بلوچ بھائی کی گورنر ہاؤس آمد!

بلوچ بھائی کی گورنر ہاؤس آمد!
بلوچ بھائی کی گورنر ہاؤس آمد!

  



لاہور کا گورنر ہاؤس اب بھی قائم اور آباد ہے۔یہ تاریخی مقام متعدد شخصیات کے حوالے سے بھی یاد گار ہے،یہاں ملک امیر محمد خان جیسی ہستی رہی تو نواب صادق قریشی اور ملک غلام مصطفےٰ کھر نے بھی وقت گذارا، ہر شخصیت کے اپنے اپنے انداز تھے،ہم ایک رپورٹر کی حیثیت سے یہاں آتے جاتے رہے اور کوریج کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں، ہمیں غلام مصطفےٰ کھر اور گورنر الطاف حسین کے ادوار بھی یاد ہیں، جب یہاں محافل بھی ہوتی تھیں اور پھر مخدوم سجاد حسین کی حلف برداری بھی نہیں بھول پاتے، اس سلسلے میں دلچسپ کہانی بھی ہمیں یاد ہے کہ اپنے ساتھی مرحوم سید فاروق شاہ کے ساتھ ہم چنبہ ہاؤس میں اُس وقت کے وزیر قانون اقبال احمد خان سے ملنے گئے اور ان کے ساتھ بیٹھے حالات حاضرہ پر گفتگو کر رہے تھے کہ کوئی خبر مل جائے،جو بعدازاں ایک بیان ہی کی صورت میں مل سکی۔

اسی دوران خان صاحب کے عملہ سے ایک صاحب نے کارڈ لا کر دیا اور انہوں نے کہا ملاقاتی کو تھوڑی دیر بٹھائیں۔ سید فاروق شاہ اور ہم نے محترم اقبال احمد خان سے کہا کہ اگر کوئی اہم ملاقاتی ہے تو ان کو بُلا لیں،کیونکہ ہم آپ کا زیادہ وقت لیں گے۔انہوں نے بلایا تو مخدوم سجاد قریشی اپنے نوجوان صاحبزادے شاہ محمود قریشی کے ساتھ آئے اور صرف چند منٹ ٹھہرے، مخدوم سجاد قریشی نے اپنے صاحبزادے کا تعارف کرایا اور بتایا کہ شاہ محمود حال ہی میں تعلیم حاصل کر کے واپس آئے ہیں،ان کو آپ سے ملوانے لایا تھا، اقبال احمد خان(مرحوم) نے خوشی کا اظہار کیا اور شاہ محمود سے ہاتھ ملا کر شاباش دی۔مخدوم سجاد قریشی مختصر وقت کے لئے رُکے اور پھر اجازت لے کر چلے گئے، اقبال احمد خان نے کسی گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا تھا۔

اب یہ اللہ کی قدرت ہے کہ صرف دو ہفتے بعد ہی ہمیں دعوت ملی کہ نئے گورنر حلف لے رہے ہیں، تقریب کی کوریج کے لئے آئیں،ہم وقت پر پہنچ گئے اور دربار ہال جانے لگے تو ہمیں بتایا گیا، حلف برداری مسجد میں ہو گی، غالباً یہ پہلی اور آخری تھی۔ فاروق شاہ بھی مل گئے تو ہم جلدی جلدی گورنر ہاؤس کی مسجد میں پہنچ کر اگلی صف میں بیٹھ گئے، جب نئے گورنر کی آمد کا اعلان ہوا تو یہ مخدوم سجاد حسین قریشی تھے، جو بڑے کروفر کے ساتھ تن کر آئے اور فرشی نشست پر جلوہ افروز ہوئے اور حلف اٹھا کر گورنر بن گئے۔ انہوں نے کافی وقت گذارا، باتیں تو بہت ہیں تاہم ان سے منسوب ایک فقرہ زیادہ مشہور وا، جب ان سے ملنے والے ان کے پاس اپنے کسی کام سے آتے اور عرض گذارتے تو وہ ہاتھ ملا کر کہتے،”اللہ کریسی“ اور سائل کو رخصت کر دیتے،شاہ محمود قریشی انہی کے جانشین ہیں۔

بہرحال یہاں سب کے انداز اپنے اپنے رہے اور موجودہ گورنر چودھری محمد سرور کے انداز بھی انہی کے ہیں اور ان کے قہقہے اور ان کا انداز ان کی شہرت کے لئے کافی ہے۔برطانوی سیاست سے ابھرنے والے یہ کاشتکار گھرانے کے فرد دوسری بار گورنر ہاؤس میں تشریف لائے ہیں، پہلی بار تو مسلم لیگ(ن) کے تھے تاہم اب تحریک انصاف کے ترجمان اور رہنما ہیں،انہوں نے آج کے گورنر ہاؤس کو سماجی سرگرمیوں کا مرکز بھی بنا دیا ہے اور مہمان نوازی کر کے مطمئن اور خوش ہوتے ہیں۔ ہفتے اتوار کو جب یہ بڑا گھر عوام کے لئے کھلتا ہے تو یہ خود بھی ان میں آ جاتے اور خصوصاً بچوں کے ساتھ خوب قہقہے لگاتے ہیں،ان کی رہائش تو یہاں نہیں، لیکن میزبانی کے فرائض اور دفتری امور یہیں نمٹاتے ہیں،اب تو ان کی یہ محافل شہرت بھی حاصل کر چکیں،چودھری محمد سرور کے پولیٹیکل سیکرٹری میاں کاشف دوستوں کو مدعو کرنے کے فرائض بھی انجام دیتے اور ہمیں بھی یاد کر لیتے ہیں۔اس مرتبہ ان کا فون آیا تو بتایا کہ بلوچستان کے قائم مقام گورنر عبدالقدوس تشریف لا رہے ہیں اور معزز مہمان کے لئے ایک نشست کا اہتمام کیا گیا ہے،جو میڈیا کے ساتھ ہو گی۔ عبدالقدوس دراصل بلوچستان اسمبلی کے سپیکر ہیں جو گورنر کی عدم موجودگی میں قائم مقام گورنر کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں،

ان کے ساتھ میڈیا کی محفل اس لئے اہم تھی کہ تعلق بلوچستان سے ہے، جو اہم صوبہ ہے۔ بہرحال گورنر ہاؤس میں الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کے معروف حضرات موجود تھے، جن کی آمد بھی گورنر چودھری محمد سرور کی باغ و بہار شخصیت ہی کے باعث تھی، ہم بھی دفتر سے میحترم ایثار رانا صاحب کی ہمراہی میں یہاں حاضر ہو گئے تھے۔ اپنے بلوچ بھائی کا استقبال سبھی حضرات نے محبت و خلوص سے کیا اور جب سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو بھی بہت لحاظ رکھا گیا۔ایثار رانا اور حفیظ خان بھی سوال کرنے کے خواہش مند تھے، لیکن ان کی باری قریب بیٹھے حضرات لے اڑتے تھے یوں بھی ہم نے رانا صاحب سے کہا کہ وہ رہنے دیں، مہمان معزز کو میزبانی سے محظوظ ہونے دیں، گورنر چودھری محمد سرور نے ابتدا ہی میں بلوچستان کی اہمیت اجاگر کی اور کہا کہ یہ ایک اہم صوبہ ہے،جو معدنی دولت سے مالا مال ہے۔ یہاں بڑی کوشش اور قربانیوں سے حالات سنبھلے ہیں،انہوں نے پنجاب کی طرف سے بلوچستان کے بھائیوں کی خدمت کے جذبے کا اظہار کیا اور شعبہ تعلیم میں تعاون کی اپیل کی اور اپنی طرف سے اچھی یونیورسٹی کے قیام کا وعدہ کیا۔

قائم مقام گورنر عبدالقدوس نے اپنی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ اب بلوچستان مجموعی طور پر پُرامن ہے اور وہاں تعلیم کی ضرورت تو یقینی ہے،اس کے ساتھ ہی انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کے قیام اور مقصد کا ذکر کیا اور بتایا کہ سب جماعتوں کے اپنے اپنے منشور اور مقاصد ہیں۔ یہ جماعت خاص طور پر پاکستان کے لئے اور وطن کی محبت میں بنائی گئی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو مخصوص پروپیگنڈے کے ذریعے گمراہ کیا گیا اور وہ پہاڑوں پر بھی چلے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ اب ایسے افراد کو سمجھایا جا رہا ہے اور کوشش ہے کہ جس قدر حالات بہتر ہوئے ان سے بھی اچھے ہوں اور مکمل سکون و امن ہو جائے اور انشاء اللہ ہو گا، وہ بلوچستان کی ترقی کے لئے بھی مطمئن تھے۔ بلوچستان کے قائم مقام گورنر کے لئے یہ محفل بہت مفید تھی کہ مختصر وقت میں انہوں نے بھی مزید کچھ جانا اور ہمیں بھی بتایا۔یوں یہ محفل چاء کی پیالی اور لوازمات پر اختتام پذیر ہوئی۔ میاں کاشف کے مطابق انٹرٹینمنٹ کے اخراجات بھی ذاتی ہوتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...