پاکستانی داعشی کارکنان کے اہل خانہ کو واپس بھیجا جائیگا، افغانستان

پاکستانی داعشی کارکنان کے اہل خانہ کو واپس بھیجا جائیگا، افغانستان

  



کابل(آئی این پی)افغان حکام نے کہا ہے کہ پاکستان کے داعشی اراکین اور ٹی ٹی پی کے ان افراد کی خواتین اور بچوں کو پاکستان کے حوالے کیا جا رہا ہے جنہوں نے افغان حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ہیں، ان خاندانوں میں 50خواتین اور 76بچے شامل ہیں، جنگ سے تنگ آ کر 1300پاکستانی داعشی اور ٹی ٹی پی کے اراکین نے خود کو حکومت کے حوالے کر دیا ہے، افغان قوم خواتین کی عزت کرتی ہے اسلئے انہیں اور ان کے بچوں کو پاکستان میں لواحقین کے سپرد کیا جا رہا ہے، رشتہ داروں کی شناخت کا عمل شروع کیا جا چکا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان حکام نے کہا ہے کہ پاکستان کے داعشی اراکین اور ٹی ٹی پی کے ان افراد کی خواتین اور بچوں کو پاکستان کے حوالے کیا جا رہا ہے جنہوں نے افغان حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔ داعشی اراکین کی جانب سے ہتھیار چھوڑنے کا عمل نومبر 2019میں شروع ہوا تھا۔ بہت سے اراکین جنگ سے تنگ آچکے ہیں۔ داعشی و ٹی ٹی پی اراکین کی 50خواتین اور 76بچے پہلے مرحلے میں پاکستانی لواحقین کے حوالے کئے جائیں گے اس ضمن میں شناختی عمل شروع کیا جا چکا ہے۔ افغان حکام کا مزید کہنا تھا کہ یہ خاندان پاکستانی فوج کی جانب سے کئے گئے آپریشن ضرب عضب کے بعد افغانستان میں آ کر آباد ہوئے تھے۔ ان افراد کا تعلق پاکستان کے علاقے ادی تیراہ اور اورکزئی اور باجوڑ ایجنسیوں سے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ سے تنگ آ کر 1300پاکستانی داعشی اور ٹی ٹی پی کے اراکین نے خود کو حکومت کے حوالے کر دیا ہے، افغان قوم خواتین کی عزت کرتی ہے اسلئے انہیں اور ان کے بچوں کو پاکستان میں لواحقین کے سپرد کیا جا رہا ہے۔

مزید : علاقائی