چار ارب کی کرپشن، سابق ڈی پی او نے ضمانت کیلئے درخواست دائر کردی

چار ارب کی کرپشن، سابق ڈی پی او نے ضمانت کیلئے درخواست دائر کردی

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)محکمہ پولیس میں لگ بھگ چار ارب روپے کی کرپشن کے نیب کیس میں ملوث سابق ڈی پی او گجرات کامران ممتاز نے ضمانت کے لئے لاہورہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔ درخواست میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب اورتفتیشی افسر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست گزار کا موقف ہے کہ نیب نے گجرات پولیس میں یکم جولائی 2014 ء سے 31 دسمبر 2016 ء تک کے مالی معاملات کی انکوائری کی، درخواست گزاراس دوران صرف 3 ماہ اور 15 دن کے لئے ڈی پی او گجرات تعینات رہا،ان کا ماضی پولیس میں صاف اور شاندار رہا ہے، 2018 ء میں ایماندارپولیس آفیسر اور آسٹریلیا میں سکالرشپ کے لئے بھی بھی منتخب ہوا،  درخواست گزار کو جب کال اپ نوٹس بھیجا گیا اس وقت وہ یونیورسٹی آف میلبورن میں تعلیم حاصل کر رہا تھا،درخواست گزار اس وقت ریکارڈ فراہم نہیں کرسکتا تھا جو نیب نے مانگا تھا،2 جنوری 2019 ء کو وہ خود ایک زمہ دار آفیسر ہونے کے ناطے نیب میں پیش ہوئے، پہلی دفعہ جب نیب کے روبرو پیش ہوا اور انہیں اریسٹ وارنٹ دکھا کر گرفتار کرلیا گیا، نیب کے پاس 23 دن تک جسمانی ریمانڈ میں رہا لیکن نیب نے ان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا،عدالت عالیہ اسی ریفرنس میں 2 نامزد ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کر چکی ہے۔واضح رہے کہ نیب کی جانب سے گجرات پولیس کرپشن پر مبنی 60 ہزار صفحات اور 228 فولڈرز میں سابق ڈی پی او ررائے اعجاز حسین سمیت دیگر کے خلاف سپلیمنٹری ریفرنس فائل کر چکا ہے،جس میں کامران ممتاز، محمد ریاض، محمد افضل،اختر حسین شاہ، فیاض احمد، اور رمیز احمد کوملزم نامزد کیا گیاہے،نیب کے مطابق ان میں سے 2 افراد اعتراف جرم کر چکے ہیں، ریفرنس میں ملزموں پر الزام ہے کہ انہوں نے 2 سال کے دوران ملکی خزانے کو 3 ارب 95 کروڑ 19 لاکھ 86 ہزار 718 روپے کا نقصان پہنچایا۔

چار ارب کی کرپشن 

مزید : صفحہ آخر


loading...