ایک صحت کارڈ

ایک صحت کارڈ
ایک صحت کارڈ

  



یہ سن سن کر اب کان پک،بلکہ ذہن ماؤف ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان میں تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔ حکومتی ترجمان کس قدر دیدہ دلیری سے اعلان کر رہے ہیں کہ پاکستان میں معاشی خوشحالی بس دروازے پر کھڑی ہے۔شاید پاکستان کا دروازہ بند ہے کہ اسے اندر آنے میں تکلیف محسوس ہو رہی ہے یا خوشحالی کے بازو اور ہاتھ زخمی ہیں کہ وہ دروازہ کھٹکھٹانے سے معذور ہے۔ہماری خصوصی مشیر برائے اطلاعات، جو کبھی آصف علی زرداری کی وزیر اطلاعات تھیں اور ایک ”زرداری سب پر بھاری“ کا نعرہ لگایا کرتی تھیں،ان دِنوں کپتان الیون کی فاسٹ باؤلر بن چکی ہیں۔اپوزیشن پر باؤنسر پر باؤنسر پھینکتی ہیں اور اپنے سابق باس آصف علی زرداری سمیت اپوزیشن کے ہر رہنما کو ڈاکو اور چور قرار دینے پر اُدھار کھائے بیٹھی ہیں،لیکن اچانک یہ کیا ہوا کہ گزشتہ روز انہوں نے مولانا فضل الرحمن سمیت اپوزیشن کو قومی معاملات اور مفادات کے حوالے سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ عطا کر دیا،جو آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے ترمیمی بل کی حمایت کے سلسلہ میں تھا۔ اب یوں نظر آ رہا ہے کہ ”مغربی محاذ پر سکوت ہے“۔

گزشتہ چند ہفتوں سے ملک میں حکومتی ایوانوں اور عوامی کوچوں میں زبردست افراتفری نظر آرہی تھی۔ حکومتی ایوان ایک ترمیمی بل کے حوالے سے گرم جوش تھے اور عوامی کوچے اور بازار آٹے، گیس، بجلی، پٹرول، مٹی کے تیل، سرکاری جرمانوں میں اضافوں کے حوالے سے نوحہ کناں تھے۔ سردی عوام کی ہڈیاں جھنجھوڑ رہی تھی اور چولہے گیس کے ہجر میں یخ بستہ تھے۔ کراچی میں بجلی کے نرخ یکایک 17 روپے سے زائد ہوئے اور پنجاب کے گلی کوچے گیس کی کمی کا شکار ہوئے، تنوروں پر عوام کا رش بڑھ گیا۔بچے بغیر ناشتہ کئے سکول جانے لگے اور واپسی پر دوپہر کے کھانے کو ترستے رہے۔ اُدھر ایوانِ حکومت اور سیاست دانوں کے گرم و نرم ڈرائنگ روم محفل آرائی سے دمکتے رہے۔خواجہ آصف، بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمن، چودھری تنویر، پرویز خٹک، فواد چودھری اور بس یہی وہ لوگ تھے، جو میڈیا پرگرجتے برستے ہی نہیں رہے، بلکہ قومی مفاد میں یکایک یکجہتی کا راگ الاپنے لگے، کسی کو بیس کروڑ عوام کی زندگی کا کچھ علم نہیں تھا، پارلیمینٹ میں کسی نے اس خوفناک مہنگائی کے نئے عفریت پر بات کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی، جو عوام کی زندگی کو نگل رہا ہے،انہیں کچھ اور معاملات کی فکر تھی، ہر کوئی کسی ”غیبی“ قوت کی نظرکرم کا طالب تھا اور جامے سے بڑھ کر حمائتی تھا، کسی کو عوام کی بے چینی کی کوئی فکر نہیں۔

گزشتہ ر وز میرے ایک دوست خالد فاروق اللہ کو پیارے ہوئے،لیکن ان کے ساتھ جو لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں ہوا اس کا مَیں عینی شاہد ہوں۔ان کے بہنوئی عاطف بٹ نے مجھے صبح سویرے فون پر بتایا کہ خالد سروسز ہسپتال میں زیر علاج ہے۔اس کا سانس ٹوٹ رہا ہے اور ہسپتال میں وینٹی لیٹر میسر نہیں آ رہا۔مَیں نے فوری طور پر اپنے دوست ڈاکٹر صغیر بلوچ کو فون کیا،جو ان دِنوں پی آئی سی میں ایک انتظامی عہدے پر ہیں۔انہوں نے مجھے ہسپتال پہنچنے اور متعلقہ ڈاکٹر سے بات کروانے کا کہا۔ہسپتال پہنچ کر مَیں نے عاطف بٹ کی بیگم اور خالد فاروق کی بہن ثوبیہ عاطف کے ہمراہ متعلقہ ڈاکٹر سے ملاقات کی اور ڈاکٹر صغیر بلوچ کی بات کروائی۔انہوں نے مدد کا کہا،لیکن ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ وینٹی لیٹر آئی سی یو میڈیکل اور آئی سی یو سرجیکل میں دستیاب ہیں،

لیکن وہاں کوئی بستر خالی نہیں۔ خالد فاروق کی بہن اور بھانجا منرل واٹر کی خالی بوتل دبا دبا کر اس کی سانس بحال کر رہے تھے۔سب گھر والوں کے ہاتھ تھک چکے تھے۔وہ گزشتہ بارہ گھنٹے سے یہ عمل دہرا رہے تھے۔ ڈاکٹر نے ”کال“ لکھ کر دی،جس میں میڈیکل اور سرجیکل دونوں وارڈوں میں کہیں بھی بستر فراہم کرنے کا کہا گیا، لیکن معاملہ شام تک انکار رہا۔ سرجیکل وارڈ میں بیڈ خالی ہوا تو متعلقہ سٹاف نے ”کال“پڑھے بغیر انکار کر دیا۔ وہ ایک جاں بلب مریض کو بیڈ خالی ہونے کے باوجود قبول کرنے سے انکاری رہے۔ ہسپتال کے ڈاکٹر ہمیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پھراتے رہے۔آخر کار گنگارام ہسپتال میں وینٹی لیٹر کا انتظام ہوا،لیکن میرا دوست گنگارام ہسپتال میں چند آخری سانس ہی لے سکا اور دُنیا چھوڑ گیا۔یہ ہے صحت کارڈ۔

مزید : رائے /کالم


loading...