ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کرنے کی مثال موجود نہیں: لاہور ہائیکورٹ

ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کرنے کی مثال موجود نہیں: لاہور ہائیکورٹ

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی،مسٹر جسٹس محمدامیر بھٹی اور مسٹرجسٹس مسعود جہانگیر پر مشتمل فل بنچ نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کی تشکیل اور اس کی کارروائی کے خلاف دائر سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کی درخواست پر سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف قائم خصوصی عدالت کی تشکیل کی سمری طلب کرلی،فل بنچ  نے دوران سماعت ریمارکس دیئے بظاہر پرویز مشرف سے پہلے کبھی پاکستان میں ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کرنے کی مثال موجودنہیں، کتنے آج پھر رہے ہیں کسی کیخلاف ایسے ٹرائل کیا ہے؟وفاق سے پوچھتے ہیں کیااسحاق ڈار کیخلاف ایسے کارروائی کی ہے؟ اگرپرویز مشرف 342 کا بیان دینے نہیں آرہاتھاتو اس سے منگوایا جاسکتا تھا، یہی اس کیس میں غیر قانونی کام ہوا،یہ بیان بغیر حلف کے لیا جاتا ہے کیونکہ ملزم کی طرف سے وکیل بھی بیان لکھوا سکتا ہے،عدم موجودگی میں سزا کہاں کا قانون اورکہاں کا انصاف ہے؟اگر خصوصی عدالت کے فیصلے کو دیکھا جائے تو اعانت جرم میں پارلیمنٹ اور دیگرشامل ہیں،پیراگراف56میں پوری فوج کو رگڑ دیا گیا،غداری کے آرٹیکل میں تبدیلی کے بعد صرف ایک بندے کو ہی سزا سنائی گئی،عدالتی استفسار پرایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایاکہ فردجرم میں آرٹیکل 6 کا ذکرنہیں ہے،عدالت نے کہا کہ آپ کی توسمری میں بھی آرٹیکل 6 کا ذکرنہیں ہے جو قانون کا تقاضا تھا،اگرآج حکومت ایمرجنسی لگائے توکیا آنے والی حکومت اس کے خلاف کارروائی کرے گی،ایمرجنسی کے پہلے عبوری حکم میں آرمی چیف اور صدردونوں کاذکرہے،کیا یہ کلیریکل غلطی تھی یا اور کچھ تھا،عدالت نے سرکاری وکیل کو اس معاملے کوواضح کرنے کی ہدایت کی،فاضل بنچ نے بیرسٹر علی ظفر کو دلائل دینے کیلئے کہا جس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ان کے پاس اتھارٹی لیٹر نہیں ہے جس پر عدالت نے کہا کہ ہم آپ کو دلائل دینے کی اجازت دے رہے ہیں،بیرسٹر علی ظفر نے عدالتی معاون کے طور پر دلائل دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ کیس قانون کے مطابق نہیں بنا اور نہ ہی عدالت کی تشکیل قانون کے مطابق تھی، عدالتی معاون کے مطابق 21 جون 2013 کواٹارنی جنرل نے سمری وزیراعظم کو بھیجی کہ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کا کیس بنایا جائے اور سیکرٹری داخلہ کو 29 دسمبر 2013 ء کو شکایت درج کرنے کا اختیار دیا گیا،انہوں نے نکتہ اٹھایا کہ آرٹیکل 6 کا جرم کوئی اکیلا نہیں کر سکتا، اگر سب کی بجائے مخصوص لوگوں کے خلاف کارروائی ہو تویہ آئین کے منافی ہوگا، اس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ اس فیصلے کو پڑھیں تو اس میں اعانت جرم کا ذکر کیاگیا،اعانت جرم میں پوری فوج کے لوگوں کو رگڑ دیا گیا ہے، اس طرح تو اس وقت کی عدلیہ کے پی سی او کے تحت حلف لینے والے جج بھی ملزموں میں شامل ہو جائیں گے، جسٹس مسعود جہانگیر نے کہاکہ اس وقت خصوصی عدالت ترمیمی کیس بھی مانگ سکتی تھی، جب وفاقی حکومت دیگر کو ملزم نہیں بناتی تو کیاخصوصی عدالت دیگر ملزموں کو بلوا سکتی ہے؟ علی ظفر نے کہانہیں عدالت کو دیگر ملزموں کو طلب کرنے کا اختیار نہیں تھا، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ فرد جرم میں تو غداری کا ذکر ہی نہیں ہے، جتنی سمریز موجود ہیں ان میں ملزموں کا لفظ ہے کسی جگہ ایک بندے کا ذکر نہیں ہے، کسی کو سنے بغیر سزا دے دینا کہاں کا قانون ہے،اگر کوئی ملزم 342 کا بیان نہیں دے رہا تو ضروری ہے کہ اس سے منگوا لیا جائے،بنچ نے باور کرایا کہ فیصلے کو دیکھیں تو اْس وقت جس کسی نے بھی ساتھ دیا وہ سب اعانت کے ملزم بن جاتے ہیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کابینہ کی منظوری کے بغیر کیس نہیں بن سکتا، یہ اختیار اب وزیراعظم کے پاس نہیں تھا، یہ پوری کابینہ کااختیارہے،عدالتی معاون کے مطابق اگر بنیاد غلط ہے تو پوری عمارت ہی گرے گی، جس پرفاضل بنچ نے کہا پھر توسابق صدر پرویز مشرف کی سزا بھی نہیں رہے گی، عدالتی معاون نے نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے تحت کسی ملزم کا اس کی عدم موجودگی میں ٹرائل مکمل نہیں ہو سکتا،علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ پرویز مشرف کی درخواست میں 1976ء کے قانون کی دفعہ 9 کو بھی چیلنج کیا گیا ہے،اس دفعہ کے تحت خصوصی عدالت نے دفعہ 9 کے تحت پرویز مشرف کی غیر موجودگی میں ٹرائل کرنے کا اختیار استعمال کیا،جس پر جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے کہا کہ ضابطہ فوجداری میں موجود ہے کہ ملزم پیش نہیں ہوتا تو اسے اشتہاری قرار دیں، کتنے آج پھر رہے ہیں کسی کے خلاف ایسے ٹرائل کیا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ اگر 1976ء کے قانون کی دفعہ 9 ہی غیر آئینی ہے تو پھر پورا کیس ہی غیر قانونی ہے، فاضل بنچ نے کیس کی مزید سماعت 13جنوری پر ملتوی کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان کوبھی دلائل کے لئے طلب کرلیا۔

پرویز مشرف درخواست

مزید : صفحہ اول