”ہم نقصان میں جا رہے ہیں اس لئے مالی ریلیف دیا جائے“ پی ایس ایل فرنچائزز نے بڑا مطالبہ کر دیا مگر ساتھ ہی پی سی بی کو کیا تفصیلات نہیں دی جا رہیں؟ حیران کن انکشاف

”ہم نقصان میں جا رہے ہیں اس لئے مالی ریلیف دیا جائے“ پی ایس ایل فرنچائزز نے ...
”ہم نقصان میں جا رہے ہیں اس لئے مالی ریلیف دیا جائے“ پی ایس ایل فرنچائزز نے بڑا مطالبہ کر دیا مگر ساتھ ہی پی سی بی کو کیا تفصیلات نہیں دی جا رہیں؟ حیران کن انکشاف

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائزز کی اکثریت نے بھارتی نقصان کا دعویٰ کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مالی ریلیف کا مطالبہ کر دیا ہے لیکن اس کیساتھ ہی اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کیلئے پی سی بی کو اپنی مالی تفصیلات دینے سے بھی گریزاں ہیں۔

نجی خبر رساں ادارے ’ڈان نیوز‘ کے مطابق پی سی بی فرنچائزیز کے مطالبات پر غور کررہا ہے تاہم بورڈ کو محسوس ہورہا ہے کہ کئی فرنچائزیز کی جانب سے جس نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے،اس کی مالی تفصیلات نہ فراہم کرنے کی وجہ سے اس کی تشخیص کرنا ممکن نہیں۔معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ وہ فرنچائزیز ہیں جنہوں نے پی ایس ایل 2017ءکے بعد اپنے اکاؤنٹس مینجمنٹ کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں سال پی ایس ایل کے تمام میچز متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے بجائے پاکستان میں کھیلے جائیں گے جس سے اگلے سیزن میں مزید منافع کا امکان بڑھ گیا ہے کیونکہ ہزاروں لوگ اپنے شہروں میں ہونے والے میچز دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔اس کے ساتھ پی سی بی کو یو اے ای کی طرح سٹیڈیم کرائے پر لینے نہیں پڑیں گے جس سے لاکھوں روپے کی بچت ہوگی اور ملک میں میچز کے باعث سفری اخراجات بھی خاصے کم ہوں گے۔

دوسری جانب فرنچائزز کے مطالبات پورے کرنے کیلئے پی سی بی اصل معاہدے میں تبدیلی کرے گا جو 10 برس قبل سائن کیا گیا تھا مذکورہ معاملہ رواں ماہ کے آخر میں پشاور میں ہونے والے بورڈ آف گورنر کے اجلاس میں زیر غور آ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ فرنچائزز پی سی بی سے یہ مطالبہ بھی کررہی ہیں کہ ان سے بینک گارنٹی جمع کروانے کا نہ کہا جائے جو کہ معاہدے کا سب سے اہم حصہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فرنچائزز نے بینک ضمانت کی جگہ بعد کی تاریخوں کے چیکس جمع کروانے کی پیشکش کی ہے کہ اگر اس میں کوئی چیک قبول نہیں ہوا تو پی ایس ایل ختم ہونے کے بعد یکم اپریل سے آئندہ 2 سال تک بینک گارنٹیز جمع کرواسکتے ہیں۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پی سی بی کو بینک گارنٹیز کے بجائے بعد کی تاریخوں کے چیکس کی صورت میں کچھ سیکیورٹی مل چکی ہے اور اگر ایسا ہوا ہے تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

اس کے ساتھ فرنچائزز نے معاہدے کے تحت کی جانے والے ادائیگی میں شرح زرمبادلہ کا اطلاق نہ کرنے کی درخواست کی ہے جس سے روپے کی قدر میں کمی کے باعث انہیں تھوڑا اطمینان ملے گا۔اس صورت میں پی سی بی کم از کم بینچ مارک کی صورت میں ایک ڈالر کے عوض 138 روپے کی مالیت پر راضی ہوگیا ہے جو اس وقت ڈالر کی قیمت تھی جب پی ایس ایل کی چھٹی فرنچائز ملتان سلطان کو فروخت کیا گیا تھا۔

مزید : کھیل