واٹس ایپ کی نئی پرائیوسی پالیسی، رجب طیب اردوان کے میڈیا آفس نے بڑا اعلان کر دیا

واٹس ایپ کی نئی پرائیوسی پالیسی، رجب طیب اردوان کے میڈیا آفس نے بڑا اعلان کر ...
واٹس ایپ کی نئی پرائیوسی پالیسی، رجب طیب اردوان کے میڈیا آفس نے بڑا اعلان کر دیا
سورس: Twitter

  

استنبول (ڈیلی پاکستان آن لائن) دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپلی کشن واٹس ایپ کی جانب سے نئی پرائیویسی پالیسی متعارف کرائے جانے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان کے میڈیا آفس نے واٹس ایپ کا استعمال ترک کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ 

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز واٹس ایپ کے جاری کردہ وضاحتی بیانات کے بعد ترک صدارتی دفتر نے کہا کہ ان کا میڈیا آفس پیر (آج 11 جنوری سے) صحافیوں کو بی آئی پی ایپ کے ذریعے بریفنگ دے گا جو ترکش کمیونی کیشن کمپنی ترک سیل کا یونٹ ہے۔

گزشتہ ہفتے متعارف کرائے جانے والی واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی کی وجہ سے ترکی میں موجود صارفین کی جانب سے ٹوئٹر پر DeletingWhatsapp  کا ہیش ٹیگ استعمال کرکے اس پالیسی پر اعتراض کیا جارہا ہے۔ ترک ریاستی میڈیا نے ترک سیل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف 24 گھنٹے میں بی آئی پی کے صارفین میں 11 لاکھ 20 ہزار صارفین کا اضافہ ہوا جبکہ دنیا بھر میں اس کے 5 کروڑ 30 لاکھ صارفین ہیں۔

ترکی کے صدارتی دفتر برائے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے سربراہ علی طحہ نے 2 روز قبل واٹس ایپ کی نئے ضوابط و پالیسی پر تنقید کی کہ برطانیہ اور یورپی یونین میں موجود صارفین کو نئے ڈیٹا شیئرنگ قوانین سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ انہوں نے ترک شہریوں سے ’قومی اور مقامی‘ ایپس جیسا کہ بی آئی پی اور دیدی استعمال کرنے کا کہا۔ علی طحہ نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ڈیٹا پرائیویسی کے معاملے میں یورپی یونین کے ممالک اور دیگر ممالک میں تفریق ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ جیسا کہ ہم نے انفارمیشن اور کمیونی کیشن سیکیورٹی ہدایات میں یہ واضح کیا ہے کہ غیرملکی ایپس میں ڈیٹا سیکیورٹی سے متعلق نمایاں خطرات موجود ہوتے ہیں۔ اسی لئے ہمیں اپنے ڈیجیٹل ڈیٹا کو مقامی اور قومی سافٹ ویئر سے محفوظ بنانے اور اسے ہماری ضرورتوں کے مطابق ڈیولپ کرنے کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی کی وجہ سے صارفین کی جانب سے بہت زیادہ تنقید کی جارہی ہے۔ اس پالیسی کے تحت واٹس ایپ صارفین کے ڈیٹا تک فیس بک اور اس کی شراکت دار کمپنیوں کو رسائی حاصل ہوجائے گی جبکہ پرائیویسی پالیسی کو قبول نہ کرنے پر صارف کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا جائے گا جس کا اطلاق 8 فروری سے ہوگا۔

مزید :

بین الاقوامی -سائنس اور ٹیکنالوجی -