مفادی و آزادی سیاست

مفادی و آزادی سیاست
مفادی و آزادی سیاست

  

....عظمت مفادی صاحب! جب سے سزایافتہ وزیراعظم کی رخصتی اور نیب کو مطلوب وزیر اعظم کی آمد ہوئی ہے، آپ خاصے ان جا رہے ہیں اور کئی بار تو یوں لگتا ہے کہ آپ کی پانچوں گھی میں ہیں، اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟

٭.... وجہ تو آپ کے اس سوال ہی میں موجود ہے۔ اصل میں اب مَیں خاصی آزادی محسوس کر رہا ہوں، مجھے یوں لگتا ہے جیسے اب ملک میں میری ہی حکومت ہے، بلکہ یہ حکومت تو میری اوقات سے بڑھ کر میرے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ توہین عدالت کی آزادی میری بڑی دیرینہ خواہش ہے اور شکر ہے کہ اس خواہش کو پورا کرنے کے جتن کئے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے میرے پاس من مانی کرنے، کسی کی ٹانگ کھینچنے، کسی کی پگڑی اچھالنے اور کسی کو چاروں شانے چت گرانے کی آزادی تھی، لیکن عدالتوں سے ڈر لگتا تھا، اب یہ ڈر بھی دور ہو گیا تو پھر دیکھنا مَیں سیاست میں کیا انقلاب لاتا ہوں۔

O....ہر شعبے کے آدمی سے یہ سوال ضرور پوچھا جاتا ہے کہ وہ اس شعبے میں کیوں آیا؟ یہی سوال مَیں آپ سے پوچھتا ہوں؟

٭....بھئی بات یہ ہے کہ مجھے بچپن ہی سے سیاست دان بننے کا شوق تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ مَیں جس علاقے میں رہتا تھا ،وہاں سیاست دانوں کا دور دورہ تھا۔ ان کے ٹھاٹھ دیکھ کر اور قہقہے سن کر مجھے ان پر رشک آتا تھا ، پھر جس طرح وہ بات کو ٹالتے اور سبز باغ دکھاتے تھے، وہ بھی میرے لئے ایک بہت بڑی دلچسپی کا باعث تھا، حالانکہ وہاں بندر اور ریچھ والے بھی تماشا دکھانے آتے رہتے تھے، مگر مجھے ان کے شعبدے ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے، کیونکہ سیاست دانوں کے شعبدے ان کے مقابلے میں زیادہ دلچسپ ہوتے تھے۔ آپ ہی بتائیں کہیں چٹ پٹا وی سی آر چل رہا ہو تو ٹی وی پروگرام کون بیوقوف دیکھتا ہے۔ قصہ مختصر جی! کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مَیں نے بچپن ہی میں سیاست دان بننے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اسی فیصلے کی وجہ سے میری تعلیم بھی ادھوری رہی۔

O.... آپ نے ابھی فرمایا کہ بچپن میں سیاست دانوں کے شعبدے دیکھ کر آپ سیاست کی طرف مائل ہوئے تو کیا آپ سیاست کو شعبدہ بازی سمجھتے ہیں؟

٭.... جی مَیں کیا سمجھتا ہوں سبھی کا یہی خیال ہے۔ اب دیکھئے نا۔ عوام کو بار بار سبز باغ دکھانا کسی ایرے غیرے کے بس کا کام تو ہے نہیں، کیونکہ وہ فوراً بھانپ جاتے ہیں، البتہ سیاست دان بڑی کامیابی سے اُوپر تلے سبز باغ دکھاتے ہیں، لیکن لوگ پھر بھی انہی کے گن گاتے ہیں، اس لئے میرا اپنا یہ خیال ہے کہ سیاست کرنے کے لئے کسی ڈگری، ڈپلومے سے زیادہ شعبدے بازی میں مہارت کی ضرورت ہوتی ہے اور میری کامیابی کا راز یہی ہے کہ مَیں نے سامری جادوگر سے شعبدے دکھانے کی باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے۔

O.... آپ کی وجہ شہرت آپ کا جلد جلد پارٹیاں بدلنا بھی ہے، بلکہ بعض لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ آپ نے اتنی کم عمری ہی میں جتنی پارٹیاں بدلی ہیں، اتنے تو لوگ ساری عمر میں جوتے نہیں بدلتے۔ آپ کا اس بارے میں کیا تاثر ہے؟

٭.... دیکھئے جناب! پہلی بات تو یہ ہے کہ جوتیاں آج کل خاصی پائیدار بن رہی ہیں، اسی وجہ سے کئی کئی سال چل جاتی ہیں، لہٰذا سیاسی پارٹیاں بدلنے کے عمل کو جوتیاں بدلنے سے منسلک کرنا درست بات نہیں قصہ کچھ یوں ہے کہ آدمی ہمیشہ خوب سے خوب ترکی تلاش میں رہتا ہے۔ یہی میری بھی عادت ہے، اس لئے میں پارٹیاں بدلتا رہتا ہوں۔

 O....لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ آپ ہر اس پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں، جسے اقتدار مل چکا ہو یا ملنے کی امید ہو۔

٭.... تو بھائی! اس میں اعتراض والی کون سی بات ہے اقتدار ہمیشہ اچھی پارٹی نظر آتی ہے میں کچے دھاگے سے بندھا چلا جارہا ہوں۔

O.... سنا ہے پچھلے دنوں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بیچ بازار میں ہونے والا جھگڑا آپ کا پیدا کردہ تھا؟ تاکہ صلح صفائی کرانے کے لئے حکومتی حلقے آپ کی مدد طلب کریں اور آپ کا سیاسی قد بڑھ جائے۔

٭.... ایک تو آپ کی ان قیاس آرائیوں سے مجھے بہت الجھن ہوتی ہے۔ بھئی بات یہ ہے کہ میرا قد چھ فٹ تین انچ ہے اور بہت سے سیاست دان میرے سامنے بونے نظر آتے ہیں۔ مجھے بھلا مزید قد بڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟ جہاں تک میرا اندازہ ہے، یہ جھگڑا رونق کمالوی نے کرایا ہے، کیونکہ اس کا قد صرف چار فٹ چھ انچ ہے اور کامیاب سیاست دان بننے کے لئے کم از کم پانچ فٹ چھ انچ قد کی ضرورت ہوتی ہے، بس یہی ایک فٹ قد بڑھانے کی خواہش اسے اس قسم کی اوٹ پٹانگ حرکتوں پر مجبور کر رہی ہے۔ بہرحال میری بھی پوری کوشش ہے کہ اس کا ایک انچ قد بھی نہ بڑھے اور مَیں ابھی تک اس میں کامیاب ہوں۔

O....عوام کو عموماً یہ شکایت رہتی ہے کہ ہمارے سیاست دان ملکی تعمیر و ترقی میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کرتے، آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

٭.... اجی عوام کا کیا ہے، وہ تو کبھی مطمئن ہو ہی نہیں سکتے، جبھی تو آپ دیکھیں ہر کسی کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ مَیں اس بات سے قطعاً اتفاق نہیں کروں گا کہ ہم یعنی سیاستدان تعمیری کردار ادا نہیں کرتے۔ میری ہی مثال لے لیجئے، مَیں اس وقت اپنی تین کوٹھیاں، پانچ مارکیٹیں اور تین ملیں تعمیر کر چکا ہوں اور مستقبل میں بھی اسی قسم کی تعمیر جاری رکھنے کا پروگرام ہے ۔جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے، میرے دوسرے ساتھی سیاست دان بھی اسی قسم کے تعمیری منصوبوں میں ہمہ تن مصروف ہیں۔

O....عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ سیاست دان اخباری بیانوں تک ایک دوسرے کے خلاف دھواں دار تقریریں کرتے ہیں، لیکن جونہی کسی محفل میں آمنا سامنا ہوتا ہے، اس گرم جوشی سے گلے ملتے ہیں کہ آدمی ”ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ“ کا ورد کرنے لگتے ہیں۔ آپ سیاست دانوں کے اس روئیے پر روشنی ڈالنے کی زحمت فرمائیں گے۔

٭.... مَیں تو سمجھتا ہوں اِس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے، جس طرح ادیب، شاعر اختلافات کے باوجود وقت پڑنے پر ایک ہو جاتے ہیں یا ٹرانسپورٹر جو عام دنوں میں ایک ایک سواری پر ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوتے ہیں، ہڑتال کرنے کے دنوں میں یک جان دو قالب ہو جاتے ہیں یا پھر ینگ ڈاکٹروں کو دیکھو، سر پر پڑتی ہے، تو سارے اختلافات بھلا دیتے ہیں، بالکل اسی طرح ہم سیاست دان بھی اصل میں سارے ایک ہیں۔ یہ جو اخبارات میں آپ کو سیاسی سطح پر جنگ وجدل کا سماں نظر آتا ہے، یہ صرف لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ ہے۔ پچھلے دنوں آپ نے میرا وہ بیان تو پڑھا ہو گا، جس میں مَیں نے کہا تھا کہ اظہار دلبری، ایک غیر ملکی ایجنٹ اور اس سے ملنے والے سب غدار ہیں ۔اب آپ اس سے یہ اندازہ لگائیں کہ اس بیان سے واقعی میرا مطلب اظہار دلبری کو غدار ثابت کرنا تھا تو یہ آپ کی بھول ہو گی۔ مَیں نے تو صرف دل لگی کی تھی۔ یہ خبر بھی آپ نے پڑھ لی ہو گی کہ اظہار دلبری کے اعزاز میں مَیں نے کل ایک بھر پور عشائیہ ترتیب دیا تھا۔ بات وہی ہے میری جان جو مَیں نے پہلے کہی ہے کہ سیاست ایک شعبدہ بازی ہے، اس میں ایسے منظر دیکھنے کو ملتے ہی رہتے ہیں۔

O.... انتخابات اور سیاست کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے، آپ کے خیال میں انتخابات جیتنے کے لئے ایک سیاست دان کو کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے؟

٭.... انتخابات اور سیاست کا واقعی بڑا گہرا تعلق ہے، تاہم مَیں انتخابات سے ہمیشہ دامن بچاتا ہوں، کیونکہ انتخابات میں سیاستدان کی مقبولیت کا بھانڈہ پھوٹ جاتا ہے۔ مَیں کہتا ہوں آدمی کی قسمت پھوٹ جائے، بھانڈہ نہ پھوٹے۔ شروع شروع کے دنوں میں مَیں نے ایک انتخاب میں حصہ لیا تھا اور ضمانت ضبط کروا بیٹھا تھا ،تاہم جہاں تک آپ کے اس سوال کا تعلق ہے کہ انتخاب کیسے جیتا جا سکتا ہے؟ تو بھائی پہلی بات تو یہ ہے کہ آدمی کے پاس بڑے نوٹوں کی تین چار بوریاں بھری ہوں، پھر ان بوریوں کے منہ کھولنے کا حوصلہ بھی ۔ رعب داب کے لئے کچھ باڈی گارڈ بھی ہونے چاہئیں، جن کے پاس اسلحہ بھی ہو، کلاشنکوف ہو تو کیا ہی بات ہے۔ آج کل ملتان کے ضمنی الیکشن میں سابق وزیر اعظم کے بیٹے کی انتخابی مہم اس بنیاد پر چل رہی ہے اور فائرنگ پر مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے۔اس کے بعد جو سب سے ضروری چیز ہے، وہ ہے اخبار والوں سے یاری، کیونکہ جب تک اخبار میں روزانہ بیان اور تصویر نہ لگے، لوگ متاثر ہی نہیں ہوتے۔ آخر میں یہ بھی ہے کہ اس میں اونچے اونچے، لمبے لمبے وعدے کرنے کی عادت اور ہمت بھی ہو۔ یہ ساری خوبیاں، جس شخص میں بھی ہوتی ہیں وہ اور کچھ جیتے نہ جیتے، انتخاب ضرور جیت جاتا ہے۔

O.... مفادی صاحب! آپ سے آخری سوال یہ ہے کہ آپ ایک تو موجودہ سیاسی صورت حال پر روشنی ڈالیں اور کچھ اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بھی بتائیں۔

٭....بھئی سیاست کی موجودہ صورت حال تو بڑی ٹھیک ٹھاک ہے، ہر طرف رونق لگی ہوئی ہے، جلسے ہو رہے ہیں، جلوس نکل رہے ہیں ،پلاﺅ زردے کا دور دورہ ہے اور کبھی کبھی تو بھائی لوگ منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے پٹاخے بھی چلا دیتے ہیں۔جہاں تک میرے مستقبل کے منصوبوں کا تعلق ہے، تو مَیں ایسا آدمی ہوں جو مستقبل کے منصوبے کچھ کم ہی بناتا ہے، کیونکہ مَیں ہوا کا رخ دیکھ کر فیصلہ کرتا ہوں اور ہوا کا نہ کوئی ماضی ہوتا ہے اور نہ مستقبل.... جیسے راجہ صاحب کو بیٹھے بٹھائے وزارت عظمیٰ مل گئی اور مخدوم شہاب الدین ضمانتیں کراتے پھر رہے ہیں۔ فی الوقت تو سب کی طرح میری نظریں بھی سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں کہ راجہ صاحب چٹھی کے بارے میں کیا جواب دیتے ہیں۔ اس کے بعد اگر کسی وردی والے کی آمد کے امکانات پیدا ہوئے تو میری مصروفیات میں اضافہ ہو جائے گا، کیونکہ کوئی وردی والا ہی میری اہمیت کو سمجھ سکتاہے، جسے تالیاں بجانے والوں کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ ٭

مزید : کالم