معروف نعت خواں جنید جمشید کا طیارہ گرنے کی وجوہات سامنے آگئیں

معروف نعت خواں جنید جمشید کا طیارہ گرنے کی وجوہات سامنے آگئیں
معروف نعت خواں جنید جمشید کا طیارہ گرنے کی وجوہات سامنے آگئیں

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف نعت خواں اور دینی سکالر جنید جمشید کا طیارہ گرنے کی وجوہات سامنے آگئیں،سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ نے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی دونوں کو حادثے کا ذمے دار قرار دے دیا۔

سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ (ایس آئی بی) نے اپنی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں پی آئی اے کی جانب سے طیاروں کے منٹیننس کے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حادثے کا شکار ہونیوالے طیارے کے انجن نمبر ون کا پاور ٹربائن بلیڈ ٹوٹ کر طیارے کے انجن میں چلے جانے کی وجہ سے انجن بند ہوا اور طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔طیارے کی آخری جانچ اور مرمت حادثے سے 25 دن پہلے ہوئی تھی، اس وقت تک انجن کے پاور ٹربائن بلیڈز 10 ہزار چار گھنٹے چل چکے تھے، بلیڈز فوری تبدیل ہونا لازمی تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے فلائٹ سٹینڈرڈ ڈٍپارٹمنٹ نے طیارے کو درست طریقے سے چیک نہیں کیا اور پرواز کی اجازت دی۔حادثات کی تحقیقات کرنے والے ادارے سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ نے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی دونوں کو حادثے کا ذمے دار قرار دے دیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدقسمت طیارے کی آخری منٹیننس 11 نومبر 2016 کو ہوئی تھی۔ ایس آئی بی نے اپنی سفارشات میں پی آئی اے پر زور دیا ہے کہ وہ سروس بلیٹن پر سختی سے عمل کرے اور طیاروں کی منٹیننس کا عمل بروقت مکمل کرے، جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ فلائٹ سٹینڈرڈ ڈیپارٹمنٹ کو بہتر بنائے اور طیاروں کو کلیئرنس دینے کے اپنے مکینزم کو درست کرے۔واضح رہے کہ 7 دسمبر 2016 کو چترال سے اسلام آباد پرواز کرنے والا پی آئی اے کا اے ٹی آر طیارہ حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگیا تھا ، اس حادثہ میں معروف نعت خواں و مبلغ جنید جمشید اور ان کی اہلیہ سمیت 47 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

مزید : قومی