مقبوضہ کشمیر، کرفیو کو159روز مکمل، بھارتی سپریم کورٹ کاانٹرنیٹ سروسز بحال کرنیکا حکم، میسور یونیورسٹی کے طلبہ پر بغاوت کا مقدمہ

مقبوضہ کشمیر، کرفیو کو159روز مکمل، بھارتی سپریم کورٹ کاانٹرنیٹ سروسز بحال ...

  



سرینگر،میسور(این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی محاصرے جمعہ کو مسلسل 159ویں روز بھی جاری رہا جبکہ بھارت نئی دلی میں موجود غیر ملکی سفارتکاروں کے دوروزہ منتخب دورے کے ذریعے مقبوضہ علاقے کی زمینی صورتحال کے بارے میں عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق کشمیری عوام، سیاسی تجزیہ کاروں اورمقبوضہ کشمیر کے سیاسی رہنماؤں نے اس دورے کو ایک بے سود مشق قراردیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اور ماہر تعلیم صدیق واحد نے میڈیا کو بتایا کہ اس طرح کے وفود کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔ بھارتی حکومت غیر ملکی سفارتکاروں کے دوروں کے ذریعے مقبوضہ کشمیرمیں اپنے غیر قانونی اقدامات کو جائز قراردینے کی کوشش کرر ہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کے نقطہ نظر سے اس طرح کے وفود کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ادھر سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ خدمات اور مواصلاتی نظام اور دفعہ 144پر  پابندیوں سے متعلق درخواستوں  پر فیصلہ سنا تے ہوئے کہا ہے کہ تمام ضروری سروسز کو فوری بحال کیا جائے،انتر نیٹ کو بحال کیا جائے، یہ ملک جمہوری ہے کسی بھی چیز پر پابندی لگانا ضروری نہیں،مقبوضہ کشمیر کی انتظامیہ ایک ہفتے میں نظر ثانی کرے،ضرورت کے وقت دفعہ 144لگائی جا سکتی ہے لیکن اسے غیر معینہ مدت کیلئے نہیں لگایا جا سکتا۔  عدالت عظمی کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر پابندی اظہار رائے پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔ لوگوں کے حقوق نہیں چھینے جانے چاہیے۔ سات دنوں کے اندر دفعہ 144 پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔ حکومتی دلائل کو سپریم کورٹ نے رد کر دیا۔ کہیں بھی دفعہ144 لگائی جائے تو اسے غیرمعینہ نہیں کیا جاسکتا۔ غیر معمولی حالات میں ہی اس کا نفاذ کیا جاسکتا ہے۔اس دفعہ کا استعمال بار بار نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت کو اس پر واضح موقف پیش کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ 'ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کا اگر احتمال ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ انٹرنیٹ سروس بند کر دیں گے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دلیل دی تھی کہ انٹرنیٹ کا استعمال شدت پسندوں کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ سے اظہار یکجہتی کیلیے میسور یونیورسٹی میں احتجاج کے دوران کشمیر کو آزاد کرو کے پوسٹر اٹھانے والے طلبہ پر بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔میسور پولیس کمشنر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے سوموٹو کے تحت یہ بغاوت کا مقدمہ درج کیا کیوں کہ دوران احتجاج 100 سے زائد طلبا نے ’کشمیر کو آزاد کرو‘ کے پوسٹرز اٹھارکھے تھے جب کہ اس میں ملوث طلبا کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہیں۔دوسری جانب میسور یونیورسٹی کے رجسٹرار کی جانب سے بھی طلبہ کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی جس میں کہا گیا کہ طلبا نے احتجاج کے لیے انتظامیہ سے اجازت نہیں لی تھی۔

مقبوضہ کشمیر

مزید : صفحہ اول