گیس کی قلت میں کمی کے آ ثاردوردورتک نظرنہیں آتے:ماہرین

گیس کی قلت میں کمی کے آ ثاردوردورتک نظرنہیں آتے:ماہرین

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد (آن لائن) ماہرین کا خیال ہے کہ گیس کی قلت میں کمی کے دور دور تک اثرات نظرنہیںآ تے گیس سیکٹرکی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر نوکی ضرورت ہے گیس ڈسٹری بیوشن کی دونوں کمپنیاں صارفین سے اضافی بل وصول کر رہی ہیں موسم سرما میں پاکستان کو بدترین گیس کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہوسکتا ہےی گیس سیکٹر میں کمزور انتظامیہ، نااہل اور بددیانت لوگوں کو آگے لایا گیا ہے۔ قدرتی وسائل بددیانت لوگوں کی وجہ سے تباہی کا شکار ہو رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2004 کے مقابلے میں 2012 میں گیس کے نرخ تیزی سے بڑھے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کمپنیوں کے شاہانہ اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں ماہرین کا موقف تھاکہ بددیانت اور نااہل لوگوں کی وجہ سے گیس کے ادارے انتظامی تباہی کا شکار ہو رہے ہیں بدقسمتی سے ہمارے ملک میں گیس کے استعمال کے لیے کوئی بھی واضح پالیسی دکھائی نہیں دیتی۔ پاکستان کے گیس سیکٹرکی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر نو کی ضرورت ہے گیس فراہمی کی اولین ترجیح انڈسٹری ہونی چاہیے۔صوبوں کوآئینی طور پر دیے گئے حقوق کے تحت گیس کے استعمال پر فوقیت حاصل ہونا چاہیے۔ سابقہ چیئرمین سائٹ ایسوسی ایشن انجینئر عبدالجبار نے کہا کہ اوگرا آڈٹ رپورٹ کے مطابق دونوں گیس کمپنیاں صارفین کو اضافی بلنگ کرکے نقصانات پورا کر رہی ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ استعمال کی منصوبہ بندی میں سب سے بڑی رکاوٹ بدانتظامی ہے۔سابق چیف ایگزیکٹو پاکستان آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی اور سابق ڈائریکٹر سوئی سدرن گیس کمپنی زاہد حسین کا کہنا تھا کہ اس سیکٹر میں بدنظمی کی بڑی وجہ پروفیشنلزم کی کمی ہے میرٹ کی خلاف ورزی سیاسی مداخلت اور ایڈہاک ازم کی وجہ سے آج ہمارے لیے یہ مسائل پیدا ہوئے ہیں پاک ایران گیس لائن اگر 2013 تک مکمل نہ ہوئی تو معاہدے کے تحت ہمیں 70 سے 80 ملین ڈالر ماہانہ جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے سندھ کے چیئرمین شبیر سلیمان جی کا کہنا تھا کہ اگر صرف یو ایف جی نقصانات کو نصف کر دیا جائے تو سی این جی کے لیے گیس باآسانی دستیاب ہوگی ان کا موقف تھا کہ سرمایہ کاروں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا۔

مزید :

کامرس -