بجلی مکمل بحال نہ ہوسکی، بریک ڈاؤن کی تحقیقات کیلئے اعلٰی سطحی کمیٹی تشکیل گدو تھر مل پاور سٹیشن کے 7اہلکار معطل، ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کی جائیگی: ترجمان پاور ڈویژن 

  بجلی مکمل بحال نہ ہوسکی، بریک ڈاؤن کی تحقیقات کیلئے اعلٰی سطحی کمیٹی تشکیل ...

  

اسلام آباد،کراچی،پشاور،کوئٹہ،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)بجلی کے ترسیلی نظام میں فریکوینسی کے اچانک صفر ہونے سے ملک بھر میں ہونے والے بجلی کے بدترین بریک ڈاؤن کے بعد بجلی کی بحالی کا دن کو بھی جاری رہا،اتوار کی شام تک بھی ملک کاایک بڑا حصہ بجلی سے محروم رہا۔این ٹی ڈی سی نے بجلی کے بریک ڈاؤن کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی ہے،جبکہ سنٹرل پاور جنریشن کمپنی نے گدو تھرمل پاور اسٹیشن میں کام کر نے والے سات اہلکار معطل کر دئیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ کی رات گئے ملک میں ہونے والے بجلی بریک ڈاؤن سے پوری ٹرانسمیشن، 22 ہزار میگا واٹ کی ترسیل اور تقسیم کا نظام ٹرپ کرگیا اور سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے شہروں اور علاقوں میں تاریکی چھاگئی۔ادھر نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے مطابق خرابی کے باعث کمپنی کی 220 کے وی اور 500 کے وی ٹرانسمیشن اور گرڈ سٹیشن ٹرپ کرگیا، جس کی وجہ سے کے الیکٹرک، لیسکو، کیسکو، جیپکو، میپکو اور آئیسکو سمیت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو کو 66 کی وی اور 132 کے وی کی فراہمی متاثر ہوئی۔بریک ڈاؤن کے باعث کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی۔پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ طلب پوری کرنے کیلئے فرنس آئل اور گیس سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔بلوچستان کے کئی اضلاع تاحال بجلی سے محروم ہیں۔ ترجمان این ٹی ڈی سی کے مطابق پشاور، اسلام آباد، جہلم،گجرات، سرگودھا، سیالکوٹ، فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور، شیخوپورہ، اوکاڑہ، ساہیوال اور ملتان کے علاقوں میں بجلی بحال ہو گئی ہے۔ترجمان این ٹی ڈی سی کے مطابق دیگر شہروں میں بھی بجلی کی بتدریج بحالی کے لیے این ٹی ڈی سی کی ٹیمیں مصروف عمل ہیں۔ تمام 500 کے وی اور220 کے وی گرڈ سٹیشنوں اور ٹرانسمیشن لائنز سے بجلی کی سپلائی جاری ہے، گڈو پاور پلانٹ سے ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ اور رحیم یار خان کو بھی بجلی کی سپلائی شروع ہوگئی ہے۔ اسلام آباد، جہلم، گجرات، سرگودھا، سیالکوٹ، فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور، شیخوپورہ، اوکاڑہ، ساہیوال اور ملتان کے علاقوں میں بجلی بحال ہو گئی ہے۔ مزیدبرآں سنٹرل پاور جنریشن کمپنی نے گدو تھرمل پاور اسٹیشن میں کام کر نے والے سات اہلکار معطل کر دئیے۔معطل ہونیوالوں میں ایڈیشنل پلانٹ مینیجر سہیل احمد،دیدار علی چنہ جونیئر انجینئر علی حسن گوئیو، آپریٹرز ایاز حسین ڈاہر،سعید احمد،اٹینڈنٹ سراج احمد اور الیاس احمد شامل ہیں، مذکورہ اہلکاروں کو ابتدائی انکوائری کے بعد معطل کیا گیا ہے۔

بجلی کی بحالی جاری

 اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ بجلی بریک ڈاون صرف پاکستان میں نہیں ہوا دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے، 2013ء سے اب تک بجلی کے بریک ڈاؤن کے تقریبا 8 واقعات ہوچکے ہیں،جب ہماری حکومت آئی اس وقت ٹرانسمیشن پر کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہوا، ہم نے آتے ہی 49ارب روپے اس سسٹم پر لگائے جسکی وجہ سے 4سے ساڑھے 4ہزار میگا واٹ سسٹم میں نکال سکتے ہیں، مٹیاری سے لاہور تک کی لائن مارچ تک آپریشنل ہوجائے گی جس پر ایک ارب 60کروڑ ڈالر کی لاگت آرہی ہے، گدوسے500کے وی کے 3سرکٹ نکلتے ہیں، ابھی معلوم نہیں ہورہا کہ کس سرکٹ میں خرابی آئی تھی، سسٹم میں ایک فالٹ پورے نظام میں چلاجاتا ہے، ابھی ہم ایک ایمرجنسی سے نکلے ہیں، اس وقت سسٹم مستحکم ہوچکا ہے، ہم آزادانہ تحقیقات کا حکم دینگے اور حقائق سامنے آجائیں گے جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا توانائی کا شعبہ ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں میں اس شعبے میں صرف ایک سمت میں کام کیا، ماضی میں اس نظام کی جنریشن پر توجہ دی گئی۔اتوار کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وزیر توانائی عمر ایوب نے بتایا کہ 11 بجکر 41منٹ پر گدو کے پاور پلانٹس پر خرابی آئی اور ایک سیکنڈ میں فریکوینسی جو 49.5ہوتی ہے وہ نیچے آگئی اور یکے بعد دیگرے پاور پلانٹس کے سیفٹی نظام نے شٹ ڈان ہونا شروع کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک، اوپر، شمال، جنوب میں یہ سسٹم میں گیا اور پورے ملک جہاں ہمارے پاور پلانٹس چل رہے تھے اور 11بجکر 41منٹ پر 10302میگا واٹ ایک دم سے سسٹم سے آؤٹ ہوگئے۔ وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ اس کے فوری بعد میں نیشنل پاور کنٹرول سینٹر پہنچا اور میڈیا اور قوم کو اعتماد میں لیا، تربیلا کو ہم نے 2مرتبہ شروع کیا اور وہ سنک ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے بجلی کی بحالی کا کام شمال سے شروع کیا اور اس وقت اسلام آباد، راولپنڈی، آئیکسو کا نظام، لاہور الیکٹرک کے علاقے، فیصل آباد کے آدھے شہر میں بجلی آچکی تھی جبکہ کراچی الیکٹرک کو تقریبا 400 میگا واٹ سپلائی ہوچکی ہے تاہم سسٹم کے واپس آن لائن آنے میں ابھی مزید چند گھنٹے لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں وجوہات کا علم نہیں، رات میں بھی ہم نے ٹیمیں بھیجی تھیں لیکن دھند کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آرہا تھا جبکہ صبح بھی ہماری ٹیم سے بات ہوئی تاہم 500 کے وی کی لائن میں فالٹ نظر نہیں آیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے دھند کم ہوگی تو تحقیقات ہوگی کہ یہ فالٹ کہاں آیا۔ 

عمرایوب

مزید :

صفحہ اول -