ن لیگ کے موقف کے بعد ہمارے پاس کیا آپشن رہ جاتا تھا؟ قمر زمان کائرہ نے آرمی ایکٹ کی منظوری سے متعلق سوال اٹھادیا

ن لیگ کے موقف کے بعد ہمارے پاس کیا آپشن رہ جاتا تھا؟ قمر زمان کائرہ نے آرمی ...
ن لیگ کے موقف کے بعد ہمارے پاس کیا آپشن رہ جاتا تھا؟ قمر زمان کائرہ نے آرمی ایکٹ کی منظوری سے متعلق سوال اٹھادیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہاہے کہ حکومت بدنیتی سے آرمی ترمیمی ایکٹ بل کو سارے قواعد کوبالائے طاق رکھ کر پا س کروانا چاہتی تھی، جب مسلم لیگ ن نے ہم سے کہا کہ بھئی تم نے ووٹ کرناہے کرو یانہ کرو لیکن ہم نے اس بل کو ووٹ کرناہے تو پھر ہمارے پاس کیا آپشن رہ جاتا تھا ؟

سماءنیوز کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ جب آرمی چیف کی مدت توسیع کا مسئلہ شروع ہوا تو پورے ملک میں بحث شروع ہوگئی ، یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک جمہوری ملک ہوتے ہوئے ہم اپنے چیف ایگزیکٹو کویہ اختیار ہی نہ دیں کہ وہ آرمی چیف کی مدت میں توسیع کرسکے ؟انہوں نے کہا کہ حکومت بدنیتی سے ن لیگ کے ساتھ مل کر آرمی ترمیمی ایکٹ بل کو سارے قواعد کوبالائے طاق رکھ کر ایک دن میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پا س کروانا چاہتی تھی ۔

قمر زمان کا ئرہ کا کہناتھا کہ جب مسلم لیگ ن نے ہم سے کہا کہ بھئی تم نے ووٹ کرناہے کرو یانہ کرو لیکن ہم نے اس بل کو ووٹ کرناہے تو پھر ہمارے پاس کیا آپشن رہ جاتا تھا ؟کیا پیپلز پارٹی یہ کہتی تھی کہ ہم اس بل کے خلاف ہیں اور ہم نے اس بل کوووٹ نہیں کرنا ؟

مزید : قومی