توہین رسالت سے متعلق عدالتی فیصلوں پر  عملدرآمد کروایا جائے، ڈاکٹر اشرف آصف جلالی

    توہین رسالت سے متعلق عدالتی فیصلوں پر  عملدرآمد کروایا جائے، ڈاکٹر اشرف ...

  

لاہور (نمائندہ خصوصی)تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ اور تحریک صراط مستقیم کے بانی ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے  کہا کہ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کا توہین رسالت ؐکے مجرموں کے بارے میں سزائے موت کا فیصلہ قرآن اور آئین پاکستان کے عین مطابق ہے۔ اس اہم فیصلے سے عدلیہ کے وقار میں اضافہ ہو گا۔ ملک میں توہین رسالتؐ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے توہین رسالتؐ کے مجرموں کو عدالتوں کی طرف سے سنائی گئی سزاؤں پر عمل درآمدکروانا اصل مسئلہ ہے۔ پاکستان میں آج تک توہین رسالت کے کسی بھی مجرم کو عملاً سزائے موت نہ دیے جانے سے295C اپنی حقیقی افادیت کھو چکا ہے۔

 جس کے نتیجے میں اسلامیان پاکستان میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے کچھ لوگ قانون کا دروازہ کھٹکھٹا کھٹکھٹا کر مایوسی کی شکل میں کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنے کی سوچ میں پڑھ جاتے ہیں۔ مبینہ توہین رسالت? پر برداشت کا سبق دینے کی بجائے قانون ناموس رسالت? کو عملاً نافذ کرنا از حد ضروری ہے۔  295C پر عمل درآمد سے ملک امن و آشتی کا گہوراہ بن سکتا ہے۔ اس قوم کابچہ بچہ ذات رسول? کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتا ہے۔ 295C کے بارے میں یورپی یونین کا واویلا ہمارے دین اور آئین میں مداخلت ہے۔ توہین رسالت? کا مرتکب توہین کے ارتکاب سے پہلے مسلم ہو یا غیر مسلم سب کے لیے 295C ایک جیسا ہے۔ مغرب کا توہین رسالت?? کی اجازت دینا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دعویٰ کرنا کھلا تضاد ہے۔ توہین رسالت? سب سے بڑی دہشت گردی ہے۔ پاکستان میں گستاخانہ کلچر کو عام کرنے میں سوشل میڈیا کا بہت بڑا دخل ہے۔ انبیاء  کرام علیہم السلام، صحابہ کرام، اہل بیت اطہار، امہات المومنین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور دوسری مقدس شخصیات کے تقدس کی خاطر سوشل میڈیا کے لیے نہایت جامع ضابطہ اخلاق بنانے اور اس پر عمل کروانے کی شدید ضرورت ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -