آٹھ گھٹنے تک پورا ملک تاریکی میں - بجلی بتدریج بحال ہو رہی ہے

آٹھ گھٹنے تک پورا ملک تاریکی میں - بجلی بتدریج بحال ہو رہی ہے

  

ہفتے کی شب ملک بھر میں اچانک بجلی بند ہو گئی اور چاروں صوبوں میں تاریکی چھا گئی، اتوار کی صبح دس بجے سے بحالی کا عمل شروع ہوا جو ان سطور کی اشاعت تک جاری ہے۔ منگلا اور تربیلا کی ٹربائنوں میں نقص کے باعث بجلی بند ہوئی تو پریشر کے باعث مزید گرڈ ٹرپ کر گئے۔ اطلاعات کے مطابق قومی گرڈ میں سے 22 ہزار میگا واٹ بجلی نکل گئی اور یوں اندھیرا ہو گیا۔ یہ صورت حال رات بھر برقرار رہی اور تمام تر کوششوں کے باوجود تا حال مکمل بحالی نہیں ہوئی کہ ترجیح اسلام آباد کو دی گئی جس کے بعد ملک کے دوسرے شہروں کی باری آتی رہی، وفاقی وزیر عمر ایوب کے مطابق دن رات کی محنت سے بحالی کا عمل شروع کیا گیا۔ جبکہ وزیر اطلاعات شبلی فراز کے مطابق بھرپور کوشش کے بعد بحالی ہوئی۔ تاہم صورت حال یہ ہے کہ اب تک معمول کے مطابق بجلی ٹرانسمشن کمپنیوں کی لائنوں میں نہیں آئی اور لیسکو سمیت دوسری کمپنیوں نے اس کا حل  لوڈ کی تقسیم سے نکالا ہے۔ آدھ گھنٹہ سے ایک گھنٹہ تک فیڈر کو بجلی مہیا کر کے منقطع کر دی جاتی اور پھر دو ڈھائی گھنٹے بعد یہ عمل دہرایا جا رہا ہے۔ بجلی کا یہ انقطاع غیر معمولی ہے پہلے بھی ایک دو بار بڑے بریک ڈاؤن ہوئے لیکن وہ نا تو ملک گیر تھے اور نا اتنے طویل ثابت ہوئے تھے۔ ہمارے شہروں میں پانی کا انتظام بھی بجلی سے منسلک ہے اور بجلی نہ ہونے سے سرکاری پانی بھی دستیاب نہ تھا شہریوں کو بندش کے علاوہ ٹرپنگ کا سامنا ہے۔ جس کی وجہ سے برقی آلات بھی خراب ہوئے ابھی تک یہ بتایا نہیں جا سکا کہ نقص کیا اور کہاں واقع ہوا، بہر حال تھوڑے تھوڑے وقفے سے بحالی بھی کچھ سہولت فراہم کر رہی ہے۔  حکومت کی طرف سے تفصیل اور ماہرین کی طرف سے مکمل بحالی کا انتظار ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -