اپوزیشن کی حمایت کو آرمی سروسز ایکٹ سے جوڑ نامناسب نہیں، شفقت محمود

اپوزیشن کی حمایت کو آرمی سروسز ایکٹ سے جوڑ نامناسب نہیں، شفقت محمود

  



اسلام آباد(آئی این پی)وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی حمایت کو آرمی سروسز ایکٹ سے جوڑنا مناسب نہیں،اپوزیشن سے اچھے تعلقات مذاکرات کا نتیجہ ہیں،ا یسی کوئی ڈیل نہیں ہوئی کہ نیب قانون میں ترمیم کی جائے، کرپٹ لوگوں کیخلاف کارروائی ہمارے لئے دو دہاری تلوار ثابت ہوئی ہے، جیسے کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالا تو تاجر برادری اور بیورو کریسی ہراساں ہونا شروع ہو گئے تھے،اگر اپوزیشن کے ساتھ مل کر ایسا قانون پاس ہوتا ہے جس سے نیب کا طریقہ کار متاثر نہ ہو تو یہ خوش آئند بات ہے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ اپوزیشن سے کافی ملاقاتیں ہوئیں جن کا انہوں نے مثبت جواب دیا، اپوزیشن نے کہا تھا کہ آرڈیننس واپس لیں ہم بل منظور کرادیں گے اسی وجہ سے چار بل منظور ہوئے باقی سینیٹ میں منظور ہو جائیں گے،ا پوزیشن نے کہا تھا جتنے لوگ گرفتار ہیں ان کیلئے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں، ہم نے ان چیزوں کا بندوبست کیا اب اپوزیشن اور حکومت میں اچھی فضاء قائم ہے۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ اپوزیشن کی حمایت کو آرمی سروسز ایکٹ سے جوڑنا مناسب نہیں،اپوزیشن سے اچھے تعلقات مذاکرات کا نتیجہ ہیں،ا یسی کوئی ڈیل نہیں ہوئی کہ نیب قانون میں ترمیم کی جائے،ہم نے نیب آرڈیننس میں سرکاری اداروں اور پرائیویٹ بزنس مینوں کے کیسز الگ الگ کردیے ہیں، اس قانون کے حوالے سے جب بات ہوگی تو اپوزیشن کی جو تجاویز ہم سمجھیں گے کہ ہمارے مطلب کی ہیں تو ہم تسلیم کریں گے،ہماری ترامیم اگر انہیں منظور ہیں اور ان کی تجاویز جو وہ سامنے رکھیں گے تو یہ آرڈیننس بل بن جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے کرپشن کی ہے ان کے خلاف اب گھیرا تنگ ہوگا،ا پوزیشن کے ساتھ مل کر نیب کا جو قانون بنے گا اس سے ادارہ مضبوط بنے گا، نیب حکومت کے ماتحت نہیں ہے یہ ایک الگ خودمختار ادارہ ہے۔

شفقت محمود

مزید : علاقائی


loading...