ٹرننگ پوائنٹ

ٹرننگ پوائنٹ
ٹرننگ پوائنٹ

  

سانحہ مچھ عمران خان حکومت کی مقبولیت کے لئے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا ہے جس میں ملک دشمن دہشت گردوں نے گیارہ کان کن مزدوروں کو قتل کر دیا تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیر اعظم عمران خان فوری حرکت میں آتے لیکن کئی دن تک ان کے ٹال مٹول اور غیر ذمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے ملک بھر میں ان پر شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وہ ایک ہفتہ تک مقتولین اور ان کے لواحقین کے لئے ایسا کلمہ خیر نہیں کہہ سکے جس سے ان کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکتا۔ لواحقین نے وزیر اعظم کی آمد تک تدفین سے انکار اور مرکزی شاہراہ پر میتوں کے ساتھ دھرنا دے رکھا تھا جسے وزیر اعظم نے”بلیک میلنگ“کہاجس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور ملکی رائے عامہ وزیر اعظم کے خلاف ہو گئی کیونکہ اس بات پر ہر طبقہ فکر میں اتفاق تھا کہ وزیر اعظم کو مقتولین سے ہمدرد رویہ اپنانا چاہئے تھا۔ وزیر اعظم کے کئی حامیوں نے بھی شدید تنقید کرتے ہوئے اسے احساس سے عاری رویہ قرار دیا۔

جس دن وزیر اعظم ان معصوم بچیوں کو”بلیک میلر“ قرار دے رہے تھے جن کے گھروں میں میتوں کو دفنانے والا کوئی مرد نہیں باقی بچا تھا، مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری وہاں پہنچے جس کے بعد مقتدر حلقوں میں تحریک پیدا ہوئی کہ وزیر اعظم عمران خان کے ٹس سے مس نہ ہونے سے انہیں بھی سخت نقصان پہنچ رہا ہے چنانچہ بادل نخواستہ انہیں بلوچستان جانے کے لئے راضی کیا گیا۔ وزیر اعظم ”پہلے تدفین“ کی اپنی شرط منوانے کے بعد بلوچستان گئے لیکن (سانحہ ساہیوال کی طرح) مقتولین کے لواحقین کو اپنے پاس بلانے کی روائت برقرار رکھی۔’’بلیک میلنگ“ والے بیان کی طرح لواحقین کو اپنے پاس سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی بلانا بھی غیر مناسب رویہ تھا۔ وہاں وزیر اعظم نے ایک اور متنازعہ بیان دیا کہ انہوں نے ”نہ جا کر“ ایک روائت قائم کی ہے تاکہ آئندہ آنے والے کسی وزیر اعظم کو ایسی بلیک میلنگ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس دوران وزیراعظم کے ترجمان رنگ برنگے بیانات دیتے رہے جس کی وجہ سے  عام لوگوں میں غم و غصہ پیدا ہوتا رہا۔

وزیر اعظم عمران خان کی حکومت اپنی ناقص کارکردگی کی وجہ سے پہلے ہی غیر مقبول ہو چکی ہے لیکن سانحہ مچھ ایک ایسا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا ہے جس میں غیر مقبولیت کے ساتھ ناپسندیدگی بھی شامل ہو گئی ہے۔ ان کے بہت سے حامیوں نے کھل کر تنقید کی اور عام پبلک اپنے آپ کو اب پہلے سے زیادہ غیر محفوظ اور لاوارث سمجھنا شروع ہو گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے وہ بیساکھیاں بھی پہلے کے مقابلہ میں کمزور ہوئی ہیں جن کے سہارے موجودہ حکومت چل رہی ہے۔ میرے لئے یہ بات حیران کن تھی کہ وزیر اعظم کو بلوچستان نہ جانے کا مشورہ دینے والوں میں اپنے آپ کو عوامی سیاست دان کہلانے والے وزیر داخلہ شیخ رشید سب سے آگے تھے۔ لگتا ہے شیخ رشید کی سیاست اب عوام کی بجائے خواص کے لئے ہو گئی ہے ورنہ وہ کبھی ایسا غیر عوامی مشورہ نہ دیتے جس سے وزیر اعظم کی عوام میں مقبولیت زمین بوس ہونے کی وجہ سے پی ڈی ایم کی حکومت مخالف چلنے والی تحریک کامیاب ہو جائے۔ مچھ میں ہزارہ برادری سے بھی بڑا سانحہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے ساتھ پیش آیا ہے جس کی وجہ ان کی رعونت اور نا اہل وزیر مشیر ہیں۔  

مقتولین کا تعلق ہزارہ برادری سے تھا، بنیادی طور پر فارسی سپیکنگ یہ برادری پچھلے دو تین عشروں سے دہشت گردوں کے نشانہ پر ہے جس کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ جب سے سی پیک منصوبہ کا آغاز ہوا ہے، ہزارہ برادری پر ہونے والے حملوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ بلوچستان‘ سی پیک کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے اور پاکستان میں بسنے والے ہزارہ زیادہ تر بلوچستان میں آباد ہیں۔ پاکستان دشمنوں کا خیال ہے ہزارہ برادری ایک آسان ٹارگٹ ہے کیونکہ یہ پرامن اور اپنے کام سے کام رکھنے والے لوگ ہیں اورانہیں نشانہ بنا کر بلوچستان کے حالات خراب کئے جا سکتے ہیں۔ بلوچستان کے حالات خراب ہونے سے پاکستان کمزور اور سی پیک کا منصوبہ ناکام(خاکم بدھن) ہو گا۔ ازلی دشمن بھارت، افغانستان میں موجود بھارت نواز، اسرائیل اور امریکہ کی اسرائیلی و بھارتی لابی ان مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے سرگرم ہیں۔ مچھ میں کان کن مزدوروں کا قتل بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ ہزاروں کو پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اسے ”گریٹ گیم“ قرار دیا ہے لیکن ان کی سوچ میں بنیادی نقص یہ ہے کہ وہ یہ ”گریٹ گیم“ عوام کی بجائے ایجنسیوں کی مدد سے جیتنا چاہتے ہیں لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ قومیں اپنے دشمنوں کو عوام کی مدد سے شکست دیتی ہیں۔ پاکستان میں ہزارہ قوم کے افراد کی تعداد آٹھ سے دس لاکھ ہے جو زیادہ تر کوئٹہ اور اس کے گرد و نواح میں آباد ہیں۔صدیوں قبل کے مشہور صوفی شاعر امیر خسرو کا تعلق بھی ہزارہ خاندان سے تھا جو سمرقند سے ہجرت کرکے دہلی میں آباد ہو گیا تھا۔ تحریک پاکستان میں قائد اعظم کے قریبی ساتھی قاضی عیسی کا اہم کردار تھا جس کی وجہ سے بلوچستان مملکت خداداد پاکستان کا حصہ بنا۔ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے قاضی عیسی کے فرزند قاضی فائز عیسی اس وقت سپریم کورٹ کے انتہائی معزز جج ہیں جن کے بیباک فیصلوں نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ پاکستان آرمی کے سابق سربراہ جنرل موسی خان کا تعلق بھی اسی برادری سے تھا، وہ 1965 کی جنگ میں پاک فوج کے سربراہ تھے اور انہوں نے 1958 سے 1966 تک یہ ذمہ داری سرانجام دی۔ وہ تین سال مغربی پاکستان اور چھ سال بلوچستان کے (اپنی وفات تک) گورنر رہے۔پاکستان ائرفورس کے سابق ائر مارشل شربت علی چنگیزی بھی ہزارہ قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ مسلح افواج کے علاوہ سیاست، کاروبار، کھیل اور علم و تحقیق سے متعلق بہت سے سرکردہ افراد ہزارہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -