جُرم تو بس اتنا ہے ……!

جُرم تو بس اتنا ہے ……!

  



نیب کے پکڑے ہوئے اکثر سیاست دان ضمانتوں پر رہا ہو رہے ہیں۔ نیب کی ”کارروائیاں“ جب کچہری، کورٹ، قاضیوں تک پہنچتی ہیں تو پر پرزے جلنے لگتے ہیں، پراسیکیوٹر سست رہ جاتے ہیں، سب شکنجے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور نیب کے دانت کھٹے ہو جاتے ہیں۔ بالا و اعلیٰ و عظمیٰ عدالتوں میں نیب معاملات و الزامات ثابت نہیں کر پاتا تو نتیجتاً نیب زیرو اور ملزم ہیرو ہو جاتا ہے…… اداروں کو دیکھ بھال کر اور خوب محنت و تحقیق کر کے ہی کسی پر ہاتھ ڈالنا چاہیے…… بالخصوص کسی سیاسی شخصیت کو سوبار سوچ بچار کے بعد کسی دوسرے پر الزام لگانا چاہیے، لیکن یہ کیسا دور آ گیا ہے کہ نئے پاکستان میں وزیرِ اعظم خود اور ان کے وزیر مشیر روزانہ الزامات کے تیروں کی بارش کر دیتے ہیں، طعنوں کے بم برساتے ہیں اور گالم گلوچ کے میزائل چھوڑتے رہتے ہیں۔ سابق صوبائی وزیر ِ قانون اور مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کے کیس کے حوالے سے ہمارے وزیراعظم اور وزیروں نے کیا کچھ نہیں کہا۔ مونچھوں سے پکڑ کر گھسیٹنے تک…… آج گھسیٹنے کا وقت آیا تو انگور کھٹے ہو گئے۔ بہت بری طرح سُبکی ہوئی ہے حکومت اور حکومتی اداروں کی۔آپ رانا ثناء اللہ پر بنایا گیا بھونڈا اور گھٹیا منشیات مقدمہ سامنے رکھ لیں۔وزیر شہریار آفریدی شکل و صورت کے اعتبار سے بڑے ہی معزز و معقول آدمی دکھائی دیتے ہیں۔ موصوف ٹی وی ٹاکروں اور پریس کانفرنسوں میں بڑے دبنگ انداز میں کہہ رہے ہوتے تھے…… ”جان اللہ کو دینی ہے“…… قسمیں اُٹھا اُٹھا کر یہ اعلانات فرما رہے ہوتے تھے کہ ہمارے پاس فوٹیج، ویڈیو اور ثبوت موجود ہیں جو وزیراعظم عمران خان صاحب کو بھی دکھا چکے ہیں، لیکن آج ٹھُس ہو گئے ہیں سارے ثبوت پھُس ہو گئے ہیں سب ثبوتوں والے بھی۔رانا ثناء اللہ ہر روز ٹی وی پر بیٹھ کر اس حکومت کو للکارتے ہیں کہ کدھر ہو، آؤ ثابت تو کرو، لاؤ ثبوت اور ویڈیو۔

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سینیٹر چودھری تنویر خان کے گھر کی دیواریں گرا دی گئیں اور توڑ پھوڑ کی گئی، ضلعی انتظامیہ، پنجاب پولیس اور اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کی ٹیمیں بھاری نفری اور ہیوی مشینری کے ساتھ سینیٹر چودھری تنویر خان کے گھر پہنچ گئیں اور آپریشن کر کے گھر کی دیواروں کو گرایا گیا۔ راولپنڈی ڈویژن، خطہ پوٹھوہار کے عوامی حلقوں نے اس کارروائی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور احتجاج کیا، جبکہ مزید احتجاجی مظاہروں کے خطرات بھی موجود ہیں۔وجہ اس کی یہ ہے کہ سینیٹر چودھری تنویر خان پورے پنڈی پوٹھوہار میں ایک ہمدرد عوامی سیاست دان کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔……چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سینیٹر چودھری تنویر خان کا گھر گرائے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملہ داخلہ کمیٹی کے سپرد کر کے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ سینیٹ کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی نے کہا ”کسی کا گھر گرانا ٹھیک نہیں۔ سینیٹر چودھری تنویر بسلسلہ علاج ملک سے باہر ہیں،ان کے گھر بغیر نوٹس چھاپہ مارا گیا اور گھر گرایا گیا ان کے خلاف نیب میں کچھ بھی نہ ملا تو یہ افسوسناک کارروائی کی گئی۔ جاوید عباسی نے کہا کہ سینیٹر چودھری تنویر کا جرم کیا ہے؟ اگر کوئی ہے تو اسے سامنے لایا جائے“۔ سینیٹر جاوید عباسی کی خدمت میں عرض ہے کہ رانا ثناء اللہ اور سینیٹر چودھری تنویر کا جرم تو بس اتنا ہے کہ یہ مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما ہیں، نواز، شہباز کے قریبی ساتھی ہیں اور یہ موسم مسلم لیگ(ن) کے لئے مناسب نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ پہلے بنی گالہ گھر تو ریگولرائز کر کے دکھائیں؟

راولپنڈی کبھی پی پی کا گڑھ تھا اور منی لاڑکانہ کہلاتا تھا، چودھری تنویر خان کی عوامی خدمت اور سیاسی حکمتِ عملی کی بدولت ہی راولپنڈی منی لاڑکانہ سے مسلم لیگ (ن) کا گڑھ بنا۔ یہ چودھری تنویر خان ہی کی کمال کارکردگی ہے کہ گزشتہ بلدیاتی انتخاب میں راولپنڈی کینٹ سے ایک سیٹ جماعتِ اسلامی، جبکہ باقی ساری کی ساری سیٹیں مسلم لیگ (ن) کے حصے میں آئیں اور پی ٹی آئی برے طریقے سے ہار گئی۔ سینیٹر چودھری تنویر خان کہتے ہیں کہ اتوار کو چھٹی کے روز رات کی تاریکی میں بغیر کسی لیگل نوٹس کے میرے گھر پر غیر قانونی آپریشن کر کے دیواروں کو گرا کر اور توڑ پھوڑ کر کے چادر اور چادیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا،یہ سراسر سیاسی انتقام اور جبر و ظلم ہے،حالانکہ ضلعی انتظامیہ کو حقائق کا پتا بھی ہے کہ ایک صدی سے بھی قبل کی بات ہے جب یہ زمینیں خریدی گئی تھیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟…… اس تبدیل شدہ نئے پاکستان میں ریاستی اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایک شرمناک حرکت سے ہماری شرافت کا مذاق اُڑایا گیا ہے، لیکن ہم اور ہماری مسلم لیگ (ن) نوائے حق ہیں، جسے دنیا کی کوئی طاقت دبا نہیں سکتی۔ سینیٹر چودھری تنویر خان نے مزید کہا کہ قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں اور جیت سچ کی ہو گی، جھکنے بکنے، ہار مانے والے نہیں ہیں، اللہ کے فضل و کرم سے کوئی نیچا نہیں دکھا سکتا۔ عزت و ذلت سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...