حکومتی اتحادی، اپوزیشن سینیٹرز کا بلوچستان میں گیس کی عدم فراہمی پر ایوان بالا میں دھرنا: واک آؤٹ

  حکومتی اتحادی، اپوزیشن سینیٹرز کا بلوچستان میں گیس کی عدم فراہمی پر ایوان ...

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینیٹ اجلاس میں حکومتی اتحادی اور اپوزیشن سینیٹرز نے بلوچستان کے علاقوں کو گیس کی عدم فراہمی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے دھرنا دے دیا،جبکہ سینیٹر سرفراز بگٹی نے واک آؤٹ بھی کیا،تاہم حکومت کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کر دیا گیا،چیئرمین سینیٹ نے پیپلز پارٹی سینیٹرزکی جانب سے گیس کی شدید قلت کا سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا،جبکہ وزیر توانائی عمر ایوب خان نے ایک بارپھر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومتوں کو شدید تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس سال میں کوئی تیل کے کنویں دریافت نہیں ہوئے،جسکی وجہ سے ڈیمانڈ اور سپلائی میں فرق بڑھتا رہا،ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور اور کھانے کے اورہیں، گیس کی ایلوکیشن ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے کی تھی، سندھ حکومت نے معاونت نہیں کی اور پائپ لائن نہیں بنانے دی، حکومت سندھ کی مجرمانہ غفلت ہے، پاکستان کے ہر شہری کا حق یکساں ہے، ہم رینیوبل انرجی کی طرف جائیں گے۔جمعہ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران سینیٹر سرفراز بگٹی نے کہا سوئی ایک جگہ کا نام ہے وہاں آج بھی گیس نہیں ہے،ہر فورم پر بات کی ہے کوئی شنوائی نہیں ہو رہی پورے پاکستان میں انڈسٹری گیس سے چل رہی ہے، لیکن وہاں خواتین آج بھی لکڑیاں جلا رہی ہیں، سرفراز بگٹی نے سوئی کو گیس کی عدم فراہمی پر احتجاج کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے دھرنا دیدیااور بعدمیں ایوان سے واک آؤٹ کر گئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ متعلقہ وزیر پیر کو اس بارے میں جواب آکر ایوان کو جواب دیں، اس موقع پر سرفراز بگٹی کومناکر واپس لے آئے، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ بلوچستان سے گیس نکلتی ہے بلوچستان میں گیس سے بجلی پیدا ہو رہی ہے لیکن ہم محروم ہیں ہمیں کچھ نہیں مل رہا، اس موقع پر سینیٹر جہانزیب جمالدینی،سرفراز بگٹی، سینیٹر میر کبیر اور عثمان خان کاکڑ سمیت بلوچستان کے دیگر سینیٹرز نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے دھرنا دے دیا،تاہم وزیر توانائی عمر ایوب خان کی یقین دھانی پر دھرنا ختم کر دیا گیا چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میرے ضلع میں بھی گیس نہیں ہے اس پر بھی احتجاج کریں؟صادق سنجرانی بھی اپنے ضلع میں گیس نہ ہونے پر ایوان میں واویلا کرتے رہے اور ساتھ ہی ساتھ وزیر توانائی عمر ایوب سے گیس فراہم سے متعلق گارنٹی مانگتے رہے، مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے، ہم آپ کے مطالبات کے ساتھ ہیں، آپ احتجاج کریں، لیکن یہ طریقہ ٹھیک نہیں، اس موقع پر پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے ملک میں گیس کی شدید قلت سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا، شیری رحمان نے کہا کہ اس وقت سندھ میں ایک کپ چائے کا نہیں بن سکتا، کھانا نہیں بن رہا،جو صوبہ توانائی پیدا کر رہا ہے اسے کہہ رہے ہیں کہ یونٹ خریدیں، سندھ سے کیوں کہہ رہے ہیں کہ مہنگی ایل این جی خریدیں، یہاں یہ مسائل حل ہونے ہیں، ہم چاہتے ہیں مسئلے خوش اسلوبی سے حل ہوں، یہ آئینی بحران ہو سکتا ہے، سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ گیس کے نرخوں میں دو سو فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے بل مہنگے کرتیجا رہے ہیں، یہ لوگوں کا جینا اجیرن بنارہے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ ہمارے ساتھ سخت ناانصافی ہو رہی ہے، سندھ کو حصے کی گیس پوری نہیں دی جا رہی،یہ پندرہ فیصد قیمتیں بڑھانے جارہے ہیں، صورتحال بڑی گھمبیر ہے، اس موقع وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہا کہ اس وقت ملک کی 6.5 ملین کیوبک فٹ ڈیمانڈ ہے،گزشتہ دس سال میں کوئی تیل کے کنویں دریافت نہیں ہوئے،جس کی وجہ سے ڈیمانڈ اور سپلائی میں فرق بڑھتا رہا،ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور اور کھانے کے اور ہیں،حقائق تلخ ہوتے ہیں، گیس کی ایلوکیشن ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے کی تھی، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے معاونت نہیں کی اور پائپ لائن نہیں بنانے دی، حکومت سندھ کی مجرمانہ غفلت ہے، پاکستان کے ہر شہری کا حق یکساں ہے، ہم رینیوبل انرجی کی طرف جائیں، عمر ایوب خان کی تقریر کے دوران پیپلز پارٹی کے ارکان نے احتجاج کیا،سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ یہ جھوٹ کے پلندے ہیں، چیئرمین سینیٹ نے معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ علاوہ ازیں سینیٹ کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ نادرا کی جانب سے بلاک کئے گئے شناختی کارڈوں کی تعداد ایک لاکھ51ہزار781ہے،جن میں سندھ کے 45966،خیبر پختونخوا کے 36809، پنجاب کے 34042،بلوچستان کے 23552،سابقہ فاٹا کے 5817،اسلام آباد کے 3520،آزادکشمیر کے 1405اور گلگت بلتستان کے 75 شناختی کارڈ شامل ہیں، ملک میں منشیات کی تیاری، سمگلنگ اور استعمال پر سزایافتہ ملزمان کی تعداد 3386ہے، جن میں سے 25افراد کو سزائے موت دی گئی،گزشتہ تین سالوں میں ایف آئی اے میں درج شدہ مقدمات کی تعداد 24961ہے، اگست 2018تا نومبر 2019تک ٹرینوں کو پانچ بڑے حادثات پیش آئے جن میں 112 مسافر جاں بحق ہوئے، حالیہ دنوں میں پاکستان میں ڈرگ سروے نہیں کیا گیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں این جی اوز کی جانب سے دیئے جانے والے اعدادوشمار غلط ہیں جن کے پیچھے ان کے اپنے مفادات ہیں۔

سینیٹ

مزید : صفحہ اول