ایران:امریکی عزائم

ایران:امریکی عزائم
ایران:امریکی عزائم

  



امریکہ کی حالیہ سیاسی تا ریخ میں ایسی کو ئی نظیر ملنا مشکل ہے،جس میں جنگ کا اعلان کئے بغیر کسی امریکی صدر نے کسی دوسرے ملک کے اعلیٰ عہدیدار یا حا ضر سروس جنرل کو قتل کرنے کا حکم دیا ہو، پھر اس قتل کے بعد پوری دُنیا کے سامنے اس کی ذمہ داری بھی فخر سے قبول کی ہو۔ایرانی ”قدس“ فورس کے رہنما قاسم سلیمانی…… اسامہ بن لا دن یا ابو بکر البغدادی کی طرح عالمی سطح پر مطلوب دہشت گرد نہیں تھے،اس کے بر عکس مشرق وسطیٰ میں قاسم سلیمانی نے القاعدہ اور داعش کو شکست دینے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا اور ان دونوں تنظیموں کے لیڈروں کو امریکہ نے ہی ہلاک کیا۔ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عراق اور ایران میں ہونے والے بڑے بڑے عوامی احتجاجات ٹرمپ انتظامیہ کے اس دعوے کی نفی کر رہے ہیں کہ قاسم سلیمانی ایک دہشت گرد تھے۔وہ ایک خود مختار اور آزاد ملک کے اعلیٰ ریاستی عہدیدار کی حیثیت سے عراق کے دورے پر آئے تھے اور خود عراقی وزیراعظم عبدل مہدی کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی سے ان کی اہم ملا قات ہونے جا رہی تھی اور وہ ضروری پیغام لے کر عراق پہنچے تھے، مگر عر اقی سالمیت کو پامال کر تے ہوئے قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا گیا۔توقع کے عین مطابق ایران نے بھی قاسم سلیمانی کی ہلا کت کا بدلہ چکتا کرتے ہوئے عراق میں دوامریکی فضائی اڈوں ”ایربل“ اور”عین الاسد“ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ غیر جانبدارذرائع کے مطابق ان حملوں میں کو ئی بڑا نقصان تو نہیں ہوا تا ہم ان دونوں اڈوں کی امریکہ کے لئے علامتی اہمیت ہے۔

جیسے امریکی صدر ٹرمپ نے 2018 ء میں عراق میں ”عین الاسد“کا دورہ کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عراق میں صورتِ حال اس کے کنٹرول میں ہے، جبکہ 2019ء میں ”ایر بل“ کے اڈے سے امریکہ نے داعش کے راہنما ابو بکر البغدادی کو ہلاک کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی۔امریکی صدر ٹرمپ نے عراق میں ان دو امریکی فضائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی قوم سے مختصر خطاب میں ایران پر مزید پابندیاں عا ئد کرنے کا اعلان کیا ہے،تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے رویے سے واضح ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کھلم کھلا جنگ میں نہیں اترنا چا ہتے…… ہمیں ان وجوہات کو سمجھنا پڑے گا، جن کے باعث امریکی صدر ٹرمپ نے جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے کا حکم دیا، کیونکہ قاسم سلیمانی کی رہنمائی میں ایران مشر ق وسطیٰ کے اندر اپنے اثر و رسوخ میں تیزی سے اضافہ کر رہا تھا۔ اب بنیا دی سوال یہی ہے کہ امریکہ مشر ق وسطیٰ میں ایران کے اثرو رسوخ سے کیوں خوف زدہ ہے؟ یہاں پریہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ اگر امریکہ حقیقت میں صرف ایران کے جو ہری پرو گرام پر ہی اپنے تحفظا ت رکھتا ہے اور اس کے ایران کی با بت کوئی سا مراجی عزا ئم نہیں تو پھر2015ء میں ایران کے ساتھ کیا گیا جو ہری معا ہد ہ کیوں ختم کیا گیا اور اس پر انتہائی سخت پابندیاں کیوں لگا ئی جا رہی ہیں؟

دوسری جنگ عظیم کے بعد امر یکہ نے خلیج فارس میں اپنے سیاسی اثرو رسوخ اور تیل کے ذخائر کے لئے جن تین اہم ممالک پر انحصا ر کیا……ان میں تیل پیدا کر نے والا سب سے بڑا ملک سعو دی عرب، امر یکہ کا اہم تر ین عسکری اور معاشی اتحا دی اسرائیل اور تیسرا جغرافیا ئی اہمیت اور قدرتی وسائل سے مالا مال رضا شاہ پہلوی کے دور کا ایران شامل تھے۔ اس دور میں سعودی عرب عسکری اعتبار سے ایک مضبوط ملک نہیں تھا، جبکہ اسرا ئیل چھو ٹا ملک ہو نے کے ساتھ ساتھ حر یف عرب ممالک کے حصار میں رہا۔یہ ایران ہی تھا، جو خلیج فارس کے علاقے میں امر یکی مفادات کے لئے کلیدی اہمیت کا حا مل تھا۔ سابق امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈا کٹر ہنری کسنجر اپنی کتاب…… White House Years …… کے پہلے حصے میں ایران کے اس امر یکی نواز کردارکا ذکر بڑی خوشگوار یادوں کے طور پر کر تا ہے۔ ا مر یکہ کو تیل کی بلا رکاو ٹ فراہمی، 1973ء میں جنوبی ویت نا م کی حمایت، 70ء کی د ہا ئی میں مغر بی یو رپ کی امداد، افر یقہ میں سوویت مخالف گر و پوں کی حما یت، سعو دی عرب، اردن، مصر اور خلیج فا رس میں امر یکی مخا لف انقلا بی قو توں کو کچلنے میں رضا شا ہ پہلو ی نے اہم کر دار ادا کیا۔ 1979ء کے انقلاب نے ایران کے اس امریکی نواز کردار کو جو ہری طور پر بدل کر رکھ دیا۔اس تبدیلی سے جہاں ایک طرف مشرق وسطیٰ میں امر یکی حلیف اسرائیل کا ایک مضبوط حریف ایران کی صورت میں سامنے آ گیا،وہاں اس انقلاب سے خلیج فا رس میں امر یکہ کے سیاسی و معا شی مفادات کو شد ید کاری ضرب لگی۔

بلاشبہ ”کا ر ٹر ڈکٹرائن“ (1980ء) افغا نستان پر سو ویت قبضے کی صورت میں سامنے آئی، مگر اس ڈاکٹرائن کو استوار کر تے وقت صدر کارٹر اور امر یکی انتظامیہ کی جا نب سے انقلاب ایران کے امر یکہ مخا لف کر دار اور اثرا ت کو بھی مد نظر رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ڈاکٹرا ئن کے تحت امر یکہ نے واضح کر دیا کہ وہ خلیج فا رس میں اپنے مفا دات، با لخصوص تیل کی ترسیل میں کسی رکا رٹ سے بچنے کے لئے عسکری کارروائی سے بھی گر یز نہیں کرے گا۔اس ڈاکٹرا ئن کو پیش کر نے کے فورا بعد امر یکہ نے عراق کی جا نب سے آٹھ سال تک ایران پر جنگ مسلط کرائے رکھی۔ 1991ء میں عراق پر مکمل قبضے سے اجتناب کر نے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ بعث پا رٹی یا صدام کی صورت میں ایران کو ایک حریف پڑوسی کا بدستور سا منا رہے۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد امر یکہ نے تیزی سے ایسے علاقوں کے وسا ئل کو بھی اپنی گر فت میں لینا شروع کر دیا، جو سوویت دور میں اس کی دسترس سے با ہر تھے۔ 1992ء میں یو گو سلا ویہ کی تقسیم، 1995ء میں بوسنیا میں امریکی مداخلت، 1999ء میں کو سوو پر قبضہ،2003ء میں جارجیا اور 2004ء میں یوکرین کے نام نہاد انقلابات، 2006ء اور 2007ء میں مشرقی یو رپ کے ممالک کو نیٹو میں شامل کرنے جیسے عوامل امریکی حکمرانوں کی سامراجی سوچ کا وا ضح اظہار ہیں۔

کیسپیین اور خلیج فارس کے جو وسائل ابھی تک امریکی دسترس سے با ہر ہیں،ان علاقوں کے وسا ئل سے استفا دے کے لئے ہی امر یکہ ر وس کے ساتھ ساتھ ایران کی انقلا بی حکو مت کو اپنے سا مرا جی مقاصد کے حصول میں بڑی رکا وٹ تصور کر رہا ہے۔ایرانی حکمران اپنی اس جغرا فیا ئی اہمیت کو جا نتے ہو ئے جہاں امر یکہ اور اسرا ئیل کے سا منے جھکنے سے انکاری ہیں،وہاں روس، چین اور کئی یو ر پی ممالک سے بھی اپنے بہتر ین تعلقات استوار کئے ہو ئے ہیں۔ 1979ء کے بعد سے امریکہ کی یہ مسلسل کو شش ہے کہ ایران کی خود مختا ری کو سلب کر کے وہاں پر امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت قائم کر دی جائے۔ اس مقصد کے لئے امر یکی حکمران طبقا ت کی منظور نظر اور بدنام زما نہ این جی او…… ”نیڈ“ …… (National Endowment For Democracy) کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ یہ این جی او 2003ء اور 2004ء میں جا رجیا اور یو کرین میں امریکی نواز انقلا بات لانے اور چینی صوبے سنکیا نک میں بے چینی پھیلا نے کے بعد ایران میں بھی انقلاب لا نے کے لئے مظا ہر ین میں لاکھوں ڈالرز تقسیم کر تی رہی۔ دوسر ی طرف نائن الیون کے بعدایران کی جا نب سے قاسم سلیمانی کی انٹیلی جنس کی بنیاد پر سینکڑوں فعال طالبان اور القا عدہ کے ارکان کو ایرانی سر زمین سے جلاوطن کیا گیا۔

افغا نستان میں طا لبان مخا لف حکو مت بنانے میں امر یکہ کے سا تھ تعا ون کیا گیا،عراق میں امریکہ مخا لف مقتا دا الصدر کی مسلح تحر یک صدر اسٹ کو تنہا کیا گیا۔ یہ تمام عوامل ثابت کر تے ہیں کہ ایران اپنی خود مختاری اور قومی حمیت کا سودا کیے بغیر امر یکہ سے بہتر تعلقات کا خوا ہاں رہاہے، مگریوں نظر آتا ہے کہ اوباما دور میں ایران کو جو تھوڑا بہت ریلیف دینے کی کوشش کی گئی تھی، اب امر یکی سیا سی اسٹیبلشمنٹ ٹرمپ کے ذر یعے اس با ت کو یقینی بنانا چاہ رہی ہے کہ کہ ایران کی با بت امریکہ کی گز شتہ چا لیس سال کی پا لیسی کو تبدیل نہ ہو نے دیا جا ئے۔ ٹرمپ انتظامیہ …… Bipartisan Policy Centreاور Washington Institute for near East policy……جیسے امر یکی سامراجی سوچ رکھنے والے تھنک ٹینکس کے جا ئزوں کی رو شنی میں اپنی ایران پالیسی مر تب کر رہی ہے،مگر شا ید ان تھنک ٹینکس کو یہ معلوم نہیں کہ ایرانی قوم ایسی تہذیب کی وارث ہے،جو صد یوں پہلے نہ سکندر اعظم کے سا منے جھکی اور نہ اب امر یکہ کے سامنے جھکنے کو تیا ر ہے،کیو نکہ یہ عظیم تہذیب ہمیشہ سے اپنی انفرا دیت پر نا زاں رہی ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...