”جہاں حکومت، وہاں اپوزیشن“

”جہاں حکومت، وہاں اپوزیشن“

  

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم چوروں، لٹیروں اور ڈاکوؤں کا ٹولہ ہے یہ فیصلہ کن جنگ ہے اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکوں گا پرویز مشرف ان دونوں جماعتوں سے بہتر تھا لیکن اس نے ان کو این آر او دے کر غلط کیا۔ میں بھی کرپٹ ٹولے کو این آر او دے دوں تو زندگی آسان ہو جائے گی لیکن میں نے نہ دینے کا مشکل راستہ اختیار کیا ہے۔ اداروں پر حملے کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹوٹ بٹوٹ سمجھتے ہیں کہ مجھے بلیک میل کر لیں گے ہم نے دو برس میں 20 ارب ڈالر قرضہ واپس کیا ہم نے پچھلی حکومتوں کا لیا گیا قرضہ واپس کیا ان کو ایک ہی خوف ہے کہ یہ حکومت پانچ سال پورے کر گئی تو ان کا کھیل ختم ہو جائے گا ہم نے پانچ سال مکمل کئے تو ان کی سیاست ختم ہو جائے گی انہوں نے یہ باتیں اپنے سوشل میڈیا گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے کیں۔

اگرچہ وزیر اعظم نے جو کچھ کہا ہے اس میں کوئی بات بھی نئی نہیں ان خیالات کا اظہار وہ کثرت سے کرتے رہتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ دورانِ گفتگو ایسی باتیں بھی کر جاتے ہیں جن کی بعد میں انہیں ا ور ان کے ساتھیوں کو وضاحتیں کرنا پڑتی ہیں اس کی تازہ ترین مثال ان کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ لاشیں سڑک پر رکھ کر وزیر اعظم کو اپنے پاس بلانے کی شرط رکھنا بلیک میلنگ ہے اور وہ کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے یہ بات کہنے کو تو انہوں نے کہہ دی اور میڈیا میں ان کے اپنے الفاظ میں نشر بھی ہو گئی اور اخبارات میں شائع بھی ہو گئی لیکن اب تک وضاحتیں کی جا رہی ہیں کہ بلیک میلنگ سے ان کا اشارہ کس جانب تھا بہر حال جس کسی نے جو سمجھا اپنی فکر کے مطابق اس پر تبصرہ بھی کر دیا اور ردعمل بھی دے دیا تاہم اب تک وضاحتوں کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا اب یہ کہا جا رہا ہے کہ بلیک میلنگ  کا اشارہ پی ڈی ایم کے متعلق تھا اگر واقعتاً ایسا ہی تھا تو یہ بات اس طرح کھل کر کی جا سکتی تھی جیسے وہ پی ڈی ایم کے رہنماؤں کو لٹیرے، ڈاکو اور چور سمیت نہ جانے کیا کچھ کہتے ہیں، اگر وہ انہیں براہ راست بلیک میلر بھی کہہ دیتے تو کیا مضائقہ تھا اور کوئی ان کا کیا بگاڑ لیتا لیکن انہوں نے بلیک میلر کا لفظ جس سیاق و سباق میں استعمال کیا اس سے جو مفہوم نکلتا تھا پیشتر لوگوں نے تو وہی سمجھا۔ تاہم بعد میں اس کی جو تشریح کی گئی اس کے مطابق بلیک میلر در اصل پی ڈی ایم ہے حالانکہ سڑک پر لاشیں رکھ کر احتجاج کا آغاز اس نے نہیں کیا تھا بلکہ اس کا کوئی لیڈر بھی چار دن تک احتجاج کرنے والوں کے پاس نہیں گیا تھا اور جب یہ لوگ وہاں پہنچے تو بظاہر بلیک میلنگ والی کوئی بات انہوں نے نہیں کی تھی لیکن اگر آپ انہیں پھر بھی اسی نام سے یاد کرنا چاہتے ہیں تو آپ کا حسنِ ذوق ہے۔ کوئی کیا کہہ سکتا ہے البتہ اتنی گزارش ضرور کی جا سکتی ہے کہ الفاظ کا استعمال اگر سوچ سمجھ کر کر لیا جائے تو وضاحتوں کی ضرورت نہیں پڑتی پھر یہ بھی عجیب بات ہے کہ وزیر اعظم کے بیان کی وضاحت دوسروں کو کرنا پڑتی ہے اور ہر کوئی اس دوڑ میں شریک ہوتا جاتا ہے۔

انہوں نے یہ توقع ظاہر کی ہے کہ اگر ان کی حکومت پانچ سال پورے کر گئی تو اپوزیشن ختم ہو جائے گی۔ ان کی حکومت اپنی نصف مدت تو پوری کر ہی چکی ہے اور اگر حکمت و تدبر سے کام لیا جائے تو باقی ماندہ مدت پوری کرنا بھی چنداں مشکل نہیں لگتا اپوزیشن اگر حکومت گرانے کی کوشش کر رہی ہے تو ضروری نہیں اسے کامیابی بھی ہو، لیکن ناکامی کی صورت میں بھی ملک سے اپوزیشن کا وجود ختم نہیں ہوگا جب تک حکومتوں کا وجود ہے اپوزیشن بھی رہے گی چاہے اس کی شکل جو بھی ہو، جماعتوں کا نام بھی مختلف ہو سکتا ہے لیڈر بھی بدل سکتے ہیں لیڈروں کا عروج و زوال بھی کوئی ایسی بات نہیں جو دنیا میں پہلی بار ہونے جا رہی ہے جس کسی نے عروج دیکھا ہے زوال بھی اس کا مقدرے ہے وہ جلد ہو یا بدیر، پاکستان کے پہلے فوجی حکمران جب  برسر اقتدار آئے  تو ان کا خیال تھا کہ انہوں نے اپوزیشن کو ختم کر دیا ہے اسمبلیوں میں چند ہی لوگ تھے جو مخالف بنچوں پر بیٹھے تھے لیکن یہ نحیف و نزار آوازیں بھی حکمرانوں کو اپنی تمام تر مضبوطی کے باوجود اچھی نہیں لگتی تھیں وہ ان سب لیڈروں کا مذاق اڑایا کرتے تھے جو مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ دے رہے تھے اور انہیں بھی مختلف القابات سے یاد کیا کرتے تھے کسی کو قوت  فیصلہ سے عاری کہتے تو کسی کو قائدقلت۔ پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ میری مخالفت کے لئے تو اپوزیشن کے پاس کوئی لیڈر ہی نہیں وہ بھی مجھے اپنے گھر سے دیناپڑا اس زمانے میں ا ن کے بھائی سردار بہادر خان قومی اسمبلی میں اپوزیش لیڈر تھے، جس ایوب خان کو اپنی کوئی اپوزیشن نظر نہیں آتی تھی چند ہی برس میں اس اپوزیشن نے ان کی حکومت کا اس طرح خاتمہ کر دیا کہ انہیں اپنا ہی بنایا ہوا آئین ختم کرنا پڑا اور اقتدار اپنے کمانڈر انچیف یحییٰ خان کے سپرد کرنا پڑا جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ ان کے مخالفین کا خاتمہ کر دے گا لیکن اس نے ملک ہی آدھا کر دیا جنرل یحییٰ خان کے اپنے عزائم اور اپنے منصوبے تھے جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں صرف اتنا عرض ہے کہ سب نے دیکھا اپوزیشن کو ختم کرتے کرتے ایوب کا اپنا اقتدار ہی ختم ہو گیا۔ اقتدار رہا نہ کروفر، رہے نام اللہ کا۔ 

ملک میں آمریت ہو یا جمہوریت نظام صدارتی ہو یا پارلیمانی، منتخب ہو یا غیر منتخب یا سلیکٹڈ، جہاں حکومت ہو گی وہاں اپوزیشن بھی ہو گی اس لئے وزیر اعظم کی خواہش جو بھی ہو، اگر وہ حکومت کرنا چاہتے ہیں تو پھر انہیں اپوزیشن کا وجود بھی گوارا کرنا ہوگا کسی بھی اقتدار کی مدت مختصر ہو سکتی ہے اور طویل بھی اسی طرح اپوزیشن کبھی مضبوط ہو سکتی ہے اور کبھی ناتواں، کرپٹ بھی ہو سکتی ہے چور اور ڈاکو بھی اس میں موجود ہو سکتے ہیں لیکن اس کے وجود کو ختم نہیں کیا جا سکتا اگر کسی وجہ سے اپوزیشن ختم ہو جائے تو حکمران جماعت کے اندر سے مخالفین نکل آتے ہیں اور ماضی کے ہر مضبوط اور کمزور حکمران کو اپنی جماعت کے اندر پیدا ہونے والے ایسے مخالفین سے نپٹنا پڑا اگر عمران خان اگلے دو ڈھائی سال میں اپوزیشن کو اپنے خیال کے مطابق ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو پھر انہیں اپنی صفوں میں جنم لینے والی اپوزیشن کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ 

اختلاف کرنے والے تو اب بھی ہیں، تھوڑا بہت اختلاف کر بھی رہے ہیں لیکن جب باہر کی اپوزیشن ختم ہو جائے گی تو اندر کی اپوزیشن کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو جائے گا اس لئے بہتر یہ ہے کہ وزیر اعظم اپوزیشن کو ختم کرنے کا خیال ذہن سے نکال دیں اور حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دیں جس کی بہت زیادہ گنجائش ہے اپوزیشن تو اب چور ڈاکو کے ساتھ ساتھ بلیک میلر بھی ٹھہری لیکن یہ جو بھی ہے اسے یہیں رہنا ہے، حکومت کے متوازی چلنا ہے۔ اگر اپوزیشن کا چیلنج باقی نہیں رہے گا تو پھر بہت سے نئے چیلنج سامنے آئیں گے جن کا اس وقت تصور نہیں کیا جا رہا لیکن نئے حالات میں ان کا جنم نہیں روکا جا سکتا عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو دھرنے کے ذریعے حکومت ختم کرنا چاہتے تھے جس میں وہ کلی طور پر ناکام رہے۔ حکومت پانامہ سے بھی نہیں اقامہ سے گئی اور اس نے اپنی مدت بھی پوری کی۔ آج وہ حکومت میں ہیں تو اپوزیشن کو ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن وقت خدا کے لہجے میں بات کرنے والوں کی رعونت پر ہمیشہ خاک ڈالتا رہا ہے اور ڈالتا رہے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -