حکومت جعلی اکاؤنٹس اورعلیمہ خان کی جائیداد سامنے آنے سے بوکھلا گئی ،سندھ میں لگای جانے والی چنگاری کسی کو نہیں چھوڑے گی:پلوشہ خان

حکومت جعلی اکاؤنٹس اورعلیمہ خان کی جائیداد سامنے آنے سے بوکھلا گئی ،سندھ ...
 حکومت جعلی اکاؤنٹس اورعلیمہ خان کی جائیداد سامنے آنے سے بوکھلا گئی ،سندھ میں لگای جانے والی چنگاری کسی کو نہیں چھوڑے گی:پلوشہ خان

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما پلوشہ خان نے کہا ہے کہ اومنی گروپ کو چھوڑیں ،یہ تو زکوۃ ،خیرات اور کینسر زدہ لوگوں کے چندے کے پیسے بھی کھا گئے ہیں، وفاقی حکومت نے سندھ کے ساتھ جنگ شروع کی ہے لیکن منطقی انجام ان کے پاس نہیں ہو گا ، حکومت الزام لگاتی ہے تو جوابی حملہ بھی برداشت کرے،تحریک انصاف کی حکومت وفاق کے ساتھ خطرناک کھیل کھیل رہی ہے،ریاست مدینہ کی بات کرنے والوں کو اس کے خدو خال بھی پڑھ لینا چاہئیں،تحریک انصاف کی ،حکومت جعلی اکاؤنٹس اورعلیمہ خان کی جائیداد سامنے آنے سے بوکھلا گئی ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پلوشہ خان نے کہا کہ معاملات اس نہج تک پہنچانے میں چند وفاقی وزرا کا ہاتھ ہے اور انہیں حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے،جے آئی ٹی رپورٹ جو ابھی عدالت میں پیش نہیں ہوئی اسے سامنے رکھ کر وفاقی وزرا کبھی سندھ کا پانی بند کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے،کبھی سندھ پر چڑھائی کی کوشش کی ،چند وزرا پھانسی کے پھندے لے کر ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر ملکی سیاست میں اشتعال اور اپنی عدالتیں لگاتے رہے۔پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پیپلز پارٹی کے ساتھ جنگ شروع نہیں کی بلکہ سندھ کے ساتھ  جنگ شروع کی ہے ،سندھ میں پیپلز پارٹی کے علاوہ سندھی قوم بھی ہے ،آپ پانی بند کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں،یہ بات مودی سرکار کرے تو سمجھ بھی آتی ہے لیکن وفاقی کی حکومت ایک صوبے کو کہتی ہے کہ ہم آپ کا پانی بند کریں گے ،سندھیوں کا ووٹ کم معتبر ہے ،جنگ شروع کرنے والا تو جنگ شروع کر دیتا ہے لیکن اس جنگ کا منطقی انجام اس کے ہاتھ  میں نہیں ہوتا ،مسلسل ایک صوبے کو پیغام بھیج رہے ہیں تو پھر حکومت کو ری ایکشن کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے،وفاقی وزرا کا سندھ میں داخلہ بند کرنا ایک چھوٹا آپشن ہے،سعید غنی نے اَز خود یہ بیان نہیں دیا ،اُنہوں نے یہ بات انتہائی سوچ سمجھ کر کی ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ وفاق کے ساتھ وہ خطرناک کھیل رہے اور وہ آگ لگانے جا رہے ہیں جو  آپ کو پتا نہیں کہ آپ کیا کرنے جا رہے ہیں؟وہ چنگاری لگا رہے ہیں جو اُدھر تو جلے گی ہی لیکن باقی بھی کسی کو نہیں چھوڑے گی ،یہی وہ حالات تھے جو ہم چاہتے تھے کہ نہ ہوں۔

پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ کوئی اٹھائی گیرا اور چوربھی سڑک پر چلتے ہوئے زکوۃ اور خیرات کے ڈبے پر ہاتھ  نہیں ڈالتا،اومنی گروپ کو چھوڑیں ،یہ تو زکوۃ ،خیرات اور کینسر زدہ لوگوں کے چندے کے پیسے بھی کھا گئے ہیں،یہ تو اس میں بھی سب کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں،ریاست مدینہ کے  لیڈر کی بہن کا ایک سکینڈل ہے اس  کے لئے کیا سزا ہے ؟اس کے لئے کون سی جے آئی ٹی ہے اور انصاف کا کیا تقاضا ہونا چاہئے ؟کیا اسے بھی اسی سیل میں نہیں بھیجنا چاہئے جہاں مریم نواز کو رکھا گیا تھا ؟فیک اکاؤنٹ کی جو بھرمار آئی ہے اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ثابت تو ابھی جے آئی ٹی بھی نہیں ہوئی ۔پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ علیمہ خان پبلک آفس ہولڈر تو نہیں تھی لیکن وہ جس بورڈٖ  پر بیٹھی تھیں اور جو پیسے آ رہے تھے وہ پیسے کسی کے گھر سے نہیں آ رہے تھے وہ عوام کے پیسے تھے ،ان پیسوں کے لئے دس دس سال کے بچوں نے چندہ دیا تھا ،جب آپ کسی ایسے بورڈ پر بیٹھے ہوں جہاں عوام کے پیسے آ رہے ہوں تو پھر آپ جوابدہ ہیں،ریاست مدینہ کی بات کرنے والوں کو اس کے خدو خال بھی پڑھ لینا چاہئیں ، ریاست مدینہ میں خلیفہ وقت کو کوئی بھی اٹھ کر سوال کر سکتا تھا لیکن یہاں کہا جاتا ہے کہ نیب کیوں سوال کر رہی ہے ؟کبھی ان کے جعلی اکاؤنٹ پکڑے  جا رہے ہیں،کبھی علیمہ خان کی امریکہ میں جائداد سامنے آ رہی ہے ،حکومت جعلی اکاؤنٹس اورعلیمہ خان کی جائیداد سامنے آنے سے بوکھلا گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کے باپ کا بھی کوئی حق نہیں ہے کہ وہ سندھ کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالے،ان کے کارنامے سیاہ صفحات میں لکھے گئے ہیں،اگر آپ مدینہ کی ریاست کی بات کرتے ہیں تو پہلا پتھر وہ اٹھائے جو خود پاک صاف ہے ،یہاں کوئی پاک صاف نہیں ،آپ کس طریقے سے دوسروں پر پتھر اٹھانا شروع کر دیتے ہیں؟۔پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو جس کیس میں نکالا گیا اس کیس کی کورٹ میں جس طریقے سے دھجیاں اڑ گئی ہیں وہ پوری دنیا نے دیکھا ہے،نوازشریف سے انتہائی گرا ہوا سلوک کیا جارہا ہے،نواز شریف سے جو سلوک کیا جا رہا ہے اس سے گری ہوئی اور چھوٹی حرکت کیا ہو سکتی ہے؟کسی مریض کو جیل میں ہیٹر نہ دینا کون سی مردانگی ہے؟ اس وقت ملک میں دوہرا نظام عدل چل رہا ہے ،پیپلز پارٹی دوہرے نظام کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی، تحریک انصاف فتوحات کے خواب دیکھنا چھوڑ دے ۔

مزید : قومی