آئین سینیٹ انتخابات کی بات تو کرتا ہے لیکن اس کاکوئی طریقہ کار وضع نہیں کیاگیا، اٹارنی جنرل کے صدارتی ریفرنس میں دلائل

آئین سینیٹ انتخابات کی بات تو کرتا ہے لیکن اس کاکوئی طریقہ کار وضع نہیں ...
آئین سینیٹ انتخابات کی بات تو کرتا ہے لیکن اس کاکوئی طریقہ کار وضع نہیں کیاگیا، اٹارنی جنرل کے صدارتی ریفرنس میں دلائل

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس میں اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ صدارتی ریفرنس آرٹیکل 226 کے سکوپ سے متعلق ہے،سپریم کورٹ صدر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے،سپریم کورٹ مستقبل کی قانون سازی سے متعلق بھی رائے دے سکتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ صدارتی ریفرنس آرٹیکل 186 کے تحت قابل سماعت ہے۔ماضی میں بھی قوانین پر سپریم کورٹ سے رائے لی گئی ہے،کئی بار قانون سازی سے قبل صدر نے عدالتوں سے رائے لی،عدالت ماضی میں بھی صدارتی ریفرنسز قابل سماعت قراردے چکی ہے،بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے معاملے پر بھی صدارتی ریفرنس آیاتھا۔عدالت نے کہاتھاکہ پارلیمنٹ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے یا مسترد کرنے کی قراردادمنظور کرسکتی ہے،جہاں جہاں آئین کے مطابق انتخابات کروانے کاکہاگیاوہاں طریقہ کار بھی وضع کیاگیا، آئین سینیٹ انتخابات کی بات تو کرتا ہے لیکن اس کاکوئی طریقہ کار وضع نہیں کیاگیا۔آرٹیکل 226 میں انتخابات آئین کے تحت کروانے کاکہاگیاہے۔

سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی،جمعیت علمااسلام پاکستان نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کردی،وکیل کامران نے کہاہے کہ عدالت اجازت دے توتحریری جواب جمع کراناچاہتے ہیں،جمعیت علما اسلام پاکستان کاجواب رجسٹرارآفس قبول نہیں کررہا،عدالت نے دو ہفتے کا وقت دیاتھا مگرہمارا جواب جمع نہیں کررہے،عدالت نے جے یوآئی کوتحریری جواب جمع کرانےکی اجازت دےدی۔

عدالت نے سینیٹر رضاربانی کی کیس میں فریق بننے کی استدعا منظورکرلی،رضا ربانی کے علاوہ 2 مزید وکلا نے فریق بننے کی درخواست کردی، عدالت نے وکیل مدثرحسن،قمر افضل کو بھی تحریری جواب دینے کی اجازت دیدی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ عدالت تحریری جوابات کاہی جائزہ لے گی ،ہروکیل کے زبانی دلائل نہیں سنیں گے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ عدالتی حکم پر اخبارات میں اشتہارات دیئے تھے،جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ کیا کوئی آزادحیثیت میں سینیٹ الیکشن لڑ سکتا ہے، اٹارنی جنرل نے کہاکہ آزادامیدواروں کے سینیٹ الیکشن لڑنے پرپابندی نہیں ۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہاکہ سندھ حکومت کاجواب جمع کراناچاہتے ہیں،چیف جسٹس گلزاراحمد نے استفسارکیا کہ کیا سندھ حکومت کاجواب میٹھاہوگا؟چیف جسٹس کے سوال پر عدالت میں قہقہے لگ گئے،سندھ حکومت نے عدالت سے ایک ہفتے کاوقت مانگ لیا،عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سندھ حکومت کو ایک ہفتے کا وقت دیدیا،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ تمام فریقین کے جوابات آنے کے بعدسب کودیکھیں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہاکہ صدارتی ریفرنس آرٹیکل 226 کے سکوپ سے متعلق ہے،سپریم کورٹ صدر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے،سپریم کورٹ مستقبل کی قانون سازی سے متعلق بھی رائے دے سکتی ہے،صدارتی ریفرنس آرٹیکل 186 کے تحت قابل سماعت ہے۔ماضی میں بھی قوانین پر سپریم کورٹ سے رائے لی گئی ہے،کئی بار قانون سازی سے قبل صدر نے عدالتوں سے رائے لی،عدالت ماضی میں بھی صدارتی ریفرنسز قابل سماعت قراردے چکی ہے،بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے معاملے پر بھی صدارتی ریفرنس آیاتھا۔عدالت نے کہاتھاکہ پارلیمنٹ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے یا مسترد کرنے کی قراردادمنظور کرسکتی ہے،جہاں جہاں آئین کے مطابق انتخابات کروانے کاکہاگیاوہاں طریقہ کار بھی وضع کیاگیا، آئین سینیٹ انتخابات کی بات تو کرتا ہے لیکن اس کاکوئی طریقہ کار وضع نہیں کیاگیا۔آرٹیکل 226 میں انتخابات آئین کے تحت کروانے کاکہاگیاہے۔

جے یو آئی پاکستان نے صدارتی ریفرنس کی مخالفت کردی،جے یو آئی پاکستان نے اپنے تحریری معروضات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیئے ، جے یو آئی کا موقف ہے کہ صدارتی ریفرنس ناقابل سماعت ہے،صدارتی ریفرنس پارلیمنٹ کو بے توقیر کرنے کے مترادف ہے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ بھٹو ریفرنس کے علاوہ عدالت تمام ریفرنسز پر فیصلہ دے چکی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہاکہ قومی اسمبلی کے انتخابات خفیہ ہی ہوسکتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ عدالت نے فیصہ کرنا ہے سوال قانونی یا عوامی مفادکاہے یا نہیں ؟۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 جنوری تک ملتوی کردی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -