یوکرائنی طیارہ میزائل سے تباہ ہوا، امریکہ، برطانیہ کینیڈا کا الزام، ثبوت سامنے لائیں: ایران، صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات میں کمی کابل ایوان نمائند گان سے منظور

یوکرائنی طیارہ میزائل سے تباہ ہوا، امریکہ، برطانیہ کینیڈا کا الزام، ثبوت ...

  



واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ایران کی وزارتِ خارجہ نے طیارے کے حادثے کے بارے میں مغربی ممالک کے 'مشکوک پروپیگنڈے' کو مکمل طور پر مسترد کیا ہے۔ایران کے پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے جمعے کو ایک بیان میں کہا ہے ایران 'بین الاقوامی معیار' کے مطابق اس حادثے کی تحقیقات کر رہا ہے اور یوکرین کو ان تحقیقات کا حصہ بننے کی دعوت بھی دی گئی ہے۔ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے حکومتی ترجمان علی ربیع کا یہ بیان بھی نشر کیا ہے کہ امریکی حکومت 'جھوٹ بولنے اور نفسیاتی آپریشنز میں ملوث ہونے کے بجائے' اس حادثے کی تحقیقات کے 'نتائج کا انتظار' کرے۔ اگر ان کے پاس طیارے کی تباہی کے حوالے سے کوئی ثبوت ہیں تو سامنے لائیں۔جمعرات کی شام ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے سربراہ علی عابدزادے نے بھی میزائل حملے کے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر طیارہ میزائل کا نشانہ بنتا تو یہ فضا ہی میں پھٹ جاتا نہ کہ زمین پر آ کر گرتادوسری طرف امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ(این ٹی ایس بی)نے کہا ہے کہ امریکہ تہران میں تباہ ہونے والے یوکرینی مسافر بردار طیارے کی تحقیقات میں شامل ہوگا۔این ٹی ایس بی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے متعلقہ آپریشنز سنٹر کو تہران کے قریب تباہ ہونے والے یوکرینی مسافر بردار پی ایس۔752 طیارے بارے ایرانی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انوسٹی گیشن بورڈ(اے اے آئی بی)کی طرف سے رسمی نوٹیفکیشن موصول ہو گیا ہے جس میں سوار عملے کے 9 ارکان اور 167 مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ این ٹی ایس بی نے تباہ ہونے والے بوئنگ800- 737طیارے کی تحقیقات کے لئے ایک تسلیم شدہ نمائندہ مقرر کردیا ہے۔ ایجنسی نے مزید کہا ہے کہ وہ طیارہ حادثہ کی وجوہات کے بارے میں کوئی قیاس آرائی نہیں کرے گی کیونکہ اے اے آئی بی نمایاں تحقیقاتی ادارہ ہے۔دوسری طرفکینیڈا، امریکا اور برطانیہ کے حکام نے ایران پر یوکرین کا طیارہ تباہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔امریکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق عالمی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ خطے میں کشیدگی میں اضافے اور ایران کے عراق امریکی فوجی اڈوں پر راکٹ حملوں کے باعث ایران نے غلطی سے میزائل سے یوکرینی طیارہ مار گرایا ہو۔امریکا کے 4 عہدیداروں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ مسافر طیارے کو غلطی سے خطرہ نہ سمجھ لیا ہو۔حادثے میں کینیڈا کے 63 شہری ہلاک ہوئے تھے جس پر کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اوٹاوا میں کہا کہ ہمارے پاس اتحادیوں سمیت ذاتی انٹیلی جنس ذرائع ہیں، شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ ایران نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے طیارے کو مار گرایا تھا۔دوسری جانب برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن اور آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے بھی ایسے ہی بیانات دیے۔اسکاٹ موریسن نے یہ بھی کہا کہ یہ بظاہر غلطی معلوم ہوتی ہے، ہمیں پیش کی گئی انٹیلی جنس معلومات سے نہیں لگتا کہ ایسا دانستہ طور پر کیا گیا۔دوسری طرف ایران نے ان ممالک کی طرف سے لگائے الزامات ایران نے مسترد کر دیئے ہیں اور کہا ہے  طیارے کی میزائل کی تباہی کے حوالے امریکہ، کینیڈا اورآسٹریلیا کے پاس ثبوت ہیں تو سامنے لائیں۔

طیارہ الزام

واشنگٹن(ابیورو رپورٹ، نیوز ایجنسیاں)امریکی ایوان نمائندگان نے ایک قرار داد منظورکی ہے جس کے تحت صدر ٹرمپ کو پابند کردیاگیا ہے کہ وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران سے جنگ شروع نہیں کرسکتا جمعرات کی شام اکثریتی رائے سے منظورکی جانے والی اس قراردار کی حمایت میں حکمران پارٹی ری پبلکن سے تعلق رکھنے والے تین ارکان نے بھی ووٹ ڈالا۔ ایوان نمائندگان میں ڈیمو کریٹس کی اکثریت ہے لیکن سینٹ میں ری پبلکنز کی اکثریت کے باعث یہ بل وہاں مسترد ہونے کاامکان ہے کانگریس کے ڈیمو کریٹک ارکان کی طرف سے صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے کے اختیارات کو محدود کرنے کی اس کوشش میں جن ری پبلکن ارکان نے ساتھ دیا ان کے نام یہ ہیں فلوریڈاریاست سے تعلق رکھنے والے میٹ گیٹز اورفرانسس رونی او کنٹکی کے تھامس میسی تاہم آٹھ ڈیمو کریٹس نے بھی قرار داد کی مخالفت میں ووٹ ڈالایاد رہے کہ اس قرار داد کی حیثیت کانگریس کے انداز فکرکی ہے اور اسے سینیٹ منظور بھی کرے تو یہ دستخط کرنے کیلئے صدر ٹرمپ کے پاس نہیں جائے گی۔ اس طرح اس قرارداد کی حیثیت محض”اخلاقی“ ہے اور یہ صدرکو قانونی اعتبار سے پابند نہیں کرتی۔ اس دوران”سی این بی سی“ ٹیلی ویژن نے ایک تجزیے میں بتایاہے کہ ایرانی کمانڈر سلیمانی کو ہلاک کرنے کے صدرٹرمپ کے فیصلے کے بعد ان کے صدارتی اختیارات کو محدودکرنے کی کوشش کامیاب ہونے کاامکان ہے بلکہ ان کا الٹا اثر پڑ سکتا ہے۔دوسری طرف امریکانے ایران کے ساتھ جاری تنازعات کو مزید الجھانے کے بجائے ایران کو مذاکرات کا ایک اور موقع دینے کی پالیسی اختیارکی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق امریکی حکومت نے یران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور بامقصد مذاکرات کی راہ نکالنے کے لیے ایران کی چھ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بھی رابطے محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے امریکی سفیروں کو ایک سرکلر جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ان تنظیموں کے ساتھ کسی قسم کے معاملات نہ کیے جائیں اوران کے ساتھ رابطے محدود کیے جائیں۔ ٹیلیگرام میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ امن کا ایک اورموقع تلاش کررہے ہیں۔ امریکی حکومت کی کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی دیر پا اور اطمینان بخش سمجھوتا کیا جائے۔ ایسے کسی بھی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے ایرانی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ روابط رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ٹیلیگرام میں پومپیو نے امریکی سفارت کاروں کو ایرانی حزب اختلاف کے گروپوں، خاص طور پر مجاھدین خلق اور اس کے پولیٹیکل ونگ ایرانی مزاحمتی قومی کونسل کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے پر پابندی عاید کرنے کا حکم دیا۔ایرانی حزب اختلاف کی جن دوسری پانچ تنظیموں سے رابطوں سے روکا گیا ان میں کرد، آذر اور عرب قومیتوں کی نمائندہ جماعتیں کردستان کوملہ پارٹی، ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی، الاہواز فریڈم موومنٹ اور جنوبی آذربائیجان کی آزادی کے لیے سرگرم قومی تحریک شامل ہے۔دریں اثناسپاہِ پاسداران انقلاب ایران کی فضائیہ کے کمانڈر ائیرفورس جنرل امیر علی حاجی زادہ نے عراق میں امریکا کے دو فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کے بارے میں کہاہے کہ ان کا مقصد امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنا نہیں بلکہ امریکا کی فوجی مشینری اور سازو سامان کو نقصان پہنچانا تھا۔ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق حاجی زادہ نے تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ہم اس آپریشن میں کسی کو ہلاک نہیں کرنا چاہتے تھے،اگرچہ اس میں دسیوں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ہم کسی کو ہلاک کرنا چاہتے تو پھر ہم اس آپریشن کو ایک اور انداز میں ڈیزائن کرتے جس سے پہلے ہی ہلے میں پانچ سو(امریکی) ہلاک ہوجاتے۔اگر وہ اس کا جواب دیتے تو دوسرے مرحلے میں اڑتالیس گھنٹے کے اندر مزید چار سے پانچ ہزار(امریکی) ہلاک ہوجاتے۔پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا مناسب ردعمل یہ ہوسکتا ہے کہ خطے سے امریکی فوجیوں کو نکال باہر کیا جائے۔انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے سیکڑوں میزائل تیاری کی حالت میں ہیں۔اس نے جب عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے تھے تو ساتھ سائبر حملے بھی کیے تھے اور ان سے امریکا کے طیاروں اور ڈرون کے سمت نما نظاموں (نیوی گیشن سسٹمز) کو ناکارہ بنا دیا تھا۔حاجی زادہ کا کہنا تھا کہ یہ میزائل حملے تو خطے بھر میں سلسلہ وار حملوں کا نقطہ آغاز ہیں۔

امریکی قرارداد

اشنگٹن(اظہر زمان،بیورو چیف)امریکہ نے اپنی افواج اور مفادات کے خلاف ایران کے حملوں کے جواب میں اس کے خلاف متعدد نئی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر خارجہ مائیک پومییو نے جمعہ کے روز ایک پریس بیان میں بتایاہے کہ نئے اقدامات کا مقصد ایران کی حکومت کو اس آمدن سے محروم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی متشدد خارجہ پالیسی پر عمل کرتا ہے۔ انہوں نے واضع کیا کہ ہم ایرانی حکومت کے متعدددہشت گرد محاذوں پر حمایت کرنے والے افراد اوراداروں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ نے بتایاکہ جن آٹھ ایرانی لیڈروں کے خلاف پابندیاں عائد کی گی ہیں ان میں سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شخانی اور باسیج کے کمانڈرغلام رضا سلیمانی کے علاوہ چھ دیگر اعلیٰ ایرانی حکام شامل ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ آٹھوں افراد ایران کے سپریم لیڈر کی ہدایت پر ایران کے متعدد دہشت گردی کے منصوبوں اور مہمات میں ملوث ہیں اور ڈیڑھ ہزار ایرانی مظاہرین کو قتل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ ایرانی حکومت اپنی دھات کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدن کو عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں پر صرف کرتی ہے اس لئے امریکی وزارت خارجہ نے اس سے متعلق تجارتی کمپنوں پر بھی پابندیاں لگائی ہیں۔ اس دوران امریکی محکمہ خزانہ نے آئرن، سٹیل، ایلومینیم اورتانبے کا کاروبار کرنیوالی بائیس کمپنوں اور تین بحری جہازوں پر بھی پابندیاں لگاء ہیں جن کے ذریعے ایران کی آمدن کو نقصان پہنچے گا جیسا کہ صدرٹرمپ نے گزشتہ روز کیا تھا کہ امریکی پابندیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ایران اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا انہوں نے مہذب دنیا سے اپیل کی تھی کہ وہ ایران کے خلاف ایک واضع اور متحدہ پیغام بھجیں۔

پابندیاں

مزید : صفحہ اول