دہری شہریت جرم نہیں

دہری شہریت جرم نہیں
دہری شہریت جرم نہیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app



آج کل ہر جگہ یہ بحث جاری ہے کہ کیا دہری شہریت رکھنے والوں کو اسمبلی کا رکن بننے کا حق ملنا چاہئے یا نہیں؟ یہ بحث تب سے شروع ہے، جب سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے کچھ ارکان اسمبلی کی ممبر شپ اِس بات پر معطل کی ہے کہ اُن کے پاس کسی اور ملک کی شہریت بھی ہے اور اگر اُن کے پاس کسی اور ملک کی شہریت ہے، تو وہ پاکستان کے ساتھ وفادار نہیں ہو سکتے.... اب حکومت اس حوالے سے نیا قانون بنانا چاہتی ہے،اس کے تحت جو پاکستانی دہری شہریت رکھتے ہیں، وہ پاکستان میں الیکشن لڑنے کے اہل ہو سکیں گے۔ اب حکومت اور سپریم کورٹ کی آپس میں محاذ آرائی کی کیفیت ہے۔ اس پہلو کو مدنظر رکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ حکومت یہ اقدام صرف سپریم کورٹ کو نیچا دکھانے کے لئے کرنا چاہتی ہے اور وہ اپنے ان چہیتے اراکین کو اسمبلی میں رکھنا چاہتی ہے، جن کے پاس دہری شہریت ہے۔
حقائق کو سامنے رکھا جائے، تو مَیں ، جو ایک قانون دان بھی ہوں اور سیاست دان ہوں۔ یہ سمجھتا ہوں کہ جو پاکستانی غیر ممالک میں رہ رہے ہیں، اُن میں سے بعض وہاں کے پاسپورٹ ہولڈر بھی ہوں، وہ پاکستان کے بارے میں زیادہ فکر مند بھی رہتے ہیں اور یہاں زرمبادلہ بھی بھیجتے ہیں۔ اُن کا سیاسی ویژن بھی یہاں کے روائتی جاگیردارانہ سیاست دانوں سے زیادہ روشن ہوتا ہے۔ اُن کے بارے میں یہ تاثر دینا کہ وہ پاکستان کے وفادار نہیں ہیں، عقل کی کسوٹی پر پورا نہیں اُترتا۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت تقریباً11ارب ڈا لر سالانہ زرمبادلہ ان کی وجہ سے پاکستان آتا ہے۔ وہ خود وہاں ہیں، لیکن اُن کا خاندان، عزیز و اقارب، دوست یہاں مقیم ہیں۔ وہ اپنی فیملی، دوستوں اور رشتے داروں کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو وہ خود تو پاکستان سے باہر رہتے ہیں، لیکن اُن کا دل پاکستان میں ہوتا ہے۔ وہ پاکستان کی سیاست میں دلچسپی لیتے ہیں اور اپنے مادر وطن کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

 مَیں آج تک غیر ممالک میں مقیم جتنے بھی پاکستانیوں سے ملا ہوں، مجھے یہی تجربہ ہوا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ غیر ملک میں صرف پیسہ کمانے آئے ہیں اور ایک روز انہوں نے پیسہ کما کر واپس اپنے وطن پاکستان جانا ہے۔ یہی وجہ ہے، جس کے باعث اُن کا دل ہر وقت پاکستان میں ہی رہتا ہے۔ مَیں ایک اور حقیقت بھی بیان کرنا چاہتا ہوں کہ99فیصد لوگ فوت ہونے کے بعد بھی پاکستان آ کر ہی دفن ہونا چاہتے ہیں۔ ملک سے اس سے بڑی وفاداری اور کیا ہو سکتی ہے؟ ایسے پاکستانیوں کے بارے میں یہ ریمارکس دینا کہ وہ پاکستان کے ساتھ وفادار نہیں ہیں، زیادتی ہے۔ یہ لوگ جب پاکستان سے با ہر جاتے ہیں، تو اپنی ساری جمع پونجی، اپنی ماں کے زیور تک بیچ کر اور دوستوں، رشتے داروں سے اُدھار لے کر روزگار کی تلاش کے لئے جاتے ہیں، پھر کئی کئی سال وہ پاکستان نہیں آ سکتے، کیونکہ اُن کے پاس شروع میں نہ اتنے وسائل ہوتے ہیں، نہ ہی اُن کے سفری کاغذات پورے ہوتے ہیں، پھر بے چارے کسی نہ کسی طرح کئی سال چھپ چھپا کر جھوٹے سچے کاغذات بنوا کر پاسپورٹ لے ہی لیتے ہیں تاکہ وہ پاکستان آ جا سکیں۔
یہ پاسپورٹ یا نیشنیلٹی وہ صرف سفری ضروریات پوری کرنے کے لئے لیتے ہیں، مگر ڈومیسائل اُن کا پاکستان کا ہی رہتا ہے۔ میرے خیال میں نیشنیلٹی سے زیادہ ڈومیسائل کا کردار ہوتا ہے، جو یہ طے کرتا ہے کہ آدمی کس جگہ کا رہائشی ہے اور کہاں پیدا ہوا ہے؟ کسی شخص کی نیشنیلٹی واپس لی جا سکتی ہے، مگر ڈومیسائل ہمیشہ اُس کے ساتھ رہتا ہے۔ ڈومیسائل کی جو قانونی تشریح ہے، وہ یہ ہے کہ آپ کا ڈومیسائل اس ملک کا ہو گا، جہاں پر آپ کا والد پیدا ہوا ہے، چونکہ لوگ کام اور روزگار کی وجہ سے جگہ بدلتے رہتے تھے اور جس جگہ جاتے تھے، ظاہر ہے وہاں پر رہنے کے لئے وہاں کی شہریت لینا پڑتی تھی، مگر ڈومیسائل آپ اپنی مرضی سے نہیں لے سکتے اور ڈومیسائل ہی وہ دستاویز ہوتی ہے، جس کی بنیاد پر کسی کے فوت ہونے کے بعد اُس کی وراثت یا دیگر معاملات طے ہوتے ہیں۔ ڈومیسائل سے ہی یہ تعین کیا جاتا ہے کہ وراثتی معاملات طے کرنے کے لئے کون سا قانون بروئے کار لایا جائے، اس لئے اگر کوئی انسان اپنے ملک کی شہریت ختم بھی کر دے تو بھی اُس کا ڈومیسائل اس ملک کا ہی رہے گا۔
.... امریکہ کا ایک بہت مشہور کیس ہے،جس میں ایک متوفی کی جائیداد کی تقسیم کا فیصلہ ہونا تھا اور یہ طے کرنا تھا کہ یہ تقسیم امریکی قانون کے مطابق ہو گی یا برطانوی قانون کے مطابق؟....اگرچہ وہ شخص ساری زندگی امریکہ میں رہا اور وہاں کا شہری تھا، مگر عدالت نے فیصلہ کیا کہ اس کا والد برطانیہ کا تھا اور وہ خود بھی ہمیشہ اپنے آپ کو برطانوی کہتا تھا اور ہمیشہ دوستوں کو کہتا تھا کہ مَیں نے ایک روز واپس برطانیہ جانا ہے، اس لئے اس کو برطانیہ کا شہری مانا گیا اور اس کی جائیداد کی تقسیم برطانیہ کے قانون کے مطابق ہوئی۔
جو بحث ہم آج کر رہے ہیں، دُنیا میں یہ بہت پہلے طے ہوچکی ہے کہ یہ کیسے فیصلہ ہونا ہے کہ یہ آدمی کس ملک کا ہے اور ویسے بھی کسی کو یہ حق نہیں کہ یہ فیصلہ کرنا پھرے کہ کون ملک سے وفادار ہے اور کون نہیں، جو پاکستانی ملک سے باہر رہ رہے ہیں، وہ ہمارے محسن ہیں۔ ہمیشہ ہماری مدد کرتے ہیں اور یقین مانئے کے ہماری برآمدات میں بھی اُن کا بہت بڑا رول ہے۔ مَیں سیالکوٹ کا رہنے والا ہوں اور وہاں پر زیادہ تر وہ لوگ بھی اپنی چیزیں برآمد کر رہے ہیں، جن کا کوئی بھائی یا رشتہ دار باہر ہے۔ وہ اس کو چیزیں بھیج رہے ہیں یا اس کی مدد سے انہیں بیرون ممالک گاہک ملے ہوئے ہیں، جنہیں وہ اپنا سامان بیچ رہے ہیں اور زرمبادلہ کما رہے ہیں۔

اس کے علاوہ اگلے دو سال میں پاکستان میں تقریباً دو کروڑ پڑھے لکھے بے روزگار ہوں گے اور اگر ہم نے اُن کو دُنیا میں روزگار دلانے کا بندوبست نہ کیا تو ملک کے حالات مزید خراب ہو جائیں گے، چونکہ حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ ان کے لئے منصوبہ بندی کر سکے ،اس لئے ان لوگوں نے خود بھی کسی نہ کسی طرح اُن کے جو رشتے دار، بہن بھائی باہر ہیں اُن کے راستے ملک سے باہر نوکری اور روزگار ڈھونڈنا ہے اور وہاں پاکستان کے لئے زرمبادلہ کما کر بھیجنا ہے۔ پاکستان کے اندر تو ہمارے پاس اتنا بڑا سیٹ اپ ہے نہیں کہ ہم اُن کو یہاں پر ایڈجسٹ کر سکیں، تو ہمارے لئے سب سے بہتر راستہ یہ ہی ہے کہ وہ بیرون ممالک جا کر پاکستان کے لئے زرمبادلہ بھیج سکیں۔ ان حقائق کو مدنظر رکھیں، تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہماری ضرورت ہیں اور ہم انہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم اُن کو زیادہ سے زیادہ عزت دیں تاکہ ان کا رشتہ پاکستان کے ساتھ اور زیادہ مضبوط ہو اور اُن کی وجہ سے پاکستان ترقی کرے۔  ٭

مزید :

کالم -