بین سٹوکس، جو روٹ نے بھی 4روزہ ٹیسٹ میچ کی مخالفت کر دی

    بین سٹوکس، جو روٹ نے بھی 4روزہ ٹیسٹ میچ کی مخالفت کر دی

  



لاہور(آئی این پی)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کیلنڈر سے وقت بچانے اور کھلاڑیوں پر کام کا بوجھ کم کرنے کیلئے4روزہ ٹیسٹ میچ کی تجویز پر غور کر رہی ہے لیکن کرکٹ بورڈز، سابق و موجودہ کرکٹرز اور ماہرین کی اکثریت اس تجویز کی مخالفت کر رہی ہے۔فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن کے علاوہ ویرات کوہلی، فاف ڈوپلیسی، پاکستان کے سابق کرکٹر شعیب اختر سمیت متعدد افراد بھی اس تجویز کی مخالفت کر رہے ہیں اور انگلش کھلاڑی جو روٹ اور بین سٹوکس نے اس تجویز کے خلاف میدان میں آ گئے ہیں۔انگلینڈ کے آل رانڈر بین سٹوکس نے حال ہی میں جنوبی افریقہ کیخلاف کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں عمدہ کارکردگی دکھائی اور میچ جیتنے کیلئے درکار آخری تینوں کھلاڑی آٹ کر کے اپنی ٹیم کو ناصرف 189 رنز کے بڑے مارجن سے فتح دلائی بلکہ چار میچوں کی سیریز بھی 1۔1سے برابر کر دی۔انہوں نے چار روز ٹیسٹ میچ کی تجویز سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ میچ بہترین مثال ہے کہ 5 روزہ ٹیسٹ میچ برقرار رہنا چاہئے، کرکٹ کے کھیل میں یہ سب سے بہترین فارمیٹ ہے۔اس سے قبل جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کے کپتان فاف ڈوپلیسی بھی اس تجویز کی مخالفت کر چکے ہیں حالانکہ جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ نے اپنے پالیسی بیان میں اس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

بھار تی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی پہلے ہی اس کی مخالفت میں بول چکے ہیں جن کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں خالصتا تفریح اور منافع کو بڑھانے کی بات کر رہے ہیں اور میرے خیال سے یہ ارادہ ٹھیک نہیں ہو گا، پھر آپ 3 روزہ ٹیسٹ میچ کی بات کریں گے، میرا مطلب ہے کہ آپ کب رکیں گے؟۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی


loading...