صدر ٹرمپ کیخلاف مواخذے کی کارراوئی تاخیر کا شکار

صدر ٹرمپ کیخلاف مواخذے کی کارراوئی تاخیر کا شکار

  



واشنگٹن(این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے میں تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت مزید طول پکڑ گیا جب سینیٹ میں اکثریتی پارٹی کے قائد مچ مکونیل نے کہا کہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مزید کوئی بات چیت نہیں ہو گی، جب کہ ایوان نمائندگان کی اسپیکر، نینسی پیلوسی نے اضافی تفصیل اور گواہان پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق سینیٹ میں مکونیل کو اکثریت حاصل ہے جس سے ری پبلیکن پارٹی یہ فائدہ اٹھا سکتی ہے کہ صدر کے خلاف کارروائی میں الزامات میں ان کی فوری بریت کی کوشش کرے، لیکن پیلوسی کی جانب سے مواخذے میں عائد الزامات پیش کرنے میں ہچکچاہٹ سے کام لینا کارروائی کے تعطل کا باعث بنی۔کارروائی کے آغاز پر تاخیر کا شبہ تھا لیکن، طریقہ کار اور ضابطوں کی نوعیت کا یہ عمل دونوں آزمودہ قانون سازوں کے درمیان پنجہ آزمائی تک پہنچ گیاجب کہ مواخذے کا مقدمہ کبھی کبھار پیش آنے والا معاملہ ہے جو قومی تاریخ کا تیسرا مقدمہ ہے۔اب یہ مقدمہ سینیٹ میں چلایا جائے گا جہاں ری پبلیکن پارٹی کو معمولی اکثریت حاصل ہے۔ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ پیلوسی مواخذے کے اہداف ہمارے حوالے نہیں کرنا چاہتیں جنھیں ابتدائی طور پر مؤقف تبدیل کرنے کی شہرت رکھنے والے شفٹی شف جیسے بدعنوان سیاست دانوں نے دھوکے بازی سے وضع کیا، چونکہ تفتیش اور اذیت رسانی کے ان برسوں کے دوران، وہ جرائم بیان نہیں کرتے بلکہ مذاق اور دھوکہ دہی میں یقین رکھتے ہیں۔کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ پارٹی کے رکن، ایڈم شف نے ایوان نمائندگان میں مواخذے کی انکوائری کی سربراہی کی تھی۔

مزید : علاقائی