مضر صحت آٹا سپلائی کرنیکا انکشاف‘ لوگوں پر خطرناک بیماریوں کا حملہ

  مضر صحت آٹا سپلائی کرنیکا انکشاف‘ لوگوں پر خطرناک بیماریوں کا حملہ

  



دو کوٹہ‘ گڑھ مہاراجہ‘ لیاقت پور‘کبیروالا (نامہ نگار‘ نمائندہ پاکستان‘ سپیشل رپورٹر) فلور ملز مالکان کی طرف سے آٹے کی سپلائی نہ دینے پر آٹے کا بحران دوکوٹہ میں آٹا نایاب ہو نے کی وجہ سے غریب لوگوں کو پریشانی کا سامنا۔ تفصیل کے مطابق فلور ملز مالکان کی طرف سے ڈیلرز کو پورا آٹا فراہم نہیں کیا جا رہا جس وجہ سے گذشتہ کئی روز سے آ ٹا زائد نرخوں پر فروخت ہو رہا ہے اب تو دکانداروں نے اپنی من مرضی (بقیہ نمبر8صفحہ12پر)

کے ریٹ مقرر کرنے کے باوجود گاہکوں کو آٹا دینا ہی بند کیا ہوا ہے ہر گاہک کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ ہمیں ملوں سے آٹا نہیں مل رہا حالانکہ اپنے من پسند لوگوں کو من پسن ریٹ پر آٹا فروخت کرنے میں مصروف ہیں آٹا نہ ملنے کی وجہ سے دیہاڑی دار طبقہ جو روازنہ کی بنیاد پر آٹا خرید کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے سارا سارا دن آٹے کے حصول کیلئے مارا مارا پھرتا ہے اہل علاقہ نے ڈپٹی کمشنر وہاڑی سے فی الفور نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تحصیل احمد پور سیال کی مختلف شہروں گڑھ مہاراجہ،گڑھ موڑ و گردونواح میں آٹا بیس کلو کا کٹو ایک ہزار روپے میں فروخت جاری ہے جس کی وجہ سے علاقہ میں روٹی سیل کرنے والے تنویر مالکان اور ہوٹلز کے مالکان نے روٹی کا ریٹ بڑھا دیا ہے جبکہ گھروں میں آٹا لے جانے والے عوام کو شدید پریشان ہیں سیاسی وسماجی حلقوں کے مطابق فلور ملز کا ریٹ 786روپے فی کٹو ہے لیکن دکاندار وں نے مصنوعی مہنگائی مچا رکھی ہے جبکہ دکاندارن کاکہنا ہے کہ ہمیں ملز مالکان فی کٹو 940دے رہے ہیں مکینوں نے وزیر اعلی پنجاب،ڈی سی جھنگ،اسٹنٹ کمشنر احمد پور سیال سے فوری نوٹس لیکر اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ہے۔ ضلع رحیمیارخان کی فلورملیں اپنے ڈیلروں کو بیس کلو گرام تھیلہ 786روپے جبکہ ڈیلر دکانداروں کو 800روپے تک فروخت کررہے تھے جو عام صارف کو سرکاری نرخ پر 808روپے میں ملنا چاہئے تھا۔ مگر تحصیل لیاقت پور کے مختلف قصبات ترنڈہ محمد پناہ، ٹھل حمزہ،خان بیلہ،پکالاڑاں،امین آباد،اللہ آباد،فیروزہ اور دیگر علاقوں میں 20کلوگرام تھیلے کی قیمت ایک ہزار سے گیارہ سو روپے تک پہنچ چکی ہے۔ بتایاگیا ہے کہ ضلع بھر میں فلورملز کے مالکان جن کو بااثر حکومتی شخصیات کی سرپرستی حاصل ہے نے محکمہ خوراک کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے لوٹ مار کا بازار گرم کررکھاہے۔ دکانداروں کا موقف ہے کہ انہیں ڈیلروں اور ملز کی طرف سے مہنگے داموں آٹا فراہم کیاجاتاہے مہنگائی کنٹرول کرنے کے ذمہ دار پرائس کنٹرول مجسٹریٹس فلور ملز مالکان کے خلاف کارروائی کی بجائے چھوٹے دکانداروں کو جرمانوں سے کام چلارہے ہیں۔ رابطہ کرنے پر ڈسٹرکٹ فوڈکنٹرولر مہر اعجاز نے بتایا کہ مارکیٹ میں آٹے کے 20کلوگرام تھیلے کی قیمت 808روپے مقرر ہے جو805روپے کرگئی ہے خوراک حکام اور فلور ملز مالکان نے آٹے کی قلت کا بھر پور فائدہ اٹھاتے باہم ملی بھگت کرتے ہوئے حا لیہ بارشوں سے متاثرہ سٹوروں میں پڑی ناقص گندم سستے آٹے کی تیاری کے لئے پسنا شروع کررکھی ہے، بارشوں سے متاثرہ گندم جوکہ صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے،شہری سستے آٹے کے نام پر بیماریاں خرید نے پر مجبور ہیں، آٹے کی کوالٹی کی شکائت پر محکمہ فوڈ کے متعلقہ اہلکار نہ صرف دکانداروں کو کوٹہ بند کرنے کی کی دھمکیاں دیتے بلیک میل کرتے نظر آتے ہیں بلکہ فلور مل مالکان کی بجائے سارا نزلہ انہیں پر ڈالنے کی دھمکیا ں بھی دیتے دکھائی نظر آتے ہیں، شہریوں نے محکمہ خو راک حکام اور مل مالکان کی ملی بھگت سے با رشوں سے متاثرہ گندم سے ناقص آٹے کی پسائی اور عوام کی صحت سے کھلواڑ کر نے پرشدید احتجاج کرتے ہو ئے ڈپٹی کمشنر خانیوال، کمشنر ملتان سے صورتحال کا فوری نوٹس لینے اور ذمہ داران کے خلاف فوری کاروائی کامطالبہ کیا ہے۔ ضلع رحیمیارخان کی فلورملیں اپنے ڈیلروں کو بیس کلو گرام تھیلہ 786روپے جبکہ ڈیلر دکانداروں کو 800روپے تک فروخت کررہے تھے جو عام صارف کو سرکاری نرخ پر 808روپے میں ملنا چاہئے تھا۔ مگر تحصیل لیاقت پور کے مختلف قصبات ترنڈہ محمد پناہ، ٹھل حمزہ،خان بیلہ،پکالاڑاں،امین آباد،اللہ آباد،فیروزہ اور دیگر علاقوں میں 20کلوگرام تھیلے کی قیمت ایک ہزار سے گیارہ سو روپے تک پہنچ چکی ہے۔ بتایاگیا ہے کہ ضلع بھر میں فلورملز کے مالکان جن کو بااثر حکومتی شخصیات کی سرپرستی حاصل ہے نے محکمہ خوراک کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے لوٹ مار کا بازار گرم کررکھاہے۔ دکانداروں کا موقف ہے کہ انہیں ڈیلروں اور ملز کی طرف سے مہنگے داموں آٹا فراہم کیاجاتاہے مہنگائی کنٹرول کرنے کے ذمہ دار پرائس کنٹرول مجسٹریٹس فلور ملز مالکان کے خلاف کارروائی کی بجائے چھوٹے دکانداروں کو جرمانوں سے کام چلارہے ہیں۔ رابطہ کرنے پر ڈسٹرکٹ فوڈکنٹرولر مہر اعجاز نے بتایا کہ مارکیٹ میں آٹے کے 20کلوگرام تھیلے کی قیمت 808روپے مقرر ہے جو805روپے کرگئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ گراں فروشی کرنے والی ملز، ڈیلروں اور دکانداروں کی نشاندہی کی جائے تو وہ فوری طور پر کارروائی کریں گے۔ محکمہ خوراک اس بدعنوانی میں ملوث نہیں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تحصیل لیاقت پور اور خان پور کے لئے آٹے کا کوٹہ بڑھایا جارہا ہے جس سے مہنگائی کی شکایت ختم ہوجائے گی۔

حملہ /آٹا

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...