چینی ایمبیسی نے ویغور خواتین کو ’بچے پیدا کرنے والی مشین‘ کہہ دیا، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا، ٹویٹر نے ٹویٹ ہی ڈیلیٹ کردی

چینی ایمبیسی نے ویغور خواتین کو ’بچے پیدا کرنے والی مشین‘ کہہ دیا، سوشل ...
چینی ایمبیسی نے ویغور خواتین کو ’بچے پیدا کرنے والی مشین‘ کہہ دیا، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا، ٹویٹر نے ٹویٹ ہی ڈیلیٹ کردی
سورس: Twitter/ChineseEmbinUS

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں واقع چینی سفارتخانے نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر ویغور مسلمان خواتین کو ’بچے پیدا کرنے والی مشینیں‘ کہہ ڈالا جس پر ایک ہنگامہ برپا ہو گیا اور ٹوئٹر نے سفارتخانے کی یہ ٹویٹ ہی ڈیلیٹ کر دی۔ اے بی سی نیوز کے مطابق سفارت خانے کی طرف سے اس ٹویٹ میں لکھا گیا تھا کہ ”تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے اس پراسیس میں سنکیانگ کی ویغور مسلمان خواتین کے ذہنوں کو غلامی سے آزاد کرایا گیا ہے، صوبے میں صنفی برابری اور خواتین کی تولیدی صحت کے حوالے سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاکہ یہ خواتین بچے پیدا کرنے والی مشینیں نہ رہیں۔ وہ بااعتماد اور آزاد ہیں۔“

رپورٹ کے مطابق چینی سفارتخانے کی اس ٹویٹ پر ہزاروں ٹوئٹر صارفین کڑی تنقید کر رہے تھے کہ ٹوئٹر انتظامیہ کی طرف سے اسے اپنے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر مبنی قرار دیتے ہوئے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔ سفارتخانے کی طرف سے اس ٹویٹ میں چینی اخبار پیپلزڈیلی کے ایک آرٹیکل کا لنک بھی دیا گیا تھا جس میں سنکیانگ کی صورتحال کے متعلق لکھا گیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکہ و دیگر ممالک کی طرف سے ویغور مسلمانوں کو لاکھوں کی تعداد میں حراستی مراکز میں قید رکھ کر زبردستی ان کے مذہبی عقائد تبدیل کرانے اور ان پر ظلم و جبر کرنے پر چین کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاہم چین ان حراستی مراکز کو ’ازسرنو تعلیم کے مراکز‘ کا نام دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ان مراکز میں ویغور مسلمانوں کو دوبارہ تعلیم دی جا رہی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -