی نسل نیست و نابود ہو،پیپلز پارٹی اراکین کا دعا کے موقع پر سیاست کرنے پر شدید احتجاج۔

نجی ٹی وی کے مطابق سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے درمیان لفظی گولہ باری نے ایوان کو مچھلی منڈی بنا دیا۔وقفہ سوالات میں جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی  اورڈپٹی سپیکر ریحانہ لغاری کے درمیان نوک جھوک شروع ہوگئی جس پر وزیر پارلیمانی امور میکش کمار چاولہ نے کہا کہ وقفہ سوالات کو متنازعہ نہ بنایا جائے۔ نصرت سحر عباسی کا کہنا تھا کہ تھرمیں بچے اورمائیں مررہی ہیں، حکمرانوں نے کچھ نہیں کیا،سکھرسے کئی کال موصول ہوئی ہیں وہاں پانی نہیں ہے،حکمران تو کچھ نہیں کریں گے اللہ تعالیٰ خود ہی پانی دیدے۔نصرت سحر عباسی کی اس بات پر ڈپٹی سپیکر ریحانہ لغاری نے انہیں ٹوکا اور کہا کہ آپ سیاسی بات نہ کریں جس پر نصرت سحر عباسی نے شدید جذباتی انداز میں کہا کہ  ایوان میں دعا کرائی جائے کہ جس جس نے کرپشن کی اسکی نسل نیست و نابود ہو،جس جس نے سندھ کو لوٹا ،سندھ کے بچوں کو لوٹا ان کی نسلیں بھی تباہ و برباد ہو جائیں،اب تو دعا کا ہی آسرا ہے ۔شاہنواز جدون کا کہنا تھا کہ مولوی صاحب کرپٹ افراد کے نام لیکر دعا کریں اور جس نے نئے اور پرانے پاکستان کے عوام کو لوٹا انہیں کہیں پناہ نہ ملے۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نے دعا کے موقع پر سیاست کرنے پر سخت احتجاج کیا جس سے ایوان میں شور و غوغا شروع ہوگیا۔  انفارمیشن سائنس ٹیکنالوجی کے متعلق وقفہ سوالات کے دوران جی ڈی اے کے رکن اسمبلی عارف مصطفی جتوئی نے دریافت کیا کہ سندھ میں کتنے سرکاری آئی ٹی سینٹر ہیں ؟ عارف مصطفی کا کہنا تھا کہ انہیں جواب دیا گیا کہ سندھ میں کوئی آئی ٹی سینٹر نہیں ہے۔ صوبائی وزیر سائنس تیمور تالپور نے کہا کہ ہم آئی بی اے کے ساتھ ملکر آئی ٹی پروگرام چلا رہے ہیں۔ صوبائی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے پاس بہت سی سرکاری عمارتیں ہیں لیکن عوام کا پیسہ فضول خرچ کیوں کریں۔ عارف مصطفی جتوئی نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گنے کا ریٹ نہیں دلا سکی کم از کم ایک آئی ٹی سینٹر ہی کھلوا دے جس پر تیمور تالپور نے کہا کہ آپ شاید اخبار کم پڑھتے ہیں اخبار زیادہ پڑھیں تو اپڈیٹ رہیں گے۔ پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان نے دریافت کیا کہ آپ کے ٹریننگ سینٹر میں کیا ٹریننگ دی جاتی ہے اور وہاں کون سے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ خرم شیر زمان نے کہا کہ صوبائی وزیر سے سوال ساؤتھ کاکیا گیاہے اورجواب نارتھ کا آ رہا ہے ، ایوان میں اب آئیں، بائیں شائیں نہیں چلے گی حکومت کو اپوزیشن کے سوالوں کا جواب دینا پڑے گا۔ خرم شیر زمان کی تنقید پر صوبائی وزیر تیمور تالپور نے کہا کہ کچھ لوگوں نے شاید وزیر اعلیٰ ہاؤس میں کیٹرنگ کے ٹھیکے لئے اورلوگوں کو خراب کھانا کھلایا شاید ان سے ہضم نہیں ہو رہا۔اپوزیشن کےسخت رویے پر ڈپٹی سپیکر نے بھی اعتراض کیا اور کہا کہ ایوان کا ماحول خراب نہ کیا جائے۔انہوں نے ایم کیو ایم کے رکن صوبائی اسمبلی محمد حسین سے دریافت کیا کہ آپ آج کیا کھا کر آئے ہیں ؟ جس پر محمد حسین نے کہا کہ میڈم یہ خفیہ ہے۔قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آئی ٹی کے وزیر کہہ رہے کہ صوبے میں کوئی آئی ٹی کا سینٹر نہیں ہے۔ جس پر پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ نے لقمہ دیا کہ اب آئی ٹی کا نہیں بلکہ جے آئی ٹی کا دور ہے۔ وقفہ سوالات کے دوران ایک موقع پر عارف جتوئی نے وزیر آئی ٹی تیمور تالپور سے انوکھا سوال بھی دریافت کیا کہ وزیر آئی ٹی یہ بتا دیں کہ آئی ٹی کا مطلب کیا ہے ؟ عارف جتوئی کے سوال پر ایوان میں قہقہے بلند ہوئے۔وقفہ سوالات کے دوران نصرت سحر عباسی کوئی بات کہنا چاہتی تھیں ڈپٹی سپیکرنے انہیں بٹھانے کی کوشش کی اور کہا کہ آپ بیٹھ جائیں۔نصرت سحر عباسی نے صوبائی وزیر تیمور تالپور کے ایوان میں قابل اعتراض رویہ اپنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ سیاسی معزور ہیں۔اپوزیشن کے دیگر ارکان نے بھی نصرت سحر عباسی کے موقف کی تائید کی اور احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کرگئے اس دوران ارکان کی جانب سے پیش کردہ کوئی بھی توجہ دلاو نوٹس زیر غور نہیں آسکا۔اپوزیشن ارکان کو منانے کے لئے کوئی بھی حکومتی رکن باہر لابی میں بھی نہیں گیا اور وہ کچھ دیر بعد خود ہی واپس لوٹ آئے۔ اس موقع پر محمد حسین نے اس بات پر احتجاج کیا کہ ہمارے توجہ دلاؤ  نوٹس کو زیر بحث نہیں لایا گیا حالانکہ ہمارا واک آؤٹ علامتی تھا۔ ایوان کی کارروائی کے دوران ارسا کی ناکامی پر پیپلزپارٹی کی ہیر اسماعیل سوہو کی جانب سے ایک تحریک التواء پیش کی گئی جس پر بحث بدھ کے روز ہوگی ۔

ایوان کی کارروائی کے دوران تحریک لبیک کے رکن مفتی قاسم فخری کی جانب سے پارٹی مرکزی قیادت کو ایم پی او کے تحت نظربندی کے خلاف قواعد وضوابط کے بغیر ایک مذمتی قرارداد پیش کی گئی جس پر غور نہ کیا جاسکا۔ایوان کی کارروائی کے دوران ایم ایم اے کے رکن سید عبد الرشید اپنے ایک نقطۃ اعتراض پرسندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابوں میں 3900غلطیوں کی نشاندہی کی ان کا کہنا تھا کہ میں اپوزیشن کا حصہ ہوں مگر پوائنٹ سکورنگ کو بہتر نہیں سمجھتا ،جن غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان سے جملوں کا مطلب ہی تبدیل ہوچکا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان غلطیوں کی درستگی کی جائے ،ہم قومی زبان کے ساتھ زیادتی کررہے ہیں، اگر جان بوجھ کر ایسا کیا جارہا ہے تو یہ نظریہ پاکستان کے خلاف ہے۔ 

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی


loading...