کہانی کا ہل میاں کی

کہانی کا ہل میاں کی

  



کاہل میاں کو اپنے مٹاپے کے علاوہ جس چیز سے پیار تھا وہ تھی سائنس کی ترقی،کیونکہ سائنس کی پیدا کی ہوئی سہولتیں ان کے مٹاپے کو بر قرار رکھنے میں ان کا ساتھ دے رہی تھیں۔یہ جاننا مشکل تھا کہ کاہل میاں اپنی کاہلی کی وجہ سے اس قدر موٹے ہوگئے تھے یا مٹاپے کی وجہ سے کاہل ہو چلے تھے؟

خیر،ان کے وزن سے پہلے ان کے نام کا تعارف کرادیں تو بہتر ہو گا۔

نام تو ان کے دادا جان نے بڑے پیار اور ارمان سے کامل میاں رکھا تھا اور تھا بھی بہت اچھا تھا،لیکن کاہل میاں نے کاہلی کا روگ ایسا پالا کہ وہ ہرایک کی نظر میں کامل سے کاہل ہو گئے۔گویا کاہل میاں۔جب بھی کوئی کام کرنے کے لیے کہا جاتا تو فوراً ہی کہہ دیتے کہ یہ تو میں پہلے ہی کر چکاہوں،یا میں نہیں کروں گا یا مجھے کرنا ہی نہیں آتا۔

ہاتھ پیر مارنے کی عادت جھولے میں ہی ترک کر دی تھی۔بڑے ہونے کے بعد جو کام ان کو سکھائے گئے وہ لاڈلا ہونے کی وجہ سے سکھانے والوں کو خود ہی کرنے پڑتے تھے۔سکول جانے کی عمر ہوئی تو انھیں پتا چلا کہ سکول میں امی جیسی کسی سہولت کا وجود نہیں،جو منہ میں نوالے رکھے اور جوتے کا کھلا ہوا فیتہ باندھے۔سوبھوکے پیاسے روتے گھر پہنچتے اور امی سے خوب لاڈ اْٹھواتے جیسے کوئی پہاڑ سر کرکے آئے ہوں۔

آرام اور کھانا کاہل میاں کی زندگی ان دو کاموں کے گرد گھومتی تھی۔کھانے سے پہلے آرام،آرام کے بعد کھانا اور کھانے کے بعد پھر کھانا۔

ان کو ہر قسم کی محنت سے نفرت تھی۔جب کچھ بڑے ہوئے اور معلوم ہوا کہ دنیا میں سائنس نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ ہر کام ٹیکنالوجی کی مدد سے صرف بٹن دبا کر ہو سکتاہے یہ جان کر تو وہ ہر قسم کے بٹنوں کے عاشق ہی ہو گئے۔ہر وقت ان چکروں میں رہتے کہ بٹن دبائیں اورکام ہو جائے۔ صرف کھانے اور آرام کی اس بے ڈھب روش نے ان کو ایک ہی چیز دی تھی اور وہ تھا ان کا بے حساب وزن،یعنی مٹاپا۔

کاہل میاں کافرمان تھا:”یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔اس میں ہر کام اْنگلی کے اشارے سے ہو جاتاہے۔پھر باقی جسم کو تکلیف دینا دراصل ان تمام سائنس دانوں سے زیادتی ہے،جنھوں نے یہ ساری ایجادات سے انسانوں کے لیے آسانیاں مہیا کی ہیں۔“

کاہل میاں کے لیے سکول سے چھٹی کا دن ایسا ہوتا تھا جس میں وہ بستر میں غروب ہوتے تو دیکھتے جاتے،مگر طلوع نہیں ہو پاتے۔ایسے ہی ایک چھٹی کے دن دوپہر ہونے کو آئی تھی اور کاہل میاں بستر میں ڈوبے ہوئے تھے کہ امی نے پیار سے آواز دی:”بیٹا!کامل!ہرادھنیا تو لادو مجھے۔ محسن جارہا تھا سب کچھ اسی سے منگا لیا،مگر اس وقت ہرادھنیا منگوانا بھول گئی تھی۔“محسن کاہل میاں کے بڑے بھائی تھے۔کاہل میاں کی کاہلی پہ سخت چوٹ پڑی کہ نرم گرم بستر سے نکل کر سبزی والے کے ٹھیلے تک جائیں تو کیسے جائیں۔سوبستر میں کسمساتے ہوئے لحاف منہ سے سرکایا اور ارشادفرمایا:”امی!کیا ہرے دھنیے کے بغیر کھانا نہیں پک سکتا؟سائنس نے اتنی ترقی کرلی ہے اور آپ ہیں کہ کھانا پکانے کے لیے ہرے دھنیے کی محتاج ہیں؟“

امی جھنجلا اْٹھیں،لیکن بیٹا لاڈلا تھا۔اس کے قریب آکر نرمی سے بولیں:”بیٹا!ہرادھنیا اور پودینے سے رائتہ بنانا ہے۔پودینہ تو فرج میں رکھا ہے۔تم جانتے ہو کہ تمھارے ابو اور بھائی رائتے کے بغیر بریانی نہیں کھاتے،تمھاری پسند کی بریانی بنائی ہے۔بس جلدی سے ہرادھنیا لادو میرے بچے!شاباش۔“

کاہل میاں منہ پھاڑ پھاڑ کر جمائیاں لیتے ہوئے بولے:”کیا رائتہ دھنیے پودینے کے بغیر بنانے کی کوئی جدید ٹیکنالوجی دریافت نہیں ہوئی امی!“

اب تو امی کو بھی غصہ آگیا:”حد کرتے ہوکامل!تم کچھ زیادہ ہی کاہل ہوتے جارہے ہو۔سب تمھیں کامل کے بجائے کاہل ٹھیک ہی کہتے ہیں۔اْٹھو دوپہر کے دو بجنے والے ہیں۔تمھارے ابو اورمحسن صبح نو بجے سے سائٹ پہ گئے ہیں۔ابھی آکر کھانا مانگیں گے مجھے دھنیا لاکر دو۔“امی نے غصے سے کامل میاں کا لحاف کھینچ لیا۔

امی!سائنس کی ترقی کے اس دور میں آپ مجھے سبزی والے کے ٹھیلے تک بھیج رہی ہیں۔ایک معمولی ساہرا دھنیا لانے کو؟یہ دیکھیں موبائل پہ اب راشن شاپ ہے۔آن لائن سبزی گوشت منگایا جا سکتاہے۔صرف بٹن دبا کے ہرادھنیا آرڈر کر سکتا ہوں۔“کامل میاں نے ہاتھ مار کے میز سے اپنا موبائل اْٹھالیا۔

امی سر پر ہاتھ مار کے کچن میں چلی گئیں۔جب کہ کاہل میاں موبائل کے بٹن دبانے لگے۔ویب سائٹ میں سبزیوں کا خانہ کھول کے لگے سر کھجانے کہ تمام سبزیوں کے نام انگریزی میں لکھے تھے اور کاہل میاں صرف کھانے پینے میں اول تھے۔باقی ہر مضمون میں وہ پھسڈی تھے۔ہرادھنیا کی انگریزی دیکھنے کو گوگل کھول کے بیٹھے،لیکن کچھ سمجھ نہ پائے کہ اتنے میں امی نے آواز دی:”کامل بیٹا!تمھارے ابو اور بھائی آگئے ہیں اور کھانا بھی لگا دیا ہے۔آجاؤ۔“کھانا لگ جانے کا اعلان واحد چیز تھی جو کاہل میاں کو حرکت میں لاسکتی تھی فوری طور پہ بستر سے چھلانگ مار کر اْترے اور منھ پہ چھپا کے مارنے دوڑے کہ ایسا کیے بغیر امی سے ڈانٹ کھانی لازمی تھی۔

”امی!کاہل میاں کا مٹاپا بڑھتا جارہا ہے۔آپ نے دیکھا تھا۔آج وہ کرسی پہ بیٹھے تو ان کا جسم کرسی کی دونوں جانب لٹک رہا تھا۔“دوپہر کے کھانے کے بعد کاہل میاں جب دوبارہ بستر میں ڈوب گئے تو سبز چائے پیتے ہوئے محسن بھائی نے ماں باپ سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

”ہاں یہی پریشانی مجھے بھی ہے۔

سوچ رہا ہوں،نئی کرسیاں بنوالوں،ذرا بڑے سائز کی۔بے چارہ کامل پھنس پھنسا کے بیٹھتا ہے۔سکون سے بیٹھے گا بڑی کرسیوں پہ۔“ابو اخبارتہ کرتے ہوئے پیار بھرے لہجے میں بولے۔

”حد ہو گئی ابو! میں کامل میاں کے مٹاپے کو کم کرنے کو کہہ رہا ہوں اور آپ ہیں کہ بڑی کرسیاں بنوا کے اس کا مٹاپا بڑھانے کے لیے مزید گنجائش پیدا کررہے ہیں۔“محسن بھائی نے سر تھام لیا۔”اچھا اب تم اتنا بھی نہ گھبراؤ۔بچہ ہے،کھانے پینے کا شوقین ہے۔اس عمر میں بچے گولومولوہی اچھے لگتے ہیں۔“امی بھی لاڈ بھرے لہجے میں بول اْٹھیں۔

”کھانے پینے کا شوقین ہونا اور بات ہے،لیکن وہ تو اپنی جگہ سے ہل کے پانی تک نہیں پیتا۔اتنا کھانے کے بعد بستر پہ لیٹا رہتاہے۔اتنی کاہلی اس کے مٹاپے کو خطر ناک بنارہی ہے۔“محسن بھائی جھنجھلاکے بولے۔

”کل اسے لیموں کا جوس اور سونف کا پانی پلایا تھا۔تمھاری پھپھو نے کہا تھا کہ اس سے وزن کم ہوتاہے۔تمھاری پھپھو کو بھی تو میرے بچے کا وزن کاٹتا ہے نا؟“امی خفا ہو کے بولیں۔

”تو بچوں کی خالہ جان بھی تو وزن کم کرنے پہ لیکچر دے کر گئی تھیں پچھلے اتوار کو۔وہ یاد نہیں آپ کو،جس کو سن کے میرا خون اتنا کھولاتھاکہ میراا پنا آدھا کلو وزن گھٹ گیا تھا۔“ابو غصے سے بولے۔”افواہ میں تو صرف یہ کہہ رہاہوں کہ اس کو ہلانے جلانے کی کوشش کریں ورنہ وہ ہر کام مشین سے لینے کے چکروں میں ہاتھ پیر ہلانے سے بھی جائے گا۔ پھپھو ہوں یا خالہ،ہماری دشمن تو نہیں ہیں ناں،وہ کامل میاں کی بھلائی کے لیے ہی تو کہتی ہیں۔“محسن بھائی نرمی سے بولے۔

”بس بس رہنے دو۔آج چھٹی کے دن میرے ساتھ سائٹ کیا چلے گئے!مجھ پہ احسان جتارہے ہو؟محسن!تم منے سے بارہ سال بڑے ہو۔تم دیکھنا وہ تمھاری عمر میں آئے گا تو تمھارے ذمے داریاں بھی سنبھال لے گا۔ابھی اسے کھانے پینے اور تفریح کرنے دو۔“ابو نے غصے میں دو ٹوک فیصلہ سنا دیا۔امی بھی سرہلارہی تھیں۔محسن بھائی خاموش ہو گئے۔یہ ساری گفتگو چھپ کے سننے والے کاہل میاں کے تو مزے ہو گئے۔

اب کاہل میاں دن رات آرام کیا کرتے تھے۔بٹن دبا کے سکول پہنچنے کو گاڑی تھی۔اس میں شیشہ بھی بٹن دبانے سے کھلتا اور بند ہو جاتا تھا۔موبائل کے بٹن دبا کے جب جی چاہتا کھانا منگالیا کرتے۔خاص کر ان دنوں میں جب امی کی طبیعت خراب تھی اور وہ صرف سبزیاں پکا رہی تھیں۔موٹے تازے کاہل میاں کو تازہ سبزیوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ان کو لوکی،بھنڈی اور توری بالکل نہیں کھانی تھی۔چنے اور ارہر کی دال سے ان کی جان نکلی تھی۔ایسے میں کاہل میاں موبائل کے بٹنوں پہ خوب پھرتی دکھارہے تھے اور دھڑ ادھڑ بازار کے پیزے،برگر اور گھی اور مرچوں سے بھر پور بریانی کے آرڈر کررہے تھے۔اکثر چیزیں بستر پر ہی کھاتے پیتے۔جس کی وجہ سے بستر کسی کباڑیے کا بستر معلوم ہوتا تھا۔ جگہ جگہ سالنوں کے داغ اور برگر کے کاغذ بکھرے ہوئے تھے۔اس گندگی میں ایک ہی چیز ترقی کر رہی تھی اور وہ تھا کاہل میاں کا مٹاپا!جو دن دونی اور رات چوگنی ترقی کررہا تھا۔

رات کو بازار کی نہاری،صبح بازار کی حلوہ پوری کے بعد اب سکول میں بھاری بھر کم کئی منزلہ برگر خوب سارا پنیر ڈال کے کھارہے تھے کہ عجیب سا چکر آیا اور کاہل میاں سکول کی کینٹین میں ہی بے ہوش ہو کر گر پڑے۔سکول سے اطلاع ملی تو امی کے ہاتھ پیر پھول گئے اور کپکپاتے ہاتھوں سے ابو کا نمبر ملانے لگیں۔ابو دوڑے،بھاگے آئے۔کاہل میاں کو ہسپتال پہنچایا گیا۔جہاں ان کے ڈھیر سارے ٹیسٹ کیے گئے۔امی، ابو اور محسن بھائی کا پریشانی سے بْرا حال تھا۔کسی کو سمجھ نہیں آتا تھا کہ اس ننھے سے بچے پہ کیا گزری؟پریشان صورت ڈاکٹر صاحب امی ابو کو ہوش اْڑانے والی باتیں بتارہے تھے۔دیکھیے،بچے کی جو عمر آپ لوگ بتا رہے ہیں۔اس کے حساب سے بچے کا وزن بہت زیادہ ہے۔بچے کے خون میں چکنائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ اتنا چھوٹا بچہ بھی خدا نخواستہ دل کا مریض بن سکتاہے۔آپ لوگ اس کا بازار کا کھانا بالکل بند کردیں۔کسی قسم کے روغنی کھانے نہ کھلائیے۔

اگلے پندرہ دن تک صرف اْبلی ہوئی لوکی یا چنے کی دال کھلائیے۔روزانہ بچے کو صبح شام پیدل چلائیے اور پھر اس کے سارے ٹیسٹ دوبارہ کرائیے۔

کاہل میاں کو ہوش آیا تو ڈاکٹر کی یہ باتیں سن کر دوبارہ بے ہوش ہونے کا جی چاہا۔ہائے اْبلی ہوئی لوکی اور چنے کی دال؟برگر نہاری اور بریانی؟؟جو میرے پکے دوست تھے۔۔اْف۔۔۔اور صبح شام پیدل چلنا؟یعنی اپنے پاؤں کی مدد سے چلنا پڑے گا؟اپنے ذاتی پاؤں؟کیسے لاڈ سے رکھے تھے میں نے مجال ہے جو گھس جائیں۔ہائے؟؟؟کاہل میاں ٹسر ٹسر رودیے۔ڈاکٹر سے پوچھنے کی ہمت نہ پڑی کہ کیا کوئی ایسا بٹن بھی ہے روزانہ بستر میں لیٹے لیٹے واک کرادے؟

مزید : ایڈیشن 1


loading...