افواہ سازی

افواہ سازی

  



بہت سے لوگوں کو بات بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کی عادت ہوتی ہے۔بات اتنی ہوتی نہیں جس قدر وہ بڑھا کر بیان کرتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا جاتاہے:”رائی کا پہاڑ بنانے والے“یا”پَر سے پرندہ بنانے والے“یعنی مبالغے کی حد کر دیتے ہیں۔

ہمارے محلے کی ایک خاتون خالہ نسیمہ ایک دفعہ ہمارے گھر آئیں۔کہا کہ پڑوس والے اسلم صاحب کافی بیمار ہیں۔ڈاکٹروں نے کینسر بتایا ہے۔بہت پریشان ہیں بے چارے۔مالی مدد چاہتے ہیں۔یہ سن کر امی ابو کو بہت افسوس ہوا۔ابو نے اپنی بچت سے چند ہزار روپے لے کر اسلم صاحب کے گھر چلے گئے۔

کیا دیکھا کہ اسلم صاحب کرسی پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں اور ماشاء اللہ بالکل تندرست لگ رہے ہیں۔ابو ہکا بکارہ گئے۔اسلم صاحب نے مسکرا کر کہا:”آئیے آئیے شاہد بھائی!کیسے ہیں آپ؟“

ابو نے کہا:”جی میں تو ٹھیک ہوں آپ سنائیے،سناہے بیمار ہیں۔“

”ارے شاہد بھائی؟بس ملیریا نے ایسا لپیٹ میں لیا کہ ساری طاقت جیسے نکل گئی۔اب تو خدا کے فضل سے بالکل ٹھیک ہوں،بس کچھ کمزوری اب بھی باقی ہے۔دوائیں باقاعدگی سے لے رہا ہوں۔آپ سنائیں اپنا حال احوال۔“

ابو یہ سن کر حیران رہ گئے۔

بہر حال انھوں نے اسلم صاحب سے کوئی تذکرہ نہ کیا۔خوا مخواہ شرمندگی اْٹھانی پڑتی۔گھر آکر امی کو ساری بات بتائی۔امی نے کہا:”توبہ توبہ کس قدر جھوٹی عورت ہے یہ نسیمہ۔“

آج عامر بس سٹاپ پر دیر سے پہنچا۔بس نکل گئی۔وہ اسکول نہ پہنچ پایا۔

عدنان نے شام کو گھر آکر بتایا:”سر اسحاق بہت غصے میں تھے۔کہہ رہے تھے،عامر نالائق اور غیر ذمے دار لڑکا ہے،جب آئے گا تو اس کی اچھی طرح خبرلوں گا۔“

عامر یہ بات سن کر پریشان ہوا۔صبح ہونے والی بے عزتی کے خوف سے وہ ساری رات سو نہ سکا۔

اگلے دن سکول گیا اور سر اسحاق کے پیریڈ سے پہلے ان کے پاس اسٹاف روم گیا کہ کہیں کلاس میں بے عزتی نہ ہو جائے۔ڈرتے ڈرتے اس نے سر سے کہا:”سر!میں پرسوں اس لیے نہیں آسکا تھا کہ بس چلی گئی تھی،اس وجہ سے میں آپ کا ٹیسٹ نہیں دے سکا۔“

”کوئی بات نہیں بیٹا!مجھے معلوم ہے آپ کا قابل اور ذمے دار طالب علم ہیں۔آپ آج پی ٹی کے پیریڈ میں مجھے ٹیسٹ دے دینا۔“سر اسحاق نے شفقت سے کہا۔

استاد کا مشفق رویہ محسوس کرکے عامر بہت خوش تھا۔رہ رہ کر عدنان پر غصہ آرہا تھا۔خواہ مخواہ مجھے ڈرادیا۔ثریا پھپو گھر آئی ہوئی تھیں۔باتوں باتوں میں ثانیہ خالہ کا ذکر چل نکلا۔انھوں نے بتایا:”ثانیہ اور اس کے گھر والے ناران کا غان سیر پر جارہے ہیں۔پورا ایک مہینے کا پروگرام ہے۔خوب گھومیں پھریں گے۔“

امی جان نے کہا:”اوہو،ہمیں تو اس اتوار ان کی بیٹی کی میٹرک میں کامیابی پر مبارک دینے کے لیے ان کے گھر جانا تھا۔“

”اب مہینے بعد جانے کا پروگرام بنانا۔“ثریا پھپونے مفت مشورہ پیش کیا۔

اتفاقاً تین دن بعد ایک تقریب میں امی جان کا ثانیہ خالہ سے آمنا سامنا ہوا۔

حال احوال کے بعد امی جان نے کہا:”سنا ہے آپ سب لوگ ناران کا غان گھومنے پھرنے جارہے ہیں۔چلو اچھا ہے۔ایک مہینہ خوب گھوم پھر لینا۔“

ثانیہ خالہ نے حیران ہو کر کہا:”کہاں کی سیر،کیسی سیر،میرے چھوٹے بیٹے کو سخت بخار اور نزلہ زکام ہے۔ابھی اس کو بڑی بیٹی کے پاس چھوڑ کر مشکل سے آئی ہوں۔ایسی حالت میں ہم کہیں نہیں جا سکتے۔آپ کو کس بے وقوف نے یہ بات بتائی ہے۔“

امی نے شرمندگی سے کہا:”کسی سے سنا ہے کہ آپ لوگ ایک مہینے کے لیے ناران کا غان جارہے ہیں۔“

”ناران کا غان کا ٹرپ توہم گرمی کی چھٹیوں میں بنائیں گے،وہ بھی ایک ہفتے کے لیے جائیں گے،ایک مہینے کے لیے نہیں۔“ثانیہ خالہ مسکرا کر بولیں۔

امی جان بے چاری کافی شرمندہ ہوئیں۔

تو ساتھیو!کسی کی باتوں پر بغیر تصدیق کیے یقین کرنے کا یہ انجام ہوتاہے۔کسی بھی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کرنی چاہیے،تاکہ بعد میں پچھتاوا یا شرمندگی نہ ہو۔

مزید : ایڈیشن 1