" پی ڈی ایم راولپنڈی آئی تو انہیں چائے پلائیں گے" پاک فوج کے ترجمان نے اعلان کردیا

" پی ڈی ایم راولپنڈی آئی تو انہیں چائے پلائیں گے" پاک فوج کے ترجمان نے اعلان ...

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) نے راولپنڈی کی طرف لانگ مارچ کا بھی عندیہ دے رکھا ہے اور اب اس پر پاک فوج کے ترجمان  میجر جنرل بابر افتخار کا موقف بھی آگیا۔

جی ایچ کیو میں ہونیوالی پریس کانفرنس میں سوال و جواب کے سیشن میں ایک صحافی نے  کہا کہ پی ڈی ایم نے حکومت وقت کے خلاف  لانگ مارچ کا اعلان  کررکھا ہے لیکن اب اس کےسربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ راولپنڈی آئیں گے ، ان کا اشارہ جنرل ہیڈ کوارٹرز( جی ایچ کیو) کی طرف تھا، آپ اس پر کیا کہیں گے؟ اس سوال کے جواب میں پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھاکہ مجھے ان کے راولپنڈی آنے کی   کوئی وجہ نظر نہیں آتی، اور اگر وہ آنا چاہتے ہیں تو ہم انشاء اللہ انہیں چائے پانی پلائیں گے ، ان کی اچھی دیکھ بھال کریں گے ، اس سے زیادہ کیا کہہ سکتا ہوں۔ ان کے اس جواب پر صحافی بھی قہقہے لگائے بغیر نہ رہ سکے۔

اس سے قبل ان کا کہناتھا کہ  آپ کو (میڈیا نمائندگان کو )بلانے کا مقصد تقریباً ایک دہائی کے چیلنجز اور مختلف امور سے متعلق میڈیا کو آگاہی فراہم کرنا ہے، گزشتہ 10 سال پاکستان کے لیے ہر لحاظ سے بہت چیلنجنگ رہے، اگر 2020 کی بات کی جائے تو اس سال سیکیورٹی چیلنجز کے علاوہ لوکسٹ (ٹڈی کے حملے) اور کووڈ جیسی عالمی وبا نے بھی پاکستان کی معیشت اور فوڈ سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالے رکھا۔

انہوں نے بتایا کہ پچھلی دہائی میں ایک طرف مشرقی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر ہندوستان کی شرانگیزیاں جاری تھیں تو دوسری جانب مغربی سرحد پر کالعدم دہشتگرد نتظیموں ، ان کے جوڑ توڑ اور پشت پناہی کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کیا جا رہا تھا۔میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود تمام اداروں اور پوری قوم نے متحد ہو کر مشکلات کا سامنا کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں سرخرو کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مغربی سرحد پر قبائلی علاقوں میں امن و امان بحال کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں سماجی و معاشی اقدامات کا آغاز کیا جا چکا ہے، پاک افغان اور پاک ایران سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے مربوط اقدامات کیے گئے اور دہشتگردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کے نتیجے میں ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال بہت بہتر رہی۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے مذموم عزائم ہوں یا پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وار فیئر کی اپیلیکیشن، خطرات اندرونی ہوں یا بیرونی ہم نے ہمیشہ شواہد اور حقائق کے ذریعے ان کی نشاندہی کی اور مقابلہ بھی کیا، اس چیز کو اب دنیا بھی مان رہی ہے کیونکہ سچ ہمیشہ سامنے آکر رہتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آپریشن ردالفساد کے تحت گزشتہ تین سالوں کے دوران 371173 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے جن میں 72 ہزار سے زائد اسلحہ اور ساڑھے 4 ٹن سے زائد بارود برآمد کیا گیا، دہشتگردوں، ان کے مددگاروں اور مالی معاونین کا بڑی حد تک خاتمہ کیا گیا۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -راولپنڈی -