آپ کو دیکھا جارہا ہے

آپ کو دیکھا جارہا ہے

  



کاشان نیک،مگر غریب والدین کی اولاد تھا۔اس کے ابو سارا دن کام کاج کے سلسلے میں گھر سے باہر ہوتے۔شام کو تھکے ہارے آکر چار پائی پر گر جاتے،لیکن امی نے اس کی خوب اچھی تربیت کی تھی،لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا کا شان روز بروز بگڑتا جا رہا تھا۔یہ سب کچھ ہائی سکول میں جانے کے بعد ہوا تھا۔والدہ کو محسوس ہوا کہ ان کا بیٹا کسی غلط محبت کا شکار ہو چلا ہے۔

کا شان اور امان کی ملاقات پہلی بار سکول کی کینٹین میں ہوئی تھی۔پھر دونوں کی دوستی حیرت انگیز طور پر بڑھتی چلی گئی۔امان کی بْری عادتوں کے باوجود وہ امان کو چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں تھا۔اسے پاؤں تلے زمین نکلتی تب محسوس ہوئی جب پتا چلا کہ اس کا دوست چھوٹی موٹی چیزوں کی چوری کو خاطر میں نہیں لاتا اور بے دھڑک انتہائی پھرتی کے ساتھ دوستوں کی جیبوں پر ہاتھ صاف کر لیتاہے۔

پہلے پہل تو کا شان روک ٹوک کرتا رہا،لیکن امان ٹس سے مس نہ ہوا۔غیر محسوس طور پر کا شان دھیرے دھیرے اس کے رنگ میں رنگنے لگا۔دونوں مل کر جیب خرچ پورا کرنے کے لیے دوسروں کی جیبوں اور چیزوں کا صفایا کرنے لگے۔ایک دن کا شان اور امان بائیک پر سوار ایک سپر سٹور کے سامنے تھے۔آج دونوں کو زور کی بھوک لگی تھی۔جیب میں ایک پائی بھی نہ تھی۔آج دونوں نے سکول سے بھی چھٹی کی تھی۔بائیک ایک طرف کھڑی کی،اب دونوں کا رْخ سٹور کے دروازے کی طرف تھا۔سٹور اچھا خاصا بڑا تھا۔ہفتہ بھر پہلے بھی امان نے یہاں سے انتہائی پھرتی کے ساتھ نوڈلز کا ڈبہ بغلی جیب میں منتقل کر دیا تھا۔دونوں سٹور کے اندر ایسے ٹہل رہے تھے جیسے وہ کچھ خریدنے آئے ہوں۔

”میں ہاتھ صاف کروں گا تم اِدھر اْدھر نگاہیں دوڑانا کہیں کوئی دیکھ نہ لے۔“امان نے کا شان کے بائیں کان میں سر گوشی کی۔

امان کے سامنے چاکلیٹ کے ڈبے پڑے تھے۔وہ للچائی نظروں سے ان کو دیکھ رہا تھا۔اگلے لمحے اس کا بایاں ہاتھ حرکت میں آیا۔وہ ڈبا اْٹھانے ہی والا تھا کہ اسے اپنا ہاتھ دبتا محسوس ہوا۔ایک لمحے کے لیے اس کا دل زور سے دھڑکا،لیکن مڑکر دیکھا تو کاشان اسے آنکھ کے اشارے سے روک رہا تھا اور ساتھ ہی کن آنکھیوں سے چھت کی طرف دیکھنے کو کہا۔ جیسے ہی امان نے نگاہ اْٹھائی وہ کانپ کررہ گیا۔دونوں کیمرے کی آنکھ میں تھے۔اوپر لٹکتے بورڈ پر موٹے حروف میں لکھا تھا:”آپ کو دیکھا جارہا ہے۔“

پہلی دفعہ جب یہاں آیا تھا تو کیمرے نہیں تھے۔”شکر ہے تم نے بر وقت بتلایا،ورنہ جانے کیا درگت بنتی۔“دروازے سے باہر آتے ہوئے امان نے جھر جھری لیتے ہوئے کہا۔دونوں بنا کوئی چیز اْٹھائے پلک جھپکتے وہاں سے نو دو گیارہ ہو گئے۔دوسری طرف کا شان کی والدہ کے ہاتھ دعا کے لیے اْٹھے ہوئے تھے:”یا اللہ!میرے بیٹے کو سلامت رکھ۔اے دلوں کے پھیرنے والے!میرے بیٹے کا دل بْرائی سے نیکی کی طرف پھیر دے۔“ان کی دعا قبول ہوئی تہجد میں اْٹھ کر بھی آج انھوں نے خوب رو رو کر دعا کی تھی۔شاید امی کی دعا کی برکت تھی جو آج وہ کیمرے کی زد میں آنے کے باوجود بال بال بچے تھے۔

”یہاں نہ سہی کہیں اور قسمت آزمائی کرتے ہیں۔“امان بائیک دوڑاتے ہوئے بول رہا تھا۔چند لمحوں میں ان کی بائیک ایک لمبی چوڑی دکان کے سامنے رکی۔دونوں بائیک سے اْتر کر اندر چلے آئے۔کاؤنٹر پر ایک نوجوان بیٹھا تھا۔اندر آتے ہی اس نے دونوں کو بس ایک نظر دیکھا۔

پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ان سے پہلے دو تین گاہک اور بھی موجود تھے۔اب دونوں اِدھر اْدھر ٹہلتے،موقع کی تلاش میں تھے۔احتیاطاً کا شان نے اوپر نیچے نگاہیں دوڑائیں،لیکن کسی کیمرے کا دور دور تک نام ونشان نہ تھا،لیکن دیوار پرایک جگہ کچھ لکھا دیکھا تو اسے ایک زبردست جھٹکا لگا تھا۔

”کیا ہوا تمھیں؟“امان نے اس کا چہرہ فق ہوتے دیکھا تو دھیمی آواز میں پوچھا،لیکن دوسری طرف مکمل سناٹا تھا۔

کاشان نے دیوار کی طرف اْنگلی اْٹھائی۔نظر پڑتے ہی امان بھی کانپ کررہ گیا۔دیوار پر آویزاں فریم پر لکھے ایک جملے نے انھیں بدل کر رکھ دیا تھا۔

ابھی تک وہ ایک مصنوعی کیمرے کی آنکھ کو دیکھ کر فوراً محتاط ہو جاتے۔آج انھیں پتا چل گیا تھا کہ کوئی دیکھنے والا انھیں مسلسل دیکھ رہا ہے۔ان کا ہر عمل نوٹ کیا جارہا ہے۔دیوارپرلکھا تھا:”اللہ دیکھ رہا ہے۔“دونوں اْلٹے پاؤں پلٹ گئے،ہمیشہ کے لیے۔کاشان کی امی کی دعا قبول ہو چکی تھی۔

مزید : ایڈیشن 1