لڑکیوں میں سیلف ڈیفنس کا شعور اجاگرکر نا ضروری ہے‘ ذوالکیف نادر

  لڑکیوں میں سیلف ڈیفنس کا شعور اجاگرکر نا ضروری ہے‘ ذوالکیف نادر

  



 لاہور(سپورٹس رپورٹر) نیشنل سکول آف تائیکوانڈو ایسوسی ایشن کی صدر سیدہ ذوالکیف نادر بلیک بیلٹ 6Th ڈان(ڈبلیوٹی ایف) کوریا نے کہا ہے کہ خواتین میں تائیکوانڈو کھیل کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے حوالے سے حکومت،نیشنل و ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنا کردار ادا کریں،کیونکہ لڑکیوں میں سیلف ڈیفنس کا شعور اْجاگرکر نا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، تائیکوانڈو کھیل کے ذریعے لڑکیاں خود اپنی حفاظت کر نے کے قابل ہو جاتی ہیں،تائیکوانڈو لڑکیوں کیلئے محفوظ کھیل ہے اس سے لڑکیاں جسمانی اور ذہنی دونوں طرح سے مضبوط ہوتی ہیں اور اس کھیل سے لڑکیوں کے اندر خود اعتمادی بھی پیدا ہوتی ہے جس کے بل بوتے پر وہ کسی بھی ہنگامی حالات میں خوداپنی حفاظت کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ لیڈیز ماسٹر انسڑکٹر سیدہ ذوالکیف نادر بلیک بیلٹ 6Th ڈان(ڈبلیوٹی ایف) کوریا نے کہا کہ صحت مند معاشرے کے قیام کیلئے گراس روٹ لیول سے کھیلوں کی سرگرمیوں کافروغ ناگزیر ہے،نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سمیت دیگر سماجی برائیوں سے بچانے کیلئے کھیلوں کے میدان آباد کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تائیکوانڈو کے کھیل کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اگر حکومت تائیکوانڈو کے کھیل کی سرپرستی کرے تو پاکستان تائیکوانڈو کا ورلڈ چمپئن بن سکتاہے لہٰذا میں سپورٹس مین وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کر تی ہو ں کہ تائیکوانڈو کے کھیل کو گراس روٹ لیول سے فروغ دینے اور جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں۔

اور ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں تائیکوانڈو کے کھیل کو لازمی قرار دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہماری تنظیم نیشنل سکول آف تائیکوانڈو ایسوسی ایشن ملک بھر میں تائیکوانڈو کھیل کو گراس روٹ لیول سے فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، ہم اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے تائیکوانڈو کے کھیل کو ملک کے چاروں صوبوں،اسلام آباد،گلگت بلتستان اورآزاد کشمیر میں یکساں طور پر ترقی دینے میں مصروف عمل ہیں۔انہوں نے کہا کہ تائیکوانڈو کے کھیل کو گراس روٹ لیول سے فروغ دینا میری زندگی کا مشن ہے اس مشن کی تکمیل اورتائیکوانڈو کے کھیل کا معیار بلند کرنے کیلئے ایک ماسٹر پلان پر عمل کر رہے ہیں جس کے تحت ہم گراس روٹ لیول سے تائیکوانڈو کے کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل معیار کی سہولیات فراہم کر کے گروم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تائیکوانڈوکا کھیل انسان میں سیلف ڈیفنس، جسمانی فٹنس، تکنیکی مہارت، جسمانی توازن، ڈسپلن، یکسوئی، سپیڈ اور پھرتی پیدا کرتا ہے، تائیکوانڈو کاکھیل روزمرہ کے کاموں کو آسان کرتا ہے یہ انسان کو سماجی زندگی میں حصہ لینے کی خواہش پیدا کرتا ہے باہمی تعاون کو فروغ دیتا ہے کسی بھی کھیل کی مسلسل مشق انسان کو ایک بہترین انسان بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے،کھیل انسان کو تحفظ کیساتھ ساتھ خود اعتمادی عطا کرتا ہے انسان دوسروں کی عزت بڑوں کا احترام دوستوں سے خلوص، اصل دشمن کا تعین اور جنگ میں پیٹھ نہ دکھانا اور زندگی کو بہتر طریقے سے گزارنے کا طریقہ سکھاتا ہے لہٰذا حکومت تائیکوانڈو سمیت دیگرکھیلوں کو نصاب کا حصہ بنائے کیونکہ کھیلوں کوفروغ دیکر ہی معاشرے سے کلاشنکوف کلچر اور منشیات کی لعنت سمیت دیگر سماجی برائیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے، کھیلوں کو گراس روٹ لیول سے فروغ دیکر امن محبت اور بھائی چارے کی فضا پیدا کی جا سکتی ہے،کھیلوں کے ذریعے ہی دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکتا ہے کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے یہاں کے لوگ کھیلوں اور کھلاڑیوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ نیشنل سکول آف تائیکوانڈو ایسوسی ایشن کی صدر سیدہ ذوالکیف نادر بلیک بیلٹ 6Th ڈان نے کہا کہ سپورٹس مین وزیر اعظم عمران خان ایک نئی قومی سپورٹس پالیسی بنائیں جس کا مقصد طالب علموں کو صحت مند تفریحی سرگرمیوں میں مشغول رکھنا اور تعلیمی نظام کے ایک لازمی جزوکے طور پر کھیلوں کو فروغ دینا ہونا چا ہیے،اس اقدام کے تحت، تمام نجی و سرکاری پرائمری سکول ہفتے میں ایک روز کھیلوں کیلئے مختص کرنے کے پابند ہوں،اس پالیسی کے تحت تمام ہائی سکولوں اور ہائر سیکنڈری سکولوں میں ایک فزیکل ایجوکیشن کا ڈائریکٹر تعینات کیا جائے،نوجوانوں کو پیشہ وارانہ کوچنگ اور تربیت فراہم کرنے کیساتھ ساتھ کھیلوں کے اپنے قومی سٹارز کو مختلف محکموں میں کنفرم نوکریاں بھی فراہم کی جائیں،اس پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے شعبہ تعلیم کے تمام محکموں اور ان کی متعلقہ نظامتوں میں ایک سپورٹس سیکشن تشکیل دیا جائے،جوسکولوں کے مابین مقابلوں کیلئے کھیلوں کے سالانہ کیلنڈر کا انصرام کرنے، ایسے کیلنڈر میں درج سرگرمیوں کی نگرانی اور عملدرآمد کرانے اور سکولوں، کالجوں، تکنیکی اداروں اور جامعات کی بطورِ کل کارکردگی کا تجزیہ کرنے کے ذمہ دار ہوں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کا راز تین چیزوں میں پوشیدہ ہوتا ہے جس میں تعلیم، صحت اور صحت مندانہ سرگرمیاں شامل ہیں، کھیل اس لحاظ سے بھی اہمیت کے حامل ہیں کہ ان سے انسان ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رہتا ہے اب چونکہ سیٹلائٹ کا زمانہ ہے موبائل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحان نے جسمانی فٹنس کی سرگرمیاں بالکل ختم کر دی ہیں، بچے سارا دن کمپیوٹراور موبائل پر مگن رہتے ہیں، زمانے کی ترقی نے مشین سے کام کو آسان کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ اب بیماریاں جلد حملہ آور ہوتی ہیں بالخصوص شوگر اور بلڈپریشر کا مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا نظر آتا ہے لہٰذامیں والدین کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھائی کے ساتھ صحت مندانہ سرگرمیوں کی طرف راغب کریں تاکہ ہماری نوجوان نسل ذہنی و جسمانی طور پر مضبوط بن سکے اور اس طرح نئے کھلاڑیوں کو بھی میدان میں آنے کا موقع ملے گا، کھیل انسان میں نظم و ضبط، امن و محبت اور بھائی چارے کے علاوہ جسم کی نشوونما کرتا ہے،کھیل انسانوں میں نظم و ضبط، اتحاد، امن، محبت، بھائی چارے کے علاوہ دماغ اور جسم کی نشوونما کرتا ہے،کھیل روزمرہ زندگی میں ذہنی الجھنوں یا پریشانی اور ذہنی کھینچاؤ سے نجات دلاتا ہے، انسانی حرکات کوکنٹرول کرتا ہے صحت پر اچھے نتائج مرتب کرتا ہے سر سے لے کر پاؤں تک کے پٹھوں کے نظام کو مضبوط اور لچکدار بناتا ہے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی


loading...