جنگ نہیں، مذاکرات سے مسئلہ حل ہو گا!

جنگ نہیں، مذاکرات سے مسئلہ حل ہو گا!

  



امریکہ ایران کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات پر آمادہ اور امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لئے سنجیدہ بھی ہے۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کیلی کرافٹ نے اقوام متحدہ کے نام خط لکھا،جس میں انہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کو مارنے کے فیصلے کو دفاعی قدم قرا ر دیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ امریکہ امن مذاکرات کے لیے تیار ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی امن و امان کو نقصان سے بچانا اور ایران کو مزید جارحیت سے روکنا ہے۔ ایران کے سفیر ماجد تخت روانچی نے بھی خط کے ذریعے اقوام متحدہ کو یہی باور کرایا کہ ایران جنگ چاہتا اور نہ ہی کشیدگی بڑھانا چاہتا ہے تاہم کسی بھی جارحیت کی صورت میں دفاع کا حق ضرور رکھتا ہے۔ایران کا موقف تھاکہ اس کی طرف سے کیا گیا آپریشن فوجی اہداف کے خلاف تھا اوریہ دفاعی قدم تھا۔ دونوں ممالک ہی اپنی اپنی جانب سے کئے گئے حملوں کے حق میں اقوام متحدہ کے چارٹرکی شق 51 کا حوالہ دے رہے ہیں اور اس کو اپنی ڈھال بنا رہے ہیں۔اس شق کے مطابق کسی بھی ملک کو فوجی حملے کے جواب میں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے،گو کہ بعض حلقوں کے مطابق اس شق میں ابہام موجود ہے۔

ادھر وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی ایران اور امریکہ کے درمیان بہتر تعلقات کے خواہش مند ہیں،بلکہ اس سلسلے میں ہر ممکن کوشش کرنے کو بھی تیار ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان اب کسی دوسرے کی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا،اس بات کا اظہار وہ پہلے بھی صاف الفاظ میں کر چکے ہیں۔ ویسے بھی پاکستان،افغان جنگ میں حصے دار بننے کا مزہ چکھ چکا ہے اور اس کے اثرات سے بھی بخوبی واقف ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی مشرق وسطیٰ میں امن و امان قائم کرنے کے لئے جتے ہوئے ہیں اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے کر رہے ہیں۔

اس وقت مشرق وسطیٰ میں صورتِ حال کافی گھمبیر ہے، امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ ”بدلے“ کا خونی کھیل کھیل رہے ہیں، اپنے دفاع کے نام پر ایک دوسرے کو نشانہ بنانے میں مصروف ہیں، خدشہ ہے کہ انتقام کی یہ آگ خطے کو کسی بھی وقت خوفناک جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ویسے تو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی تاریخ چار دہائیوں پر مشتمل ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے دونوں ممالک عراق میں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے ہیں۔ ابھی چند روزقبل امریکہ نے بدلے کے نام پر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا،اس حملے کا حکم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیا اور کانگریس کو بھی اعتماد میں نہیں لیا تھا، ان کے نزدیک بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملے میں ایران کا ہاتھ تھا اس لیے یہ اس کا منہ توڑجواب تھا۔اپنی دانست میں جنرل سلیمانی کو مار کر انہوں نے ایران کی کارروائیوں کو محدود کرنے کا سامان کیا تھا،کیونکہ ایران کی خطے میں مضبوط حیثیت کی جنرل سلیمانی کی حکمت عملی اور گٹھ جوڑکے باعث تھی،لیکن چونکہ جنرل قاسم سلیمانی،سپریم لیڈر کے بعد ایران کی دوسری طاقتور شخصیت سمجھے جاتے تھے،لہٰذا ایران بپھر گیا اور اس نے سخت ردعمل کا اعلان کر دیا۔یہی نہیں بلکہ ایران کے مقدس شہر جمکران کی مسجد امام زمانہ میں سرخ پرچم بھی لہرا دیا گیا۔وہاں سرخ پرچم کا لہرانا باقاعدہ جنگ کا اعلان سمجھا جاتا ہے۔اس مسجد پر اس سے قبل کبھی سرخ پرچم نہیں تھا، لیکن قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد اس مسجد پر سرخ پرچم لہرایا دیاگیا۔اور پھرایران خاموشی سے نہیں بیٹھا، بلکہ اس نے امریکی فوج کے اڈے عین الاسد پرمیزائل سے حملہ کردیا۔ اور جس طرح صدر ٹرمپ نے جنرل سلیمانی پر حملے کے فوراً بعد اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر امریکی جھنڈا لہرا یا تھا اسی طرح ایران نے بھی ایرانی جھنڈا لہرا دیا،یعنی حساب برابر کر دیا۔

جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے فیصلے پر امریکہ کو دُنیا بھر میں تنقیدکا سامنا تو کرنا ہی پڑا، لیکن امریکہ کے اندر بھی اس فیصلے کی خاص پذیرائی نہیں ہوئی۔امریکی ایوان نمائندگان میں ایران کے ساتھ جنگ کے امکانات کو کم کرنے کے لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ والے اختیار کو محدود کرنے کی قرارداد پیش کی گئی،جس کے مطابق جنگ سے قبل کانگرس کی منظوری لازم ہو گی،جو کہ منظوربھی ہو گئی، اب یہ قرا دادسینیٹ میں پیش ہو گی،امریکی عوام نے بھی صدر کے اس اقدام پر بھرپور احتجاج کیا۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ امریکی اہل سیاست اور عوام کسی طور بھی امریکہ کی جانب سے ایک اور جنگ کے آغاز کے حامی نہیں ہیں،بلکہ پرانی جنگیں سمیٹنے کے خواہاں ہیں اور اسی عزم کا اظہار صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد کیا تھا۔

ان حالات میں امریکہ کی جانب سے غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش یقیناخوش آئند ہے،اب اگر امریکہ غیر مشروط مذاکرات کے لئے سنجیدہ ہے تو ایران کو بھی جوش کی بجائے ہوش سے کام لینا چاہئے اور مذاکرات کے ذریعے ہی معاملا ت کے حل پر غور کرنا چاہئے،تاکہ مشرق وسطیٰ پر چھانے والے جنگ کے گہرے بادل چھٹ سکیں۔ افغانستان میں طویل جنگ کے بعد بالآخر طالبان اور امریکہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ہی کوشش کر رہے ہیں۔ایک بات تو واضح ہے کہ بڑے سے بڑا تنازعہ، گہری سے گہری کشیدگی کا حل صرف اور صرف مذاکرات ہی ہیں۔ جنگ کسی بھی خطے کی ہو، کہیں بھی لڑی جائے اس کی حدت پوری دُنیا میں محسوس کی جاتی ہے،اب بھی ایران اور امریکہ کی حالیہ کشیدگی کی بدولت سونے اور تیل کی قیمت عالمی منڈی میں فوراً ہی بڑھ گئی۔یہ بات تمام ممالک کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ جنگ چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ختم ہوتی ہے اور ہر کسی کو اس میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔ کوئی بھی ملک طاقت کے بل پر یا اسلحے کے زورپر اپنی برتری ہرگزقائم نہیں کر سکتا۔

مزید : رائے /اداریہ