قانون کی نظر میں سب برابر ،محاذ آرائی کی سیاست ہماری پالیسی نہیں نہ ہی ہمیں کسی کو جیل میں بھیجنے کا اختیار ہے:شاہ محمودقریشی

قانون کی نظر میں سب برابر ،محاذ آرائی کی سیاست ہماری پالیسی نہیں نہ ہی ہمیں ...
قانون کی نظر میں سب برابر ،محاذ آرائی کی سیاست ہماری پالیسی نہیں نہ ہی ہمیں کسی کو جیل میں بھیجنے کا اختیار ہے:شاہ محمودقریشی

  

ملتان(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ محاذ آرائی کی سیاست ہماری پالیسی نہیں نہ ہی ہمیں کسی کو جیل میں بھیجنے کا اختیار ہے، عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کریں گے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر ایک بھی مقدمہ ہمارے دور کا بنا ہوا نہیں، ملک میں قانون کی حکمرانی ہے اور قانون کی نظر میں سب برابر ہیں،جب بھی عمران خان کو بلایا گیا وہ نیب میں پیش ہوئے حالانکہ ہماری نظر میں ہیلی کاپٹر کا کیس کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کچھ عناصر بے بنیاد شوشے چھوڑ کر جنوبی پنجاب صوبے کے قیام میں رخنہ ڈال رہے ہیں،ملتان اور جنوبی پنجاب کے میڈیا سے گزارش کروں گا  کہ اس بے بنیاد پروپیگینڈا کے خلاف اپنا کردار ادا کریں اور ایسے طبقات کی بات کو نظر انداز کریں، خواہش ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کو اپنی شناخت ملے،صوبے کے قیام کیلئے دو تہائی اکثریت کیلئے دیگر جماعتوں کا تعاون چاہئے، تحریک انصاف کی خواہش ہے تمام جماعتیں صوبے پر متفق ہوں،ماضی میں جنوبی پنجاب کے فنڈ دیگر صوبوں کو منتقل کئے گئے ، اب ایسا نہیں ہوگا، جنوبی پنجاب میں رواں مالی سال میں سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور ہماری کوشش ہے کہ جنوبی پنجاب کیلئے علیحدہ پبلک سروس کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد دیوالیہ معیشت ملی، تجارتی خسارہ غیر ملکی قرض اور تباہ کن ادارے ملے، پی آئی اے ، ریلوے  اورسٹیل مل سمیت تمام ادارے خسارے میں تھے، گزشتہ حکومت نے اس قسم کے اقدامات اور اعلانات کئے جن کا بوجھ ہمیں اٹھانا پڑا،اگر گزشتہ حکومتی پالیسیوں پر عمل کرتے تو عوام پر مزید بوجھ پڑتا،ہم نے کوشش کی جن ممالک سے دوستی کمزور ہوئی اس کو بحال کیا جائے،سعودی حکومت سے تعلقات بگڑ چکے تھے جو ہمارے اقتدار میں آنے کے بعد بہتر ہوئے،سعودی عرب نے ہماری مثبت خارجہ پالیسی کی بدولت 12ارب ڈالر کا پیکیج دیا، متحدہ عرب امارات اور چین نے بل تربیب تین اور دو ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا، ملائیشیا کے مہاتیر محمد23مارچ کو سرمایہ کاروں کے وفد کے ہمراہ پاکستان آرہے ہیں،وزیراعظم عمران خان 22جنوری کو قطر کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں،قطر نے ایک لاکھ پاکستانیوں کو ملازمتیں دینے کا اعلان کیا ہے جو کہ خوش آئند بات ہے،چین سے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ، بے روزگاری کے خاتمے کیلئے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،وزارت خارجہ اکنامک ڈپلومیسی کے ذریعے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کہا گزشتہ سال مشکل فیصلے کیئے، آئی ایم ایف کی شرائط نہیں مانی، اگر آئی ایم ایف کی شرائط مانتے تو عوام پر بوجھ پڑتا۔ انہوں نے کہا تحریک انصاف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملکی معیشت انتہائی کمزور تھی، ہمارے اقدامات اور پالیسیوں کی بدولت ملکی برآمدات میں 4فیصد کمی جبکہ درآمدات میں11فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا انڈیا اس وقت پریشانی میں مبتلا ہے، بہت سے بین الاقوامی ادارے انڈیا میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی پر حکومت پاکستان کے موقف کی تائید کررہے ہیں،کشمیر کے مسئلے پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں، اس سال تمام سیاسی جماعتیں یوم یکجہتی کشمیرملکرمنائیں گی،ہم نے کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کو ہر فورم پر اجاگر کرنے کی کوشش کی،کلبھوشن کیس حساس معاملہ ہے اور کیس عالمی عدالت میں ہے، اس پر قبل از وقت بات نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا افغانستان کے حوالے ہمارا موقف ہے کہ افغانستان میں امن طاقت کے ذریعے قائم نہیں ہوسکتا،افغانستان میں امن کیلئے وہاں کے تمام دھڑوں کو یکجا کرنا ہوگا، پاکستان افغانستان میں امن کیلئے صرف سہولت کاری کا کردار ادا کررہا ہے ان پر اپنا فیصلہ نہیں تھوپ سکتا،میں نے سینٹرل ایشیا ء کے تمام ممالک سے افغانستان میں امن کیلئے کردار ادا کرنے کو کہا ہے مگر کچھ قوتیں ایسا نہیں چاہتیں ، آج عمران خان کی وجہ سے امریکہ کا رویہ بھی تبدیل ہوا ہے اور امریکہ مذاکرات پر تیار ہواہے۔

مزید : قومی