بجلی کا بریک ڈاؤن اور افواہوں کا جمعہ بازار

بجلی کا بریک ڈاؤن اور افواہوں کا جمعہ بازار
بجلی کا بریک ڈاؤن اور افواہوں کا جمعہ بازار

  

ہماری جمہوریت کی کمزور بنیادوں کا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ کل رات بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا تو ساتھ ہی یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ ملک میں مارشل لاء لگ گیا ہے، سوشل میڈیا پر لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے رہے کہ ان کے شہر میں کوئی غیر معمولی نقل و حرکت تو دیکھنے میں نہیں آ رہی مجھے بھی کچھ دوستوں کے فون آئے اور میں حیرانی سے ان کی باتیں سنتا رہا۔ یعنی اب بجلی بھی چلی جائے تو یہ خدشہ رہتا ہے کہ اس کا سبب کہیں غیر آئینی تبدیلی تو نہیں بجلی کے ایسے بڑے بریک ڈاؤن پوری دنیا میں ہوتے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے بڑے ممالک بھی اس سے نہیں بچتے مگر کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ اس تکنیکی خرابی کو ملک کے جمہوری نظام کی خرابی سے جوڑا جاتا ہو۔ کیا ہم اس حوالے سے ابھی تک خوف کا شکار ہیں، کیا ملک میں جو بار بار مارشل لاء لگتے رہے ہیں، ان کے نفسیاتی اثرات ابھی تک ہمارے دل و دماغ میں موجود ہیں پتہ  گرنے کی آواز بھی ہمیں کسی انہونی کے خدشات میں مبتلا کر دیتی ہے کیوں آخر کیوں؟ اس کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔

ملک میں آخری غیر آئینی تبدیلی دو دہائیاں پہلے آئی تھی لیکن لگتا یہی ہے جیسے وہ کل کی بات ہو۔ پچھلے تیرہ برسوں سے ملک میں جمہوری نظام چل رہا ہے۔ دو بار حکومتیں اپنی پانچ پانچ سالہ آئینی مدت پوری کر چکی ہیں تیسری حکومت بھی پانچ سالہ مدت کی تکمیل چاہتی ہے مگر کوئی چھوٹا موٹا واقعہ ہو جائے کوئی انہونی ہو یا ہونی، خدشہ یہی پیدا ہوتا ہے کہ جمہوریت کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں جمہوریت نہ ہوئی چھوئی موئی ہو گئی کہ اونچا چھینکنے سے بھی اس کے ٹوٹنے یا گرنے کا خطرہ ہو، آخر اس مخمصے سے ہم کب باہر نکلیں گے کب اس ملک میں یہ یقین پیدا ہوگا کہ یہاں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، وہ اپنی مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام سیاسی قوتوں کا ہے کہ وہ قوم کو اس بے یقینی اور بے اعتباری سے نکالیں جو قوم بجلی کے بریک ڈاؤن سے جمہوریت پر اعتبار کھو بیٹھتی ہو، اسے یہ احساس دلانا بہت ضروری ہے کہ پاکستان میں جمہوری نظام کے سوا اب کسی نظام کی کوئی گنجائش نہیں، مارشل لاء یا کسی بھی غیر آئینی تبدیلی کے دن گئے، اب نہ اس کی گنجائش ہے اور نہ ہی کبھی ایسے حالات پیدا ہوں گے کہ جمہوریت پر کسی کو شب خون مارنے کا موقع ملے مگر زمینی حقائق تو اس کے برعکس نظر آتے ہیں سیاسی قوتیں جمہوری اداروں پر بھروسہ کرنے کی بجائے غیر جمہوری قوتوں کی طرف دیکھتی ہیں اور اس خواہش کا اظہار بھی کرتی ہیں کہ وہ مداخلت کریں۔

جب ملک میں ایک سیاسی انتشار موجود ہو، تو افواہیں کیوں جنم نہ لیں جہاں وزیر اعظم کو یہ کہنا پڑے کہ اپوزیشن آرمی چیف سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ منتخب حکومت کو ختم کریں، وہاں جمہوریت کا استحکام کیسے ممکن ہے اب یہ بات تو سب کی سمجھ سے بالا تر ہے کہ پی ڈی ایم حکومت کے خلاف تحریک کس کے بھروسے پر چلا رہی ہے احتجاج سے تو کسی حکومت کو گھر نہیں بھیجا جا سکتا تا وقت کہ وہ خود مستعفی نہ ہو جائے۔ بڑے سے بڑا احتجاج اور کامیاب سے کامیاب دھرنا بھی آئینی طور پر حکومت کے خاتمے کا جواز نہیں بن سکتا۔ سیاستدان خود کہتے ہیں کہ محاذ آرائی اتنی نہ بڑھائی جائے کہ کسی تیسری قوت کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملے مگر اس کے باوجود محاذ آرائی کو بڑھانے سے باز نہیں آتے حالت یہ ہے کہ پی ڈی ایم کوئی بھی آئینی راستہ اختیار کرنے سے کترا رہی ہے اور یہی چاہتی ہے کہ کوئی عمران خان کو  چھڑی دکھا کے ایوان وزیر اعظم سے باہر کر دے وہ تحریک عدم اعتماد لانا چاہتی ہے اور نہ استعفے دے کر اسمبلی توڑنے کا جواز پیدا کر رہی ہے۔ یہ جمہوری راستے ہیں لیکن انہیں اختیار کرنے کی بجائے وہ اس امید پر مہم چلا رہی ہے کہ اس کی شدت بالآخر اسٹیبلشمنٹ کو مجبور کر دے گی کہ وہ اس حکومت سے جان چھڑا دے، وہ یہ سوچنے سمجھنے سے قاصر ہے کہ اگر ایسا ہو بھی گیا تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ فوراً انتخابات کرا دیئے جائیں گے جو عبوری حکومت بنے گی اس کی مدت کیا ہو گی اور اس میں کون سی قوتیں شامل ہوں گی۔ ایک چلتے ہوئے جمہوری سفر کو بریک لگانے کا مقصد اگر بے صبری اور جلد اقتدار میں آنا ہے تو اس میں حد درجہ خطرات بھی تو ہیں ممکن ہے جمہوریت پٹڑی سے اترے تو اسے واپس آنے کے لئے کئی سال لگ جائیں۔

در حقیقت یہ ہمارے سیاستدان ہی ہیں جو قوم کو اس خدشے سے باہر نہیں آنے دے رہے کہ ملک میں پھر مارشل لاء لگ سکتا ہے۔ حالانکہ خود فوج سیاست کو اپنے لئے شجر ممنوعہ قرار دے چکی ہے کم از کم اس حد تک کہ اب غیر آئینی طور پر اقتدار حاصل نہیں کرنا۔ عمران خان تو بار بار کہتے ہیں کہ حکومت اور فوج میں گہری انڈرسٹینڈنگ ہے وہ یہ بات بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ میں ملک کا منتخب وزیر اعظم ہوں اور فوج حکومت کا ایک ادارہ ہے اس لئے اسے میری ماتحتی میں کام کرنا ہے۔ جیسے مملکت کے دیگر ادارے کرتے ہیں گویا حکومت اور فوج کی سطح پر ایسے کوئی حالات نہیں کہ جنہیں دیکھ کر یہ خدشہ ظاہر کیا جا سکے کہ ملک میں کوئی غیر آئینی تبدیلی آ سکتی ہے تاہم اس کے باوجود ایک ڈری اور سہمی ہوئی قوم کی طرح ملک میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ ہو جائے، بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہو یا اپوزیشن احتجاج کرے تو یہی سوچتی ہے کہ کچھ ہونے والا ہے۔ قوم کو اس خوف سے نکالنے کے لئے فوج یا عدلیہ کوئی کردار ادا نہیں کر سکتیں، یہ کردار صرف سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ادا کر سکتی ہیں انہیں جمہوریت کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ نہ صرف جمہوریت بلکہ آئین کے ساتھ بھی ان کی غیر مشروط وفاداری ضروری ہے آئین میں جو کچھ لکھا ہے اسے پوری طرح اپنا کر کسی بھی غیر آئینی تبدیلی کو دخل نکالا دیا جا سکتا ہے۔ حکومت کے خلاف احتجاج کرنا اپوزیشن کا حق ہے۔ آئینی راستوں سے اسے ہٹانے کی کوششیں بھی جائز ہیں مگر یہ جائز نہیں کہ سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے ایسی فضا پیدا کی جائے کہ غیر آئینی طریقے سے حکومت کو ہٹانے کی راہ ہموار ہو جائے اور ہٹانے والے جمہوریت کی بساط بھی ساتھ ہی لپیٹ دیں۔

مزید :

رائے -کالم -