کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے کے بعد بھی وہ ایک علامت جو بہت دیر تک رہتی ہے، تازہ تحقیق میں چینی سائنسدانوں کا پریشان کن انکشاف

کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے کے بعد بھی وہ ایک علامت جو بہت دیر تک رہتی ہے، ...
کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے کے بعد بھی وہ ایک علامت جو بہت دیر تک رہتی ہے، تازہ تحقیق میں چینی سائنسدانوں کا پریشان کن انکشاف

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چینی شہر ووہان، جہاں سے کورونا وائرس پھیلا تھا، کے شہریوں پر کی گئی ایک طویل تحقیق کے نتائج میں سائنسدانوں نے اس موذی وباءکا ایسا پریشان کن سائیڈ ایفیکٹ بتا دیا ہے جو کئی عرصے بعد میں صحت مند ہونے والے مریضوں کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ ڈیلی سٹار کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ سائیڈایفیکٹ ’سو نہ پانا‘ ہے۔ 

اس تحقیق میں سائنسدانوں نے ووہان کے جن ژن تان ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے کورونا وائرس کے 1ہزار 733مریضوں کی صحت کا 6ماہ تک جائزہ لیا۔ یہ لوگ اس وباءکے آغاز میں جنوری 2020 ءمیں وائرس کا شکار ہوئے تھے اور صحت مندی کے بعد اب تک کئی طرح کے سائیڈ ایفیکٹس سے نبردآزما ہیں۔ سب سے زیادہ لوگوں میں جو سائیڈایفیکٹ پایا گیا وہ یہ تھا کہ ان لوگوں کو اب بھی سونے میں دشواری کا سامنا رہتا ہے اور بمشکل نیند آتی ہے۔اس کے بعد گردوں اور پھیپھڑوں کی کارکردگی کا ناقص ہونا دوسرا بڑا سائیڈایفیکٹ پایا گیا۔ 

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -