بریک ڈائون کے بعد بجلی بحال ہوتے ہی پاکستانیوں کیلئے نئی پریشانی، آٹھ ارب 40 کروڑ روپے کا بوجھ صارفین پر ڈال دیا گیا

بریک ڈائون کے بعد بجلی بحال ہوتے ہی پاکستانیوں کیلئے نئی پریشانی، آٹھ ارب 40 ...
بریک ڈائون کے بعد بجلی بحال ہوتے ہی پاکستانیوں کیلئے نئی پریشانی، آٹھ ارب 40 کروڑ روپے کا بوجھ صارفین پر ڈال دیا گیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں بجلی کے بریک ڈائون کے بعد سپلائی بحال ہوتے ہی ایک مرتبہ پھر بجلی کی قیمتوں مٰیں اضافہ کردیا گیا اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا) نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ایک روپے چھ پیسے اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، اس اضافے سے صارفین پر آٹھ ارب 40 کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔ 

تفصیلات کے مطابق یہ اضافہ اکتوبر اور نومبر میں فو ل ایڈجسٹمنٹ کی مد میں  کیا گیا ، اکتوبر  میں فیو ل پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں  29 پیسے اور نومبر میں 77 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیاجس کا نیپرا نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا اور بتایا کہ اضافہ جنوری کے مہینے کے بلوں میں وصول کیا جائے۔ بتایا گیا ہے کہ اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک اور لائف لائن صارفین پر نہیں ہوگا۔یادرہے کہ ایک روپے 52 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی گئی تھی  جس پر اتھارٹی نے 30 دسمبر 2020 کو عوامی سماعت کی تھی۔

یاد رہے کہ این ٹی ڈی سی نے بجلی کے بریک ڈاؤن کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی ہے،جبکہ سنٹرل پاور جنریشن کمپنی نے گدو تھرمل پاور اسٹیشن میں کام کر نے والے سات اہلکار معطل کر دئیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ کی رات گئے ملک میں ہونے والے بجلی بریک ڈاؤن سے پوری ٹرانسمیشن، 22 ہزار میگا واٹ کی ترسیل اور تقسیم کا نظام ٹرپ کرگیا اور سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے شہروں اور علاقوں میں تاریکی چھاگئی۔

ادھر نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے مطابق خرابی کے باعث کمپنی کی 220 کے وی اور 500 کے وی ٹرانسمیشن اور گرڈ سٹیشن ٹرپ کرگیا، جس کی وجہ سے کے الیکٹرک، لیسکو، کیسکو، جیپکو، میپکو اور آئیسکو سمیت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو کو 66 کی وی اور 132 کے وی کی فراہمی متاثر ہوئی۔بریک ڈاؤن کے باعث کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی۔پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ طلب پوری کرنے کیلئے فرنس آئل اور گیس سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔بلوچستان کے کئی اضلاع تاحال بجلی سے محروم ہیں۔ ترجمان این ٹی ڈی سی کے مطابق پشاور، اسلام آباد، جہلم،گجرات، سرگودھا، سیالکوٹ، فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور، شیخوپورہ، اوکاڑہ، ساہیوال اور ملتان کے علاقوں میں بجلی بحال ہو گئی ہے۔

ترجمان این ٹی ڈی سی کے مطابق دیگر شہروں میں بھی بجلی کی بتدریج بحالی کے لیے این ٹی ڈی سی کی ٹیمیں مصروف عمل ہیں۔ تمام 500 کے وی اور220 کے وی گرڈ سٹیشنوں اور ٹرانسمیشن لائنز سے بجلی کی سپلائی جاری ہے، گڈو پاور پلانٹ سے ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ اور رحیم یار خان کو بھی بجلی کی سپلائی شروع ہوگئی ہے۔ اسلام آباد، جہلم، گجرات، سرگودھا، سیالکوٹ، فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور، شیخوپورہ، اوکاڑہ، ساہیوال اور ملتان کے علاقوں میں بجلی بحال ہو گئی ہے۔ مزیدبرآں سنٹرل پاور جنریشن کمپنی نے گدو تھرمل پاور اسٹیشن میں کام کر نے والے سات اہلکار معطل کر دئیے۔معطل ہونیوالوں میں ایڈیشنل پلانٹ مینیجر سہیل احمد،دیدار علی چنہ جونیئر انجینئر علی حسن گوئیو، آپریٹرز ایاز حسین ڈاہر،سعید احمد،اٹینڈنٹ سراج احمد اور الیاس احمد شامل ہیں، مذکورہ اہلکاروں کو ابتدائی انکوائری کے بعد معطل کیا گیا ہے۔

مزید :

بزنس -