سقراط

سقراط
سقراط

  

ہمارے محترم سابق وزیراعظم کا فرمانا ہے کہ انہوں نے ” سقراط “ کی طرح عدالت کا فیصلہ تسلیم کیا ہے۔ہم ان کے دعوے کو بلا تبصرہ چھوڑتے ہوئے کچھ باتیں” سقراط “ کی کرتے ہیں اور فیصلہ آپ پر چھو ڑتے ہیں.... سقراط یونان کے شہر ایتھنز میں 469قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ سقراط دنیا کی ان چند شخصیات میں سے ہے،جن کا سحر صدیاں گزرجانے کے باوجود آج تک قائم ہے۔ سقراط کی زندگی اور موت نے ہر زمانے کے ذہین اور حساس آدمی کو متاثر کیا ہے۔ سقراط کے زمانے میں یونان چھوٹی چھوٹی شہری ریاستوں کا مجموعہ تھا،جن کو زبان، مذہب اور ثقافت کی یکسانیت نے ایک طرح کی وحدت میں پرورکھا تھا۔ویسے بالعموم یہ ایک دوسرے سے برسرپیکار رہتیں ، لیکن بیرونی دشمن کے مقابلے میں متحد ہو جاتیں۔ایران نے دوبار یونان پر حملہ کیا، لیکن اسی اتحاد کی بدولت دونوں بار ایرانیوں کو شکست ہوئی، تاہم ایرانی حملوں کی پسپائی کے کچھ ہی عرصے بعد یونان کی دو بڑی ریاستوں ایتھنز اور سپارٹا میں سیاسی قیادت کے سوال پر طویل جنگ چھڑ گئی،جو27سال بعد ایتھنز کی فیصلہ کن شکست پر ختم ہوئی۔

جنگ کے خاتمے پر سپارٹا کی مرضی کی تیس لوگوں پر مشتمل ایک کٹھ پتلی حکومت ایتھنز میں قائم کی گئی۔ظلم و ستم کے نئے ریکارڈ بنانے والی یہ حکومت آٹھ ماہ قائم رہی۔ حکومت میں شامل لوگوں کی شدید خواہش تھی کہ وہ اپنے ساتھ سقراط کو بھی شامل کرلیں، لیکن سقراط نے جان کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کے احکامات کو ماننے سے انکار کردیا۔اس حکومت نے ایک روزسقراط اور چار دوسرے یونانیوںکو طلب کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ ”لیون“ نام کے ایک شخص کو گرفتار کرکے لائیں۔لیون حکومت کا مخالف اور ایک دولت مند انسان تھا۔یہ لوگ چاہتے تھے کہ اس کی دولت پر قبضہ کرکے اسے قتل کردیا جائے۔بقیہ چار یونانی تو اس حکم کی تعمیل کے لئے چلے گئے، مگر سقراط نے اس ظلم کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔اس حکم عدولی کا صاف مطلب موت تھا اور موت پر عمل درآمد ہو بھی جانا تھا،مگر یہ حکومت ٹوٹ گئی اور اس کے بعد ویسی ہی جمہوریت آئی،جس کے بارے میں ہمارے پیارے سابق وزیراعظم کی ایک ہی گردان تھی کہ ”ہم جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے“۔ سقراط کا کہنا تھا کہ ”گلی میں چلتے ہوئے کسی شخص کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ بادشاہ یا حکمران کو چنے۔ کوئی شخص محض اس بنیاد پرکہ عوام نے اسے چنا ہے، حکمران کہلانے کا حقدار نہیں ہے۔نہ ہی اس شخص کو حکمران کہنا چاہیے، جو طاقت کے بل بوتے پر یا سازش کے ذریعے برسراقتدار آ جائے۔بادشاہ یا حکمران صرف وہی ہو سکتا ہے،جو یہ جانتا ہو کہ ملک کو کیسے چلانا ہے“؟.... سقراط کا اعتراض یہ تھا کہ ایتھنز کے ہر شہری کو، محض اس بناءپر کہ وہ عاقل و بالغ ہے،یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ حکومت چلانے کا اہل قرار پائے۔اس کے لئے تجربہ کار اور ماہر لوگوں کو ہی چننا چاہیے۔ سقراط کہتا ہے: ” جب اسمبلی منعقد ہوتی ہے اور اس میں جہاز رانی، تعمیر یا ایسا ہی کوئی مشکل مسئلہ درپیش ہوتو ان لوگوں کو بلایا جاتا ہے جو ان امو رکے ماہر ہوتے ہیں، لیکن جب حکومت چلانے یا کسی منصب پر براجمان ہونے کا سوال ہوتا ہے، تب ہر شخص کو اس کا اہل سمجھ لیاجاتا ہے، چاہے اسے ملکی معاملات کی ذرا برابر بھی خبر نہ ہو“....اپنے وقت کی اسمبلی کے بارے میں سقراط کہتا ہے کہ ”اسمبلی احمقوں، ذہنی معذوروں، موچیوں، ترکھانوں، لوہاروں، کسانوں، دکانداروں او ران منافع خوروں پر مشتمل ہے،جو ہر وقت یہ سوچتے رہتے ہیں کہ کیسے چیز سستی لے کر مہنگی بیچی جائے؟یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے عوام کے مسائل پر ایک بار بھی سوچا نہیں ہوگا“۔ سقراط کا ایک شاگرد سقراط کی ترجمانی کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ”جمہوریت ایک طے شدہ حماقت ہے“.... سقراط کو پڑ ھ کر ہی شائد علامہ اقبالؒ نے کہا ہوگا کہ :

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے

سپارٹا کی پٹھو حکومت، یعنی آمریت سے نجات کے بعد یہ حکومت اپنے وجود کے بارے میں بڑی حساس تھی۔ سقراط کی بظاہر جمہوریت، لیکن اصل میں اس حکومت پر تنقید نام نہاد جمہوری حکمرانوں کو برداشت نہ ہوسکی۔ حکمران جمہوری پارٹی کا سب سے طاقتور لیڈر”اینی ٹاس“ تھا۔اس نے سقراط کو راستے سے ہٹانے کے لئے ایک مذہبی لیڈر”میلی ٹاس“ کو ساتھ ملایا۔ان دونوں نے مل کر ایک تیسرے شخص”لائی کان“ کو ساتھ ملایا،جو اپنی دولت کی وجہ سے بااثر تھا۔ان تینوں نے سقراط کے خلاف مقدمے کا جال بن دیا۔”لائی کان“ وہی شخص تھا،جس کو لانے کا حکم سقراط کو دیا گیا تھا، لیکن سقراط نے جان کو خطرے میں ڈالنا گوارا کرلیا، لیکن اس حکم کو ماننے سے انکار کردیا۔اب یہی شخص اپنے محسن کے خلاف سازش کا مرکزی کردار تھا۔مذہب،سیاست اور دولت کے اس شرمناک گٹھ جوڑ نے جس الزام پر جو مقدمہ درج کرایا، اس الزام کا مکمل متن یہ تھا:

”ڈیم پائی تھیاس کے بیٹے میلی ٹاس کے بیان حلفی پر یہ تحریری شکایت الو پیک کے رہائشی سوفرالیکس کے بیٹے سقراط کے خلاف درج کی جارہی ہے۔ سقراط اس کا مجرم ہے کہ وہ ریاست کے معروف خداﺅں کو ماننے سے انکار کرتا ہے او راس کی بجائے کچھ نئے معبودوں کو متعارف کرا رہا ہے۔وہ اس کا بھی مجرم ہے کہ نوجوانوں کو گمراہ کررہا ہے۔مطالبہ ہے کہ اسے سزائے موت دی جائے“....اس مقدمے کے نتیجے میں 501ممبران جیوری پر مشتمل عدالت میں اسے بلایا گیا۔ان کے سامنے سقراط نے اپنے دفاع میں جو تقریر کی، اس کا ایک ایک لفظ سنہری حروف میں لکھنے اور غور سے پڑھنے کے قابل ہے،تاہم ایک اقتباس پیش ہے:”جب میرے بیٹے بڑے ہو جائیں اور پھر اگر وہ نیکی کے مقابلے میں مال و دولت کو ترجیح دینے لگیں تو آپ لوگ انہیں ایسے ہی تنگ کیجئے گا ،جیسے مَیں آپ لوگوں کو کیا کرتا تھا۔اگر وہ یہ ظاہر کرنے لگیں کہ بڑی اہم شخصیت بن گئے ہیں،جبکہ حقیقت میں ایسا نہ ہو تو ان کا محاسبہ کرنا، جیسے مَیں آپ کا محاسبہ کیا کرتا تھا،کیونکہ وہ اس کی حفاظت نہیں کررہے ،جس کی حفاظت کرنی چاہیے تھی اور اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگ گئے ہیں،جبکہ حقیقت میں نہیں ہیں۔اگر آپ لوگ ایسا کریں گے تو مَیں اور میرے بیٹے دونوں آپ کے ہاتھوں صحیح انصاف پائیں گے“۔

جیوری نے سقراط کو موت کی سزا سنائی۔ایتھنز کی روایت تھی کہ شہر ڈیلاس سے جہاز لوٹنے کے بعد موت کی تمام سزاﺅں پر عمل ہوتا تھا۔سو اس وقت تک کے لئے سقراط کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ سقراط کے بچپن کے دوست”کرائٹو“ نے جیل کے محافظ کو رشوت دے کر سقراط کے فرار کا انتظام کیا اور سقراط کو ہر ممکن طریقے سے قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اس طریقے سے اپنی جان بچالے، لیکن سقراط نے سختی سے اس پروگرام کو رد کردیا۔ سقراط نے کرائٹو کو جو کچھ کہا، وہ سب بھی سنہری الفاظ سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ان میں سے چند الفاظ سنئے:”غلط کام خواہ کسی بھی صورت میں کیا جائے، قابل فخر بات نہیں۔کیا تمہارے خیال میں ایسی ریاست برقرار رہ سکتی ہے،جہاں کوئی سزا سنائی جائے تو وہ نافذ العمل نہ ہو سکے، بلکہ لوگ اس سزا کو عمل©©ًا© رد کرکے اس کی دھجیاں تک بکھیر دیں؟ حکومت اور قانون مجھ سے کہے گا کہ اگر ہم اپنے تئیں درست سمجھ کر تمہیں ختم کرنا چاہیں تو تم جواب میں ملک اور قوانین کوختم کرنے کی کوشش کرو۔کیا اسی کو تم انصاف کہتے ہو؟تم سقراط ، جس نے درحقیقت معاملات عدل ہی کو اپنا فرض منصبی قرار دے رکھا ہے، کیا عقل مندی میں اتنے بڑھ گئے کہ یہ تک بھول گئے کہ ماں باپ یہاں تک کہ آباﺅ اجداد سے بھی قیمتی شے تمہارا اپنا ملک ہے،جس کی عزت ،احترام اور تقدس کا تمہیں خیال رکھنا ہے“۔379قبل مسیح۔ستر سال کی عمر میں قانون کی پاسداری کرتے ہوئے آخری روز اس نے اپنے ہاتھوں سے زہر کا پیالہ اٹھایا اور اسے پی کر ہمیشہ کے لئے دوسری دنیا کے ان حکمرانوں کے پاس چلا گیا ،جن کے متعلق اس نے کہا تھا:”برائی کا بدلہ برائی نہیں ہے....میرے تغیر حالات سے میری دلیل نہیں بدلنی چاہیے....یہ نہ سوچو کہ زندگی اور اولاد صحیح بات پر مقدم ہے، بلکہ صحیح بات ہی سب پر مقدم ہے۔ایسا کرنے ہی سے تم اپنے آپ کو ان کے حضور بری کرا سکو گے ،جو دوسری دنیا میں حکمران ہیں“۔  ٭

مزید : کالم