’امریکہ کے ساتھ تعلقات دفتر خارجہ کی ڈومین ہے‘ جوبائیڈن کے صدر بننے اور پاک امریکہ تعلقات پر ترجمان پاک فوج کا جواب

’امریکہ کے ساتھ تعلقات دفتر خارجہ کی ڈومین ہے‘ جوبائیڈن کے صدر بننے اور پاک ...
’امریکہ کے ساتھ تعلقات دفتر خارجہ کی ڈومین ہے‘ جوبائیڈن کے صدر بننے اور پاک امریکہ تعلقات پر ترجمان پاک فوج کا جواب

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ امریکہ میں نئی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کیلئے پر امید ہیں، بھارت جس قسم کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، عالمی برادری کو یہ سمجھنا چاہیے کہ طاقت میں توازن بہت ضروری ہے۔

آئی ایس پی آر ہیڈ کوارٹرز میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے دوران ان سے امریکہ کے ساتھ تعلقات اور نئی انتظامیہ بارے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات دفتر خارجہ کی ڈومین ہے، ہمارے امریکہ کے ساتھ فوجی تعلقات موجود ہیں اور نئی انتظامیہ آنے کے بعد بھی ہم پرامید ہیں۔

بھارت کی سرجیکل سٹرائیکس کی دھمکیوں کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت جو کشمیر میں کر رہا ہے اس پر دو رائے نہیں ہیں، کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہورہی ہے، پوری دنیا اس پر تنقید کر رہی ہے، ہم بھارت کی دھمکیوں اور ان کی صلاحیتوں سے واقف ہیں، گزشتہ دنوں ہم نے تھریٹ الرٹ بھی جاری کیا تھا کیونکہ ہمارے پاس بہت ہی قابل اعتماد معلومات تھیں، ہم بھارت کو ہر طرح سے جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت جس قسم کے دفاعی اخراجات کررہا ہے اور جس قسم کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، عالمی برادری کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فوجی صلاحیت میں بیلنس بہت ضروری ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دشمن قوتیں ہمیں تقسیم کرنے کی سازش کر رہی ہیں، ہم نے پاکستان کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے، جب ہم نے اس چیلنج کو قبول کیا تو اللہ کی مدد اور قوم کی حمایت سے ہم نے اس چیلنج کو قبول کیا اور ہم ہچکچائے نہیں ، ہم بطور قوم بہت آگے آگئے ہیں ، ہم نے چیلنجز پر قابو پایا اور اب ہمارے لیے بہت سے مواقع ہیں، اس سب کے دوران ہم متحد رہے اور انشااللہ متحد رہیں گے۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دو صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، اب بھی بلوچستان میں ملک دشمن قوتیں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش میں ہیں، ہم کلیئر اینڈ ہولڈ کے مراحل سے گزرتے ہوئے بلڈ اینڈ ٹرانسفر کی جانب گامزن ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، بلوچستان میں 601 ارب روپے کے منصوبے جاری ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں 31 ارب روپے کی لاگت سے 883 ترقیاتی منصوبے شروع ہوچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پچھلے ایک سال میں کورونا وبا کا بطور قوم حکمت اور دانش سے مقابلہ کیا، پاکستان نے اپنے محدود وسائل کے باوجود ایک بھرپور رسپانس دیا اور اس کا اعتراف پوری دنیا کر رہی ہے، اس کوشش میں شامل تمام افراد خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ پاکستان کے میڈیا کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے وبا کے دوران عوام کی آگاہی کیلئے مفادات سے بالاتر ہو کر خدمت کی عظیم مثال قائم کی۔ پاکستان کے میڈیا نے ہندوستان کے پراپیگنڈے کو جس طرح بے نقاب کیا اس پر بھی میڈیا مبارکباد کا مستحق ہے۔

مزید :

قومی -دفاع وطن -